میں کیوں لکھتا ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈیر ڈاکٹر کامران احمد!

سب سے پہلے تو میں آپ کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری مشترکہ کتاب TWO CANDLES OF PEACEجو داخلی اور خارجی ’نفسیاتی اور سماجی‘ مذہبی اور سیاسی ’انفرادی اور اجتماعی امن کے بارے میں ہمارے چونتیس خطوط کا مجموعہ ہے اب ایمیزون AMAZON پر چھپ گئی ہے۔ آپ کی خواہش ہے کہ ہم دونوں مارچ کے آخر میں پاکستان جائیں اور اس کتاب کی رونمائی ہفتہ 4 اپریل کو اسلام آباد میں کریں۔ آپ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ سعید نے تو اس تقریب کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔

کتاب کی تکمیل کے بعد بھی آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا مکالمہ اور ہمارے خطوط کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہے اسی لیے آپ نے مجھ سے دو سوال پوچھے ہیں۔ آپ نے پوچھا ہے کہ میں کیوں لکھتا ہوں اور کینیڈا میں اتنا طویل عرصہ رہنے کے باوجود پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل میں اتنی دلچسپی کیوں لیتا ہوں؟

آپ کے سوال سادہ بھی ہیں اور گھمبیر بھی۔ ان کا جواب دینا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔

میں اپنے لکھنے کے لاشعوری محرکات کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جو میرے شعوری محرکات ہیں ان کے بارے میں اظہارِ خیال کر سکتا ہوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ میں پاکستان اور پاکستانیوں کا مقروض ہوں۔ پاکستان نے ایک دھرتی ماں کی طرح مجھے ایک ڈاکٹر اور رائٹر بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں نے اپنے بچپن اور نوجوانی میں اپنے اساتذہ ’بزرگوں اور ادیبوں سے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے میرے شخصیت اور میری اقدار کی نشوونما میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کی میری تخلیقات اور میری خدمات اس قرض کو ادا کرنے کی ادنیٰ سی عاجزانہ کوشش ہیں۔ ایک ادیب ہونے کے ناتے میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ میں پچھلی نسلوں کی دانائی کو اگلی نسلوں تک پہنچانے میں ایک پل کا کام کروں۔

ایک انسان دوست ماہرِ نفسیات ہونے کے ناتے میرا یہ موقف ہے کہ انسان اس وجہ سے دکھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کی وجوہات اور ان کو حل کرنے کے طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ وہ اپنے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں اور ان پر یہ شعر صادق آتا ہے

؎ سفر میں خود ہی حائل ہو گیا ہوں

میں اپنا راستہ روکے کھڑا ہوں

جب انسانوں کو اپنے مسائل کے محرکات اور ان کو حل کرنے کی آگاہی حاصل ہوتی ہے تو وہ اپنے مسائل کی گتھیوں کو احسن طریقے سے سلجھانے کے قابل ہوتے ہیں اور ایک صحتمند ’خوشحال اور پرسکون زندگی گزار سکتے ہیں۔ پھر وہ اپنے بدترین دشمن بننے کی بجائے اپنے بہترین دوست بن جاتے ہیں۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناتے میں اپنے مریضوں اور ان کے خاندانوں کو ایک صحتمند زندگی گزارنے کی ترغیب اور تعلیم دیتا ہوں۔ میرا گرین زون فلسفہ بھی اپنی مدد آپ کی بنیادوں پر تخلیق کیا گیا پروگرام ہے۔

یہ میری خوش بختی ہے کہ میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھ سکتا ہوں۔ میری اردو کی تحریروں سے مشرقی اور انگریزی تحریروں سے مغربی قارئین زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔

گرین زون فلسفے میں ہم لوگوں کو اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے ایک صحتمند خوشحال اور پرسکون گرین زون زندگی گزارنی ہے تو انہیں ایسی زندگی کی طرف تین قدم اٹھانے ہوں گے

پہلا قدم اپنی شخصیت کے خاص تحفوں کا ادراک

دوسرا قدم ان تحفوں میں دوسروں کو شریک کرنا

تیسرا قدم ان تحفوں سے خدمتِ خلق کرنا

میری کوشش رہی ہے کہ میں جو تعلیم دوسروں کو دوں اس پر خود بھی عمل کروں

میں جانتا کہ مجھے فطرت نے دوقیمتی تحفے دیے ہیں

لکھنے کا تحفہ

مریضوں کے علاج کا تحفہ

اس لیے میں باقاعدگی سے لکھتا بھی ہوں اور اپنے مریضوں کا خیال بھی رکھتا ہوں۔ ان دو طریقوں سے میں خدمتِ خلق کرتا ہوں۔ میں ایک سیکولر انسان ہوں لیکن میں تخلیقی کام اور مریضوں کی خدمت کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔

اگرچہ میں پچھلے تیس برس سے لکھ رہا ہوں لیکن پچھلے چند برسوں میں سوشل میڈیا کی وجہ سے میرا امن اور انسان دوستی کا پیغام دور دور تک پھیل رہا ہے۔ اس سلسلے میں ’ہم سب‘ میگزین ’کینیڈا ون ٹی وی اور یو ٹیوب نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔

’ہم سب‘ میگزین نے مجھے یہ موقع فراہم کیا کہ میں کینیڈا میں رہتے ہوئے بھی پاکستانیوں کی ادبی ’نظریاتی اور نفسیاتی خدمت کر سکوں۔ مجھ پر‘ ہم سب ’کے قارئین اتنی محبت کی بارش کرتے ہیں کہ میں اندر تک بھیگ جاتا ہوں۔ اس کی ایک مثال وہ کتاب کا تحفہ ہے جو میرے لیے آج ہی ڈاکیہ لے کر آیا ہے۔ مجھے پاکستان سے شمس الدین حسن شگری نے اپنی کتاب۔ مذہبی انتہا پسندی۔ اسلامی انقلاب و حکومت اور جوابی بیانیہ۔ بھیجی ہے جس پر انہوں نے بڑی محبت اور اپنائیت سے یہ نوٹ بھی لکھا ہے

’ محترم ڈاکٹر خالد سہیل کے ذوقِ مطالعہ کی نظر۔ ڈکٹر سہیل! آپ کی کتابوں اور مضامین سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ جبر اور تشدد کے اس ماحول میں اردو قارئین کی فکری نشوونما کے لیے آپ کی تحریریں نہایت قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔ آپ ہم جیسے مبتدی طلبہ کے لیے خضرِ راہ ہیں۔ امید ہے آپ اسی طرح علم و دانش کی کرنیں بکھیرتے رہیں گے۔

۔ شمس الدین حسن شگری۔

ڈیر ڈاکٹر کامران!

آپ بھی ایک رائٹر ہیں۔ آپ روحانیت اور مذہبی شدت پسندی کے حوالے سے دو کتابوں کے مصنف ہیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی ’ہم سب‘ کے لیے اردو میں کچھ لکھنا شروع کریں تا کہ آپ کے افکار سے زیادہ سے زیادہ لوگ استفادہ کر سکیں۔ ’ہم سب‘ کی وجہ سے آپ کا امن اور آشتی کا پیغام زیادہ لوگوں تک پہنچے گا۔

میرا خیال ہے کہ جب سے فیض و فراز ’قاسمی و سبطِ حسن اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ہمارے سماج میں ایک ادبی اور نظریاتی خلا پیدا ہوا ہے۔ ہمارے عہد کے ادبیوں شاعروں اور دانشوروں کو اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ان کی سماجی ذمہ داری ہے۔ ہر عہد اور ہر معاشرے کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی میں ایسے دانشور ہوں جو انہیں امن‘ آشتی اور بہتر زندگی کے خواب دکھا سکیں اور پھر ان خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنے میں ان کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔

ڈیر ڈاکٹر کامران!

میں انقلاب کے مقابلے میں ارتقا کا زیادہ قائل ہوں اور یہ سفر تعلیم و تربیت اور سماجی شعور کو بڑھاوا دینے سے طے ہوتا ہے۔ ارتقا کا سفر سست رو ہوتا ہے وہ کچھوے کی چال جبکہ انقلاب خرگوش کی چال چلتا ہے۔ دیومالائی کہانیاں ہمیں بتاتی ہیں کہ زندگی کے سفر میں کچھوا آخر کار جیت جاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں جن قوموں نے دیرپا ترقی کی ہے انہوں نے صدیوں کی کوشش اور محنتِ شاقہ سے ارتقا کا راستہ اپنایا تھا۔ ان سفر میں ہر ادیب ’شاعر اور دانشور اپنے حصے کی خدمات پیش کرتا ہے۔

آپ کو دعوتِ فکر دینے اور ’ہم سب‘ پر لکھنے کی دعوت دینے سے پہلے میں اپنے جن ادبی دوستوں کو یہ دعوت دے چکا ہوں ان میں شاہد اختر ’زہرا نقوی‘ ثمر اشتیاق ’ہما دلاور‘ زبیر خواجہ ’عبدالستار‘ نعیم اشرف اور کئی اور دوست بھی شامل ہیں ہیں۔ سرخ فام قبیلے کے سردار بلیک الکNATIVE CHIEF BLACK ELK نے فرمایا تھا کہ دنیا کا کوئی بھی عظیم کام اکیلا انسان نہیں کر سکتا کیونکہ وہ اجتماعی کوشش کا مرہونِ منت ہوتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی ’ہم سب‘ کے کارواں میں شامل ہوں اور اپنے روشن خیالات سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دل منور کریں۔

ڈیر ڈاکٹر کامران احمد 1

آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں انسان دوست ہوں اور اپنی تحریروں میں انسان دوستی کا فلسفہ پیش کرتا ہوں کیونکہ میری نگاہ میں یہ فلسفہ ایک پرامن معاشرہ قائم کرنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ امید ہے آپ میری دعوت پر سنجیدگی سے غور فرمائیں گے۔

آپ کا ادبی ہمسفر

خالد سہیل

ڈاکٹر کامران احمد کا جواب

ڈئیر ڈاکٹر سہیل،

پچھلی گرمیوں میں، جب میں پاکستان میں تھا اور وہاں سے میں نے کینیڈا واپس آ کر آپ سے ملنے کا فیصلہ کیا تو مجھے نہ آپ کی 40 سے زائد کتابوں کا علم تھا، نہ 200 سے زیادہ کالموں کا اور نہ ہی بیسیوں وڈیوز کا۔ آ پ سے ملنے کی تمنا کیوں پیدا ہوئی، وہ ابھی بیان کرتا ہوں۔

لیکن پہلے جو آپ نے اپنے لکھنے کے محرکات بتائے ان کو پڑھ کر خوشی بھی ہوئی، حوصلہ بھی ملا اورinspiration بھی ہوئی۔ خود پہ اس قرض کو، جو ملک کا ہے، اپنے گھر والوں اور بزرگوں کا ہے اور ہزاروں ایسے لوگوں کا جن کا ہم نام بھی نہیں جانتے، اسے ماننا اور پھر کسی بھی شکل میں ادا کرنا بہت ضروری ہے۔ آپ کے گرین زون کی تائید میں، میرے 30 سالہ نفسیاتی علاج کا تجربہ بھی اور بہت سے لوگوں کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ وہ لوگ زیادہ خوش بھی رہتے ہیں اور ذہنی طور پر صحت مند بھی جو اس بات پر شکر گزار ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کو بہتر بنانے میں، اور ان کو سہولیات مہیا کرنے میں، ان کے ارد گرد کے اور دنیا کے کتنے لوگوں کی محنت شامل ہے۔

مجھے ایک 23 سالہ نوجوان کی بات یاد آ رہی ہے جس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کی 99 فیصد پاکستانی نوجوان تمنا کرتے ہیں۔ کہنے لگا، ”میری زندگی میں کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں! میرے لیے کبھی کسی نے کچھ نہیں کیا۔ “ یہ رویہ مجھے آ ج بہت سے لوگوں میں، خاص طور پر نوجوانوں میں نظر آ تا ہے۔ جو ملتا ہے اسے حق سمجھنا اور جو نہیں ملتا اس پر ناراض رہنا۔

میں اپنے ماں باپ اور گھر والوں کے علاؤہ جن لوگوں کا شکرگزار ہوں ان میں بہت سے ادیب اور دانشور بھی شامل ہیں جو اپنی زندگیوں کا قیمتی نچوڑ ہمارے لیے قلمبند کر گئے۔ ان میں رومی، بلھے شاہ، فیض، حرمن ہیس (Hermann Hesse) ، خلیل جبران اور کرشنا مورتی کی میری زندگی میں خاص اہمیت ہے۔ آ پ نے اپنے خط کے آ خر میں بلیک ایلک (Black Elk) کا ذکر کیا۔ یونیورسٹی کے زمانے میں کتابیں اتنی مہنگی لگتی تھیں کہ زیادہ تر لائبریری سے کام چلا لیتے تھے۔ لیکن کچھ کتابیں ایسی ہوتی تھیں جو خرید کر میں ہر وقت اپنے پاس رکھتا تھا۔ Black Elk Speaks ان کتابوں میں سے ایک تھی۔

اور آ ج جو آ پ اور میں یہ بات سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں لوگوں سے کر سکتے ہیں، یہ انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور سمارٹ فون ہزاروں لوگوں کی تحقیق اور دن رات کی محنت کا نتیجہ ہے۔

کچھ دہائیوں پہلے، میں نے 12 سال امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزارے۔ اس زمانے میں ہر ہفتے میں تین منٹ کی کال پاکستان والدین کو کیا کرتا تھا۔ وہ بھی اتنی مہنگی لگتی تھی۔ تین منٹ میں دل کی بات کیا ہوتی۔ بس آواز سن کر تسلی ہو جاتی تھی۔ دل کی باتیں تو تفصیل سے خط کے ذریعے ہی ہوتی تھیں۔ خط کا جواب آنے میں تقریباً ایک مہینہ لگ جاتا تھا۔ آج میں اور میری بیوی روز صبح ایک گھنٹے سے زیادہ اپنے ماں باپ کے ساتھ وڈیو چیٹ کرتے ہیں۔ اور میں تقریباً روز ہی دل میں ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی وجہ سے آج مجھے یہ سہولیات مہیا ہوئیں۔

اور سہولیات تو دور کی بات، آج جو میں اپنے والد سے بات کرسکتا ہوں اس میں بھی میڈیکل سائنس کے شعبے میں ہزاروں لوگوں کی انتھک محنت شامل ہے۔ میری شادی سے بہت پہلے، ان کے دل کی شریانوں کے بند ہونے کے باعث ان کو پہلا ہارٹ اٹیک ہوا۔ پچھلے 25 سال میں ان کے دل کے آس پاس تین سٹینٹ (stent) ڈلے، جن کی وجہ سے آج بھی ان کے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ آج وہ، 95 سال کی عمر میں، میرے بچوں سے اتنا قریب ہیں کہ میرا حال بعد میں پوچھتے ہیں، ان کے بارے میں سوال پہلے کرتے ہیں۔ اور میں پھر اپنے دل میں کئی لوگوں کا شکر ادا کرتا ہوں۔

بہت سے افراد اور بہت سی قومیں ایسی بھی ہیں جو جتنا لیتی ہیں اس سے کہیں زیادہ دنیا کو واپس بھی دیتی ہیں۔

اور یہاں ڈاکٹر سہیل یہ کہانی کہ میں آپ سے کیوں ملنے کا خواہشمند ہوا۔ مجھے وہ لوگ متاثر کرتے ہیں جو اپنی نوکریوں کے علاؤہ، رضاکارانہ طور پر دوسروں کے لیے، دنیا کے لیے، کچھ کرتے ہیں۔ پچھلی گرمیوں میں میں اسلام آباد کے قریب مہرگڈھ ادارے میں مذہبی رواداری کی ایک تربیت کروا رہا تھا۔ وہاں ایک سٹوڈنٹ نے کچھ نفسیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ پچھلے سال جب اس کی نفسیاتی حالت بہت خراب تھی اور بات خودکشی تک پہنچ رہی تھی تو کسی کی تحریروں نے، اور پھر خود اس نے، دنیا کے دوسرے سرے پر ہوتے ہوئے بھی اس کا ہاتھ تھام کر اسے کنارے لگایا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہ شخص کینیڈا میں ہی مقیم ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ شمالی امریکہ کی زندگی کس قدر مصروف ہوتی ہے۔ جو شخص بغیر کسی کو جانے، رضاکارانہ طور پر اس طرح کسی کا ہاتھ تھام سکتا ہے، اس میں مجھے کچھ درویشی کی جھلک نظر آئی۔ یہ وجہ تھی میرے آپ سے رجوع کرنے کی۔

لیکن آپ سے ملنے کے بعد، آپ کی جس صلاحیت نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ آپ کے ان دو تحفوں کے علاؤہ ہے جن کا ذکر آپ نے کیا۔ آپ کی تحریروں اور نفسیاتی علاج، دونوں میں مسیحائی کا دخل ہے۔ لیکن مسیحا کا ایک کرشمہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ مردہ جسم کو واپس زندہ کرتا ہے۔ میری بہن، ڈاکٹر فوزیہ سعید، جو پہلے لوک ورثہ کی سربراہ رہیں اور اب PNCA کی، ہمیشہ کہتی ہیں کہ ثقافتی اور تخلیقی عمل کے بغیر نہ انسان زندہ رہتا ہے نہ قومیں۔

ایک عرصے سے میں پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجوہات کا تجزیہ کر رہا ہوں اور جو چند جڑیں میرے ہاتھ لگی ہیں ان میں سے ایک تخلیقی عمل کا فقدان ہے۔ آپ کے اندر، ڈاکٹر سہیل، ایک نایاب فن اور صلاحیت یہ ہے کہ آپ مسلسل اپنے ارد گرد کے لوگوں کو لکھنے اور تخلیق کرنے پر inspire کرتے ہیں۔ یہ مردہ جسم میں، مردہ ذہن میں، روح پھونکنے سے کچھ کم نہیں ہے۔ آپ نے ایک ساتھ کتنے ہی لوگوں کو کسی نہ کسی شکل میں کچھ تخلیق کرنے پر لگایا ہوا ہے۔ اور آپ باقاعدگی سے follow۔ up بھی کرتے ہیں۔ میری پچھلی دو کتابیں لکھنے میں مجھے بہت سے سال لگے۔ آپ کے ساتھ میری کتاب ایک مہینے کے اندر اندر ختم ہوئی۔

آپ پر اپنی قوم کا، دانشوروں کا، جو قرض تھا وہ آپ نے کئی گنا سے بھی زیادہ واپس کر دیا۔ اب ہم پر جو آپ کا قرض بنتا ہے وہ ہماری کوشش رہے گی کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر ادا کرپائیں۔

آپ کی مسیحائی کا شکرگزار،

ڈاکٹر کامران احمد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 305 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

One thought on “میں کیوں لکھتا ہوں؟

  • 21/02/2020 at 11:36 pm
    Permalink

    بہت خوشی ہوئی یہ جان کر کہ بالآخر دو علم دوست آپس میں ملے اور علم و عرفان کے سمندر میں مزید گہر وجود میں آئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *