شرمیلا ادبی میلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور شہر کو کھنگالا، معلوم ہوا کہ بانجھ ہوچکا ہے۔ سنا تھا کہ پنجاب کی مٹی زرخیز ہوتی ہے، پتہ چلا پرانی بات ہوئی۔ بقیہ پاکستان میں تخلیق کار ڈھونڈنے کی کوشش کی تو بھید کھلا کہ وادی مہران کے اس پار بھی فقط دھول ہی اڑتی ہے۔ دل پر پتھر رکھ کر سرحد پار گئے، منت سماجت کی، اپنی عزت کا واسطہ دیا، اعتراف کیا کہ ہمارے ہاں کوئی بندہ اس قابل نہیں کہ کسی ادبی میلے میں افتتاحی کلمات بول سکے، آپ کے ہاں البتہ ادب و ثقافت کا سمندر بہتا ہے، فلم، تھیٹر، آرٹ، موسیقی، شاعری، ڈرامہ افسانہ سب آپ ہی کے چرنوں میں بیٹھ کے سیکھا ہے، ہم ایک ادبی میلہ لاہور میں منعقد کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر اب تک لاہور میں کیا پاکستان میں کوئی ادیب نہیں مل سکا جو اس میلے کی ”اوپننگ“ کرنے کے قابل ہو، ہوسکے تو اپنے ہاں سے کسی کو بھیج دیجئے، آپ کے ہاں تو فن کی گنگا بہتی ہے۔ شکر ہے ہماری استدعا قبول کرلی گئی، خدا عزتیں بچانے والا ہے، لاہور کی لاج رہ گئی، پنجاب کی شان بڑھ گئی، پاکستان کا قد اونچا ہوگیا اور شرمیلا ٹیگور صاحبہ لاہور کے ادبی میلے کی افتتاحی نشست میں تشریف لے آئیں۔

کراچی ادبی میلہ ہو یا لاہور لٹریری فیسٹیول، ان کا دم غنیمت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سال کے بارہ مہینے دہشت گردی کی خبریں ہی شہ سرخیاں بنتی ہیں، وہاں یہ ادبی میلے بہرحال علم و ادب کی بہار لاتے ہیں مگر اس مرتبہ یہ بہار لاہوریوں کے لئے نہیں بلکہ غیر ملکی اور دیسی گوروں کے لئے تھی۔ مجھے کراچی ادبی میلے کا تو اندازہ نہیں فقط اتنا علم ہے کہ اس کی روح رواں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید ہیں، اگر کل کلاں کو وہ نہیں ہوں گی تو ان کی جگہ ادارے میں کوئی دوسرا سنبھال لے گا اور یوں کسی بھی طرح کراچی کا ادبی میلہ کوئی فیملی افیئر نہیں بن پائے گا۔

لاہور لٹریری فیسٹیول (LLF) کی بات دوسری ہے، اس کے بورڈ آف گورنرز میں آٹھ لوگ ہیں جن میں سے پانچ ایک ہی خاندان سے ہیں اور وہی کرتا دھرتا ہیں۔ یوں تو یہ میلہ ہر سال ”ایلیٹ“ کے لئے ہی سجایا جاتا ہے جس میں منٹو کے افسانوں پر بھی انگریزی میں ہی بحث ہوتی ہے، مگر اس مرتبہ تو میلے میں سرے سے لاہور شہر کی فِیل ہی نہیں تھی، کیونکہ منتظمین کا مقصد لاہور یا پاکستان کے ادب اور کلچر کو فروغ دینا نہیں تھا۔ اس میلے کے ٹارگٹ آڈینس عام شہری نہیں بلکہ امریکہ یورپ کے ذرائع ابلاغ اور مقامی اشرافیہ ہے، یہی وجہ ہے کہ میلہ خاص طور سے انگریزی اور بین الاقوامی میڈیا میں کامیاب رہا۔

یہاں سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ بالفرض اگر ایسا ہی ہے تو اس میں کیا برائی ہے، آخر پاکستان کا مثبت چہرہ ہی دنیا کے سامنے آیا، ادب کا فروغ ہوا، اس پر بھی اعتراض؟ یہ بات کچھ حد تک درست ہے مگر درحقیقت کسی بھی ملک کا ادب اس وقت تک فروغ نہیں پاسکتا جب تک خود اس ملک کے ادیب کے فن پاروں کو دنیا کے سامنے نہ پیش کیا جائے۔ LLF کا شیڈول پڑھ کر دل میں ہول اٹھا کہ یا خدا یہ موضوعات کن لوگوں کے لئے ہیں، ان پر گفتگو کرنے والے کون لوگ ہیں، ان کے ناموں کا درست تلفظ کیا ہے!

کتنا اچھا ہوتا اگر لاہور کے ادبی میلے میں جارج اورول کے بیٹے اور ورجینیا ولف کی بھتیجی (یا شاید بھانجی) کے اجلاس رکھنے کی بجائے خالصتاً لاہور اور پاکستان کے ادب پر مقامی ادیب ہی گفتگو کرتے، مگر ادھر تو حال یہ تھا کہ میلے میں رکھے گئے مگر پنجابی زبان سے متعلق نشست یہ کہہ کر منسوخ کردی گئی کہ میلے کا ایک دن کم ہونے کی وجہ سے ترمیم شدہ شیڈول میں اس کی گنجائش نہیں نکل سکی، پنجابی نشست والوں نے اس پر احتجاج کا پروگرام بھی بنایا مگر انہیں اس ہوٹل کے سامنے احتجاج کی اجازت نہ مل سکی۔ یہ سب 21 فروری کے دن ہوا جسے یونیسکو نے ماں بولی کا عالمی دن قرار دیا ہے۔ 1952 میں اس دن ڈھاکہ میں بنگالیوں پر اس وقت گولی چلائی گئی تھی جب وہ اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی پاکستان کی قومی ز بان قرار دینے کے حق میں احتجاج کررہے تھے۔ چھ دہائیاں گزر گئیں پر ہم نہیں سدھرے۔

کسی زمانے میں لاہور سے فنون اور نقوش شائع ہوتے تھے، احمد ندیم قاسمی صاحب فنون میں نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کی تحریروں کی نوک پلک سنوارتے، انہیں عام لکھنے والے سے اسٹار بناتے اور اس کے بعد نقوش میں محمد طفیل صاحب اس سپر اسٹار کی تحریریں چھاپتے۔ بالکل اسی طرحLLF بھی صرف اسٹارز کے لئے ہے اور اسٹارز بھی وہ جنہیں انگریزی آتی ہو، اردو بولنے اور لکھنے والوں کو یہاں صرف خانہ پری کے لئے مدعو کیا جاتا ہے جیسے میر کی شاعری پر ایک نشست میں ڈاکٹر خورشید رضوی جیسی دیو قامت شخصیت کو بلا کر ”بھگتا“ دیا گیا جبکہ دوسری طرف بہت سے انگریزی بونوں کے ذمہ تین تین اجلاس بھی تھے، تاہم پورے ادبی میلے میں جہاں جہاں ہمیں لاہور کی چاشنی محسوس ہوئی اس کی وجہ جناب خالد احمد اور احمد رشید صاحب تھے، انہی کی کاوشوں کی بدولت اس میلے میں پاکستانیت کی جھلک نظر آئی۔

رہی بات باقی مہمانوں کی تو دنیا میں ایسی کوئی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی جس کو بروئے کار لاکر اس قسم کی تقریبات کے لئے مہمانوں کی ایسی فہرست ترتیب دی جاسکے جس پر سب متفق ہوجائیں، معاشرے میں مجھ ایسے لوگ ہمیشہ رہیں گے جو مثالی فہرست پر بھی اعتراض اٹھائیں گے، مگر جہاں تک لاہور کے ادبی میلے کا تعلق ہے، اس میں اگر لاہور کے چنندہ ادیب ہی مدعو نہ کیے جائیں تو پھر یہ میلہ نیویارک ٹائمز میں تشہیر کے لئے سجایا گیا ہو تو لاہور کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

یہ کیسا میلہ تھا جس میں لاہور سے ظفر اقبال، مستنصر حسین تارڑ، ڈاکٹر سلیم اختر، بانو قدسیہ، منوبھائی، سہیل وڑائچ، عارف وقار، قاضی جاوید، وجاہت مسعود، ڈاکٹر خواجہ ذکریا، عبدالرؤف یا سلمیٰ اعوان کو بلانے کی بجائے Zukiswa Wanner، Tania James، Claire Armistead، Mona Eltahawy، Rachel Holces، Richard Blair کو بلا کر ایلیٹ کلاس کی تسکین کا سامان پیدا کیا گیا اور افتتاحی اجلاس کے لئے شرمیلا ٹیگور کا انتخاب کیا گیا۔ یہی حال رہا تو 2020 کے میلے کے افتتاحی سیشن سے کترینہ کیف خطاب فرمائیں گی اورموضوع ہوگا ”سلمان خان اور لاہور کے پہلوان، ایک تقابلی جائزہ! “

لاہور، کراچی، فیصل آباد جہاں جہاں بھی یہ ادبی میلے منعقد ہوتے ہیں، بہرحال یہ مثبت بات ہے بشرطیکہ اس سے طبقاتی بالادستی عیاں نہ ہو اور مقامی ادبی تحقیر محسوس کرے لیکن ایک سوال ان شہروں کی یونیورسٹیوں کے وی سی صاحبان سے بھی پوچھا جانا چاہیے کہ جناب والا! آپ کی یونیورسٹی کو اس قسم کا ادبی میلہ منعقد کروانے کی بھی توفیق کیوں نہ ہوئی جس میں انتظامات اور کوریج تو LLF اورKLF جیسی شاندار ہو اور ادیب پاکستانی ہوں؟ کیا گورنمنٹ کالج لاہور اور کیا پنجاب یونیورسٹی اور کیا جامعہ کراچی ایک سے بڑھ کر ایک نام، مگر حال یہ کہ سال میں ایک کتاب میلہ کرواتے ہیں اور ڈھنڈورا اس کا یوں پیٹتے ہیں جیسے لندن لٹریری فیسٹیول کو مات دے دی۔ اسی قحط الرجال کی بنا پر یہ ”شرمیلا ادبی میلہ“ غنیمت لگا!

کالم کی دم، جن احباب کا خیال ہے کہ اس کالم کا عنوان ”انگور کھٹے ہیں“ ہونا چاہیے تھا ان کی خدمت میں عرض ہے کہ فدوی لاہور کے ادبی میلے میں انتظار حسین صاحب والی نشست میں مدعو تھا مگر میلے کے شیڈول میں تبدیلی میری دیگر مصروفیات سے ٹکراگئی جس کی وجہ سے میں شرکت نہ کرسکا۔
سنہ اشاعت: 2016۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 75 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *