صحراؤں کے دیس میں کوہ نوردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشرقِ وسطیٰ کے ملک متحدہ عرب امارات نے بہت قلیل مدت میں اقوامِ عالم میں اپنا ایک مقام بنایا ہے۔ آج شاید ہی کوئی بین الاقوامی سیاح ہو جس نے یہاں قدم رنجہ نہ فرمایا ہو۔ بہت سارے عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہ خطہ دنیا کے نقشے پر تیزی سے ابھرا ہے اور یہی عوامل اس خطے کو دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔

یہ ملک جہاں آسمان کو چھوتی بلند و بالا عمارات کی وجہ سے دنیا میں پہچانا جاتا ہے وہیں دنیا کی سب سے بلند عمارت بھی اپنی ایک الگ شان و شوکت لیے دیکھنے والوں کے لیے حیرت کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اس ملک کو جہاں ایک طرف نیلگوں سمندر گھیرا ڈالے کھڑے ہیں وہی پر سورج کی تمازت سے بھرپور ان سمندروں کے ساحل، سرد ممالک کے باسیوں کے لیے خاص طور پر، ایک خاص کشش رکھتے ہیں۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف لق و دق صحرا ہیں وہی دوسری طرف اس ملک میں پہاڑ اور ان پہاڑوں کے اندر گم ہوتی بے آب و گیاہ وادیوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔

جہاں ایک طرف یہ خطہ اپنی وسیع و عریض سڑکوں اور ان پر فراٹے بھرتی لگثرری گاڑیوں کی وجہ سے ایک خاص شہرت رکھتا ہے وہی پر قانون کی سختی سے عملداری بھی اس خطے کو اوپر لے جانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اگر یہاں کا سورج دن میں آگ برساتا ہے تو وہی صحرا میں تاروں تلے گزاری کسی رات کی خنکی اور روشن کیا گیا الاؤ بھی ایک نہ بھولنے والے تجربے کی مانند آپ کی یادوں میں محفوظ رہتا ہے۔ غرض یہ خطہ ایک پورا پیکج ہے جس میں ہر کسی کو اس کی مرضی کی ”چیز“ مل جاتی ہے۔

یہاں کا مختصر مگر دلوں کو لبھاتا موسمِ سرما سال بھر کے خوشگوار ترین دنوں کی نوید لے کر نازل ہوتا ہے۔ اور ان خوشگوار دنوں میں میرے جیسے کوہِ نوردوں کے دلوں میں پہاڑوں کے درمیان کچھ وقت بِتانے کی خواہش مسلسل سر اٹھائے رکھتی ہے۔ ایسے میں پہاڑوں پہ جانے کا کوئی بھی موقع ضائع کرنا میرے نزدیک شدید کفرانِ نعمت کے زمرے میں آتا ہے۔ بس کسی کی صحبت میسر ہونی چاہیے جس کو ساتھ لے کر پہاڑ گردی کی جائے۔ کچھ ایسا ہی ایک موقع سات فروری کو ہاتھ آیا جب مجھے چھٹی والے روز دو ساتھیوں کی قربت میسر تھی تو کوئی بھی لمحہ ضائع کیے بغیر ہم پہاڑوں کی خاک چھاننے نکل کھڑے ہوئے۔

خامی جاتی ہے کوئی گھر بیٹھے

پختہ کاری کے تیں سفر ہے شرط

متحدہ عرب امارات کی سات امارات ہیں جن میں فجیرہ، راس الخیمہ اور ابوظہبی کے زیرِ انتظام العین پہاڑوں کے حوالے سے کافی مشہور ہیں۔ سات فروری کو ہمارا بھی رخ راس الخیمہ کی طرف تھا جس کی ایک وادی ”وادئی شوکہ“ کو ایکسپلور کرنا تھا۔

صبح آٹھ بجے میں اپنے ساتھیوں انیب اور سہیل کے ہمراہ گھر سے نکلا۔ گھر سے باہر قدم رکھتے ہی ابو ظہبی شہر کو پوری طرح دھند میں لپٹا ہوا پایا۔ شہر کی تمام بلند عمارتیں اوپر کو اٹھتی دھند میں غائب ہو چکی تھی۔ ابوظہبی شہر کی صبح میں رچی بسی یہ دھند اور خنکی ہمارے سفر کے لیے انتہائی سازگار تھی۔ ہمارا رخ ڈاؤن ٹاؤن کی طرف تھا جہاں شہر کے معروف پاکستانی ریسٹورنٹ سے لاہوری چنوں کا ناشتہ کیا اور تقریباً نو بجے ہم ابوظہبی سے نکلے۔

وادئی شوکہ کا ابوظہبی سے فاصلہ تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر ہے اور یہ تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ شارجہ سے جب آپ راس الخیمہ کی طرف مڑتے ہیں تو صحرا کی ریت کا رنگ سرخ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر آنکھوں کو بھلی لگتی وہ سرخ ریت پہاڑوں کے دامن تک آپ کے ہم رکاب رہتی ہے۔ سرخ ریت کے ٹیلے جو ہوا کے ساتھ اپنی ہیبت اور اپنی جگہ تبدیل کرتے رہتے ہیں، آپ کو قدرت کی اس صناع کاری کی داد دینے پر مجبور کرتے نظر آتے ہیں۔ اور کبھی یہ سرخ ریت ہوا کے ساتھ سفر کرتی عین سڑک کے درمیان بسیرے ڈالتی جا بجا بکھری نظر آتی ہے۔

راس الخیمہ

لو بھیا ہم تقریباً بارہ بجے وادئی شوکہ کے دامن میں پہنچے۔ ایک طرف پارکنگ تھی اور دوسری طرف ایک کچی سڑک تھی جو پہاڑوں کی طرف اندر جاتی گاڑیوں کی اڑتی دھول میں نظر نہیں آتی تھی۔ یہ چند کلومیٹر کا پتھریلا راستہ تھا اور بڑی گاڑیوں والے اس طرف رواں دواں تھے۔ یہ جمعے کی چھٹی اور جاتی سردیوں کا ایک خوشگوار دن تھا اس لیے آج کافی رش تھا۔ ہم نے آگے نہ جانے اور یہی سے ہائیکنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ وادی سیاحوں کے لیے تمام سہولیات لیے حاضر تھی۔ وسیع پارکنگ، بچوں کا چھوٹا سا پارک، باتھ رومز، کیفے ٹیریا اور پہاڑوں کے دامن میں تاروں تلے رات بسر کرنے کے لیے کیمپنگ کی سہولت بھی موجود تھی۔

گاڑی سے نکلتے ہی جو پہلی چیز اپنی توجہ کی منتظر پائی وہ پہاڑوں کے دامن میں بنا پانی کا ڈیم تھا جو ایک جھیل کی مانند پہاڑوں کے درمیان بل کھاتا نظروں سے اوجھل ہو رہا تھا۔ دور ایک بڑے پہاڑ میں ناختم ہونے والی سیڑھیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ نظر آ رہا تھا جن پر لوگوں کی ٹولیاں اوپر کی طرف جاتی نظر آ رہی تھیں اور اسی طرح بہت سے لوگ نیچے اتر رہے تھے اور نیچے آنے والے غالباً وہ تھے جو ہائیکنگ کر کے واپس آ رہے تھے۔ وہ سیڑھیاں بلند ہوتے پہاڑ کے ساتھ بلند ہوتی تھیں اور آگے جا کر نظروں سے اوجھل ہو رہی تھیں۔

جس طرح کبھی کوئی منظر، کوئی لمحہ، آپ کو پیچھے دھکیلتا بہت دور لے جاتا ہے اور آپ لمحوں میں سالوں کا سفر طے کرتے ماضی کے راستوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ عین اسی طرح آج مجھے بھی ان سیڑھیوں کا منظر کسی بھولے بسرے پل میں لے گیا۔ انگلستان کے شہر مانچسٹر کے ایک نواحی قصبے کا نام بولٹن ہے جو کہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان کا بھی شہر ہے۔ بولٹن میں ایک جگہ کا نام غالباً ریونگٹن پائک ہے۔ وہاں پر ایک پہاڑی کی چوٹی پر ایک بہت پرانا قلعہ ہے۔ اس قلعے پر جانے والی سیڑھیاں بھی کچھ اسی طرح کی نظر آتی ہیں اگر چہ وہ تعداد میں ان سیڑھیوں سے بہت کم ہیں۔ گئے سالوں میں اس پرانے قلعے پہ گزرا وہ دن کچھ ایسے ساتھیوں کی یاد دلا گیا جن کے چہرے وقت کی دھول میں کہیں دھندلا چکے ہیں۔

وفا کے شہر میں قحطِ وفا ہے شاید

دوست تو ہزار ملے، دوستی نہ ملی!

اس کے علاوہ حسن ابدال میں بھی ایک پہاڑی کی چوٹی پر جاتی اسی طرح کی بے شمار سیڑھیاں ہیں جہاں اوپر ایک مزار ہے اور وہاں ہر سال عرس ہوتا ہے۔

Rivington Pike
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply