سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور نئی سول سوسائٹی کا ظہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف دانشور اور کالم نگار خورشید احمد ندیم کسی تعارف کے محتاج نہیں اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کسی نئی سوچ وبچار میں محو رہتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ خود بھی اور دوسرے اہل علم افراد کو بھی کسی نئی فکری بحث کا حصہ بنا کر لوگوں کے سامنے ایک متبادل بیانیہ پیش کرتے رہے۔ اسی کام کے تناظر میں وہ ایک علمی و فکری ادارہ بنا کر کام کررہے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ مختلف شہروں میں مختلف مسائل پر فکری مجالس سجا کر ہم سب کو اکٹھا کرتے رہے ہیں۔

اسی حوالے سے ان کی ایک مجلس لاہو رمیں سجائی گئی جس کا عنوان تھا ”سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور نئی سول سوسائٹی کا ظہور“۔ اس مجلس میں انہوں نے لاہو رمیں موجود لکھنے والے اہل دانش کا ایک بڑا گلدستہ سجایا ہوا تھا۔ ان میں مجیب الرحمن شامی، سجاد میر، احمد بلال محبوب، عطالحق قاسمی، یاسر پیرزداہ، روف طاہر، سلمان غنی، علی قاسمی، عماریاسر جان، حفیظ اللہ نیازی، ڈاکٹر امان اللہ، عامر خاکوانی، وجاہت مسعود، سعود عثمانی اور راقم سمیت کئی اور اہم نام شامل تھے۔

بنیادی طور پر خورشید احمد ندیم پاکستا ن میں موجود سیاسی جماعتوں کے کردار سے خاصے نالاں نظر آتے ہیں اور ان کے بقول جو کام اس ملک کی سیاست، جمہوریت اور معاشرہ کی تعمیر وترقی میں سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں کیا جاسکا۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں لوگوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی ٹھوس منصوبہ بندی یا متبادل پروگرام ہے۔ خورشید ندیم ان لوگوں میں سے ہیں جو نواز شریف کی سیاسی اور جمہوری جدوجہد کو بنیاد بنا کر ان کو خراج تحسین پیش کرتے رہے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ جو رویہ یا طرز عمل نواز شریف نے حالیہ سیاست میں اپنے بیانیہ میں تبدیلی پیدا کی ہے اس سے بھی وہ شاکی نظر آتے ہیں یا ان کے بقول اس حالیہ عمل سے نواز شریف کا مقدمہ کمزور ہوا ہے۔

ان کا حالیہ مقدمہ سیاسی جماعتوں کی ناکامی اور سول سوسائٹی کا ظہور بھی ایک نیا رومانس ہے۔ کیونکہ سیاست میں سیاسی جماعتوں کو ہی کنجی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ جو بھی معاشرہ سیاسی، سماجی، اخلاقی، انتظامی، مالی سمیت علمی و فکری بنیاد پر آگے بڑھے گا تو اس میں دو فریقین کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اول سیاسی جماعتیں ان کی قیادتیں اور ان سے جڑے سیاسی کارکن یا ہمدرد اور دوئم معاشر ے کا اہل دانش سمیت تعلیمی و فکری نظام جو معاشرے کے سیاسی، سماجی شعور کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی جماعتیں یہاں مضبوط نہیں ہوسکیں۔ اس کی داخلی اور خارجی دونوں وجوہات ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے اہل دانش یا سیاست سے جڑے افراد سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں کی ناکامی کو خارجی مسائل سے جوڑ کر دیکھتے ہیں، جبکہ اپنی سیاسی جماعتوں سے جڑی داخلی کمزوریوں کو شعوری یا لاشعوری طور پر نظرانداز کردیتے ہیں۔

اگرچہ اس فکری مجلس کا بنیادی نکتہ سیاسی جماعتوں کی ناکامی کے پہلووں کا جائزہ لے کر اسے کیسے مضبوط بنانا اور اس میں سول سوسائٹی کا کیا کردار ہونا چاہیے، بنتا تھا۔ لیکن اہل دانش کی مجلس ہو اور اس میں گفتگو کو موضوع سے جوڑ کر رکھنا خود ایک بڑے سلیقے کا کام ہے، جو اس مجلس میں بہت کمزور نظر آیا۔ زیاد ہ تر لوگوں نے سیاسی جماعتوں کے بارے میں کم اور اسٹیبلیشمنٹ پر اپنا غصہ زیادہ نکالنے کی کوشش کی اور جو سیاسی جماعتوں کی سطح پر یا قیادت کے حوالے سے جو مسائل ہیں اس کو سرے سے ہی نظرانداز کردیا گیا۔

حالانکہ سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام کو اب نئے سرے سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا موجودہ روایتی اور بوسیدہ طرز پر موجود سیاسی جماعتوں کا داخلی نظام جو عملا کسی ایک فرد یا خاندان کے ہاتھوں یرغمال ہے کچھ نئی تبدیلی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے، یقینا جواب نفی میں ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کا کردار بھی کافی منفی رہا ہے اور سیاسی جماعتو ں کی توڑ پھوڑ میں ان کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک طرف کا سچ بول کر دوسرے سچ کو چھپا دیں۔

یہ بات سمجھنی ہوگی کہ کبھی بھی سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں کا متبادل نہیں ہوتی۔ سول سوسائٹی کا مقصد سیاسی نظام اور سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ اگر سول سوسائٹی سے جڑے لوگ خود کو سیاسی جماعتوں کا متبادل سمجھنا شعور کردیں تو اس سے سیاسی نظام درست سمت میں جانے کی بجائے اور زیادہ بگاڑ کا شکار ہوگا۔ سول سوسائٹی کا مقصد علمی اور فکری بنیادوں پر کام کرکے ایسا تحقیقی عمل سامنے لانا ہوتا ہے جو ہمیں اصلاح کے عمل میں مدد دے سکے۔

اسی طرح سول سوسائٹی لوگوں میں سیاسی اور سماجی شعور کو اجاگر کرنے اور طاقت ور افرادیا اداروں پر یعنی ریاست، حکومت اور اداروں پر سیاسی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کرکے ان کی درست سمت کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے اور بہتری کے عمل میں اپنا کلیدی حصہ ڈال سکتی ہے کیونکہ یہ عمل سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار اداکرتا ہے۔

اس وقت بھی ہمارے پاس جیسی بھی کمزور سول سوسائٹی ہے یہ بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کو جن عوامی مفادات سے جڑے اہم موضوعات پر آواز اٹھانی چاہیے اس پر وہ خاموش ہیں یا لاتعلق ہیں۔ ایسے میں سول سوسائٹی سے جڑے انفرادی یا اجتماعی لوگ کسی نہ کسی شکل میں اپنی آواز اٹھا کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ لیکن جیسے سیاسی جماعتیں کمزور ہوئی ہیں ویسے ہی سول سوسائٹی بھی کمزور الجھاؤ کا شکار نظر آتی ہے۔ اکثر و بیشتر لوگ انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کی بجائے ایک جانبدار یا فریق یا پارٹی کے طو رپر کام کرکے خود بھی متنازع بنتے ہیں اور اپنی سوچ وفکر کو بھی۔

ہمیں سول سوسائٹی کو ضرور مضبوط کرنا چاہیے اور اس کو اپنی کمزوری یا ڈر یا خوف بنانے کی بجائے اپنی طاقت بنانا چاہیے کیونکہ اس طرز پر مبنی سول سوسائٹی سیاسی اور سماجی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ جو لوگ بھی اس سول سوسائٹی کو ریاستی وحکومتی نظام کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ سول سوسائٹی کو معاشرے کی تعمیر و ترقی سمیت ایک متباد ل بیانیہ کی جنگ میں شامل کرکے ریاستی و حکومتی نظام کو زیادہ شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک سیاسی جماعتوں اور ان سے جڑی قیادت کا تعلق ہے تو وہ اس وقت قومی مسائل کے حل میں خود ایک مشکل بنے ہوئے ہیں اور ان کے سامنے قومی مسائل کم اور انفرادی سطح کے مسائل زیادہ غالب ہیں۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کی سطح پر خود کو بدلنے کے لیے بہت نیاکام درکار ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس نئے کام کو سیاسی جماعتوں کی قیادت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر ان کی جماعتوں کو داخلی سطح پر بہت زیادہ جمہوری اور جوابدہ بنایا گیا تو ان کی اپنی قیادت کمزور ہوگی، جو قیادت کو قابل قبول نہیں۔

اسی طرح سیاسی جماعتوں میں ایسے لوگوں کو کوئی بڑی پزیرائی نہیں ملتی جو علمی اور فکری بنیادوں پر پارٹی کے داخلی نظام میں کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن چاپلوسی کلچر کی موجودگی خود بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں جب ہم سول بالادستی، جمہوریت اور سیاست کی جنگ کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کی سیاسی مداخلت کو کمزور یا ختم کیا جائے تو محض خوش نمانعروں کی مدد سے نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت جو جمہوری طور پر اپنے مقدمہ میں موجود داخلی تضادا ت کو ختم کریں اور قبول کریں کہ سیاسی نظام کی مضبوطی میں وہ خود بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

کیونکہ ہمیں بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کا کردار انتخابات میں حصہ لینے، اقتدار کا حصہ بننے یا حز ب اختلاف کے نام پر سیاست کرکے ایک بڑی محاذ آرائی کو پیدا کرنے سے جڑا نظر آتا ہے۔ مستقل بنیادوں پر معاشرے کے اندر سیاسی جماعتوں کا کام تعمیر و ترقی یا شعور کے عمل میں بہت کم نظر آتا ہے۔ سیاسی جماعتیں سماجی کاموں سے بھی لاتعلق رہتی ہیں اور محض انتخابی عمل میں ہی سرگرم نظر آتی ہیں یا ان کا کام سماج میں ہمیں فل ٹائم کی بجائے پارٹ ٹائم نظر آتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کی اصلاح اور تضادات پر مبنی سیاست کے سامنے موجود بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا، اس پر غوروفکر ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *