چولستان جیپ ریلی، روہی یاد کریندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی یہاں گھاگر دریا (ہاکڑا) بہتا تھا۔ علاقے کی پیاس بجھاتا ہوگا۔ پھر دریا نے منہ پھیر لیا۔ رخ نہیں بدلا بلکہ خشک ہوگیا اورخشک سالی چھوڑ گیا۔ گھاگر کا پانی کیا روٹھا یہاں ریت، تپتی لو، دھوپ، پیاس اور ویرانی نے ڈیرہ جمالیا۔

چولستان (جسے مقامی لوگ روہی کہتے ہیں ) کی پیاسی گود کی اسی ویرانی میں قلعہ جام گڑھ واقع ہے۔ فورٹ عباس سے تقریبا 35 کلومیٹر اور مروٹ سے تقریبا 20 کلومیٹر کی دوری پر۔ سترہ سو اٹھاسی میں تعمیر کیے گئے اس خوبصورت چوکور قلعے کو وقت نے بہت جلد مسمار کردیا۔ چولستان کی ریت میں مٹی ہوتے اس قلعے کو بچانے میں نا حکومت کو دلچسپی ہے نا اسے دیکھنے اور اس کے ساتھ تصویریں بنانے والوں کو۔

پچھلے سال اگست کے ایک سلگتے دن کو قلعہ جام گڑھ دیکھا تھا۔ تپتے صحرا میں لمبی چپ سادھے کھڑا تھا۔ ریت تھی کہ قلعے کو نگل جانے کے در پے تھی۔ یا پھر قلعہ خود ہر سو پھیلی بیابانی سے گھبرا کر اینٹ اینٹ بکھر کر ریت میں دفن ہونا چاہتا تھا۔ آس پاس ہو کا عالم تھا۔ چرند پرند، شجر و انس سب ندارد۔ ویرانی سی ویرانی تھی۔ دور اونٹوں کی ایک لمبی قطار تھی جس کے ساتھ ساتھ بوڑھا ساربان جا رہا تھاجس کی کمر جھکی جا رہی تھی۔ بھیڑ بکریوں کا ریوڑ جھاڑیوں کی اوٹ میں ہانپ رہا تھا اور نوجوان گڈریا انگلی سے ریت میں نقش بنا کر جی بہلا رہا تھا۔

پندرہ اور سولہ فروری چولستان جیپ ریلی کے موقع پہ پھر قلعہ جام گڑھ گئے تو سماں بالکل مختلف تھا۔ فروری کے ڈھلتے سورج کی سنہری دھوپ نے ریگستان میں رنگ بکھیر رکھے تھے۔ قلعہ جام گڑھ پہ میلہ لگا ہوا تھا۔ بے شمار دکانیں اور سٹالز بھانت بھانت کی چیزوں سے سجے ہوئے تھے۔ لوگ ٹولیوں میں گھوم پھر رہے تھے۔ کبڈی اور رگبی کے میچز ہوئے۔ ڈھول کی تھاپ اور ناظرین کی تالیوں کی گونج نے کھلاڑیوں میں جوش بھردیا تھا۔ گھوڑوں کے ناچ کا بھی انتظام تھا۔

گھوڑوں کے تھرکتے جسموں کو ہر کوئی موبائل میں قید کرنا چاہتا تھا۔ ناچتے گھوڑے، ہنستے مسکراتے تالیاں پیٹتے لوگوں کے گیہوں رنگ کے چہرے، ڈھول کی ڈھم ڈھم اور گھوڑوں کو نچانے والوں کی دستار کے اونچے شملے سب قلعہ جام گڑھ کے پہلو میں یکجا ہوگئے تھے۔ سورج ڈوبا تو برقی روشنیاں نور بکھیرنے لگیں۔ قلعے کے درو دیوار پر رنگ برنگی روشنیوں کی دھنک پھیل گئی۔ قلعہ دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ دور تک پھیلے صحرا میں دور دور دکھائی دے رہا تھا۔ آتشبازی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ تاریکی بھرے آسمان پہ پھلجھڑیاں پھٹیں تو دیکھنے والوں کے دل بھی پھلجھڑی ہوگئے۔

رات کو کلچرل نائٹ نے میلے میں مزید رنگ بھر دیے۔ میوزیکل کنسرٹ میں لوک فنکاروں نے سر بکھیرے تو سامعین جھوم اٹھے۔ ہزاروں لوگ جمع تھے۔ جب لوک گلوکار واجد علی بغدادی نے ’سونے دی چوڑی ہتھ وچ سجنا پائی ہوئی اے‘ گایا تو چولستان ہو، ہا کے نعروں سے گونج اٹھا۔ بہت سے منچلے مست ہوکر جگہ جگہ ناچ رہے تھے۔ ان سرشار ہوکر جھومنے والوں میں روہی کا باسی، کمر خمیدہ، بوڑھا ساربان بھی ہوگا۔ اور وہ چرواہا بھی ہوگا جو انگلیوں سے ریت پہ نقش ابھار کر کھیلتا رہتا ہے۔ قلعہ جام گڑھ بھی حیران سا کھڑا سب نظارے دیکھ رہا تھا۔ وہ قلعہ جو سال بھر نڈھال سا کھڑا اونگھتا رہتا ہے آج وہ آدھی رات کو بھی جاگ رہا تھا۔

اگلے دن جیپ ریلی میں شامل ریسنگ گاڑیوں کو قلعہ جام گڑھ پہنچنا تھا۔ یہ ریلی کا مڈ پوائنٹ ہے۔ صبح سویرے ہی وہاں کیمپ لگ چکے تھے۔ مقامی حکومتی انتظامیہ کی طرف سے کیمپ لگائے گئے تھے اور جیپ ریلی کے شرکاء کے ذاتی کیمپ بھی تھے۔ ہزارہا لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ دور سے ریت کے بادل اڑاتی گاڑی دیکھ کر لوگوں کے جوش و خروش کا پارہ ایک دم آسمان کو چھونے لگتا۔ دھول ریت اُڑاتی، ریگستان کو چیرتی، اڑتی، چنگھاڑتی گاڑیاں ایک ایک کرکے پہنچنے لگیں۔ گاڑی رکتی، ڈرائیورز اترتے، مکینک گاڑی کو پھر سے تیار کرنے میں جت جاتے اور ڈرائیور فریش ہو کر بیس منٹ کے وقفے کے بعد دوبارہ بقیہ آدھا سفر مکمل کرنے نکل جاتے۔

چولستان جیپ ریلی پاکستان کا سب سے بڑا موٹر سپورٹس ایونٹ ہوتا ہے جو 2005 سے ہرسال چولستان میں منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میں کھیل، سیاحت اور تفریح سب یکجا ہوگئے ہیں۔ یہ انٹرنیشنل شہرت حاصل کر چکا ہے اور اس میں مرد اور خواتین ڈرائیورز حصہ لیتے ہیں۔ اس سال 500 کلومیٹر کا ٹریک بہاولپور، رحیم یار خان اور بہاولنگر کے اضلاع سے گزرتا تھا۔

جیپ ریلی دیکھنا ایک تھرلنگ تجربہ ہے۔ ہم ٹریک کے ساتھ ساتھ پانچ سات کلومیٹر پیچھے چلے گئے تھے۔ ہر موڑ اور ہر ٹیلے پر لوگ کھڑے تھے تاکہ گاڑیوں کا مختلف زاویوں سے نظارہ کرسکیں۔ موڑ پر گاڑیاں ریت پہ سلائیڈ لیتی جاتیں تو ریت کے مرغولے قابل دید نظارہ پیش کرتے۔ اونچی نیچی ڈھلان پہ گاڑیاں زمین کو چھو کر فضا میں تیرتیں اور جنگلی غزال سی چوکڑیاں بھرتی جاتیں۔ دور سے ریت پر یوں دکھائی پڑتیں جیسے دوڑ نہیں رہیں بلکہ ریت کے بحر بیکراں میں سیلنگ بوٹ کی طرح تیرتی جاتی ہیں۔

خطرے کے باوجود لوگ ٹریک کے قریب کیمرے لگا کر گاڑیوں کے مختلف لمحات محفوظ کر رہے تھے۔ روہی سے عشق کرنے والا ایک شخص بتا رہا تھا کہ پورے ٹریک پہ لوگ ایسے ہی جگہ جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔ سب لوگ خوب مزے لے رہے تھے۔ کچھ لوگ تھے جو صرف انتظامات میں جتے ہوئے تھے۔ پولیس اور تحصیل انتظامیہ کے افسران اس تگ و دو میں تھے کہ یہ ایونٹ احسن طریقے سے انجام کو پہنچے۔ ایسی جگہ پہ اتنا بڑا میلہ سجانا اور انتظامات کرنا آسان نہ تھا۔ ادھر نہ بجلی تھی نہ پانی۔ کیمپ، کرسیاں، قالین، لائٹنگ، میوزیکل کنسرٹ، مڈ پوائنٹ کے وسیع و عریض ایریا کو لیول کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ انتظامیہ کے تمام افسران اور عملہ داد و تحسین کا مستحق ہے۔

مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے فورٹ عباس کے نوجوان اسسٹنٹ کمشنر کہہ رہے تھے۔ ”جیپ ریلی پہ آنے والے تمام لوگوں کی تفریح اور خوشی کے لیے، ان کے وقت کو یادگار بنانے کے لیے ہم پچھلے کئی دنوں سے دن رات کام کر رہے ہیں۔ “

خدا کرے کہ یہ جذبے یوں ہی جوان رہیں۔ عوام کی خوشی اور تفریح یوں ہی مقدم ٹھہرے۔

چولستان جیپ ریلی اور قلعہ جام گڑھ کے میلے نے کتنے ہی یار دوستوں کو یکجا کر دیا تھا۔ خواجہ غلام فرید نے ایسی ہی کسی وصل کی گھڑی سے سرشار ہوکر روہی کو دعا دی تھی۔

ایہا روہی یار ملواڑی اے

شالا ہر دم راہوے ساوڑی اے

گویا ہمارے دل کی بات کہہ ڈالی تھی۔ ہماری بھی دعا ہے کہ شالا یہ ریگزار یوں ہی گلزار ہوتے رہیں۔

ہم واپس لوٹ رہے تھے۔ چولستان میں بیتے لمحوں کو سب یاد کر رہے تھے۔ صحرا ہمارے دل میں اتر گیا تھا اور ہمارے دل نخلستان ہوگئے تھے۔ گاڑی میں لوک گلوکار شفاءاللہ روکھڑی کا گانا گونج رہا تھا ’کوئی روہی یاد کریندی‘ ۔ روکھڑی جی روہی یاد کرے یا نا کرے یہاں آنے والے اب روہی کو ضرور یاد کرتے رہیں گے۔ ایسے میلے اور ریلیاں اہتمام کے ساتھ منعقد ہوتے رہنے چاہیے۔ سڑکوں کی حالت بہتر ہونی چاہیے۔ موبائل سروس کے لیے ٹاورز لگے ہوں تاکہ فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات دستیاب ہو سکیں۔ سیاحت کو فروغ دے کر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو جنوبی پنجاب کے اس شاندار تہوار پر آنے کے لئے مائل کیا جا سکتا ہے اور پوری دنیا میں پنجاب کی ثقافت اور تاریخ کو متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

گانا چل رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ روہی کسے یاد کرتی ہو گی۔ یقینا گھاگر دریا کو یاد کرتی ہوگی جو کبھی روہی کے سینے پر بل کھاتا بہتا رہتا تھا۔ اب ہمیشہ کے لیے روٹھ گیا ہے۔ روہی اس کے فراق میں ہی اداس رہتی ہو گی۔

ہر ویلے تانگھ دلبر دی رو رو کاگ اڈاراں

فالاں پاواں قاصد بھیجاں تھی گیا حال بیماراں

یار باجھوں ہن جیون کوڑے اندر درد ہزاراں

غلام فرید میں روواں ایویں جویں وچھڑی کونج قطاراں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

احمد نعیم چشتی

احمد نعیم چشتی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ سادہ اور چھوٹے جملوں میں بات کہتے ہیں۔ کائنات اور زندگی کو انگشت بدنداں تکتے رہتے ہیں۔ ذہن میں اتنے سوال ہیں جتنے کائنات میں ستارے۔ شومئی قسمت جواب کی تلاش میں خاک چھانتے مزید سوالوں سے دامن بھر لیا ہے۔

ahmad-naeem-chishti has 52 posts and counting.See all posts by ahmad-naeem-chishti

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *