صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت


صدر ٹرمپ فروری کے آخری عشرے میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا دورہ بھارت ہر حال میں ہی اہمیت کا حامل ہونا تھا مگر صدر ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر غور کیا جائے تو اس کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ امریکہ اور بھارت کے مابین پیار کی پینگوں کا آغاز اس غلطی کا نتیجہ ہے جو کارگل کے منصوبہ سازوں نے کوئی 21 برس قبل کی تھی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کوئی ایسا موقع بھارت کو نہیں مل رہا تھا کہ جس کے ذریعے وہ امریکہ کی قربت کی منزل کو حاصل کر سکے۔

کارگل کی غلطی نے بھارت کو یہ موقع فراہم کر ڈالا تھا کہ وہ امریکہ سے معاملات کو آگے بڑھانے کی اپنی خواہش کو عملی جامہ پہنا سکے۔ اس کے بعد کلنٹن، بش جونیئر اور اوباما نے بھارت کے دورے کیے جن میں بش دور میں تو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی جیسا معاہدہ کرنے میں بھارت کامیاب ہو گیا۔ انہی دنوں اپنی سٹریٹجک مفادات کے حوالے سے امریکہ صف بندیاں کر رہا تھا۔ چین کے حوالے سے ان مفادات کو حاصل کرنے کے لئے بھارت امریکہ کا اتحادی بن گیا اور امریکہ نے اپنی انڈو پیسفک سٹریٹجی کو طے کر لیا۔ اور بھارت کو اس میں کردار دے دیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ اپنے سٹریٹجک مفادات کو حاصل اور انہیں برقرار رکھنے کی غرض سے اپنے اتحادیوں کو تجارتی معاملات میں سہولیات فراہم کرنے کی حکمت عملی پر گامزن رہا۔ یورپ، ایشیاء وغیرہ میں اس کا طریقہ کار یہی رہا جس سے امریکی معیشت ایک دباؤ میں رہتی تھی۔ صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے کے وقت تک امریکی معیشت کے ان اثرات سے عام امریکی کی زندگی متاثر ہونے لگی۔ لہٰذا ٹرمپ اس انتخابی نعرے کے ساتھ میدان میں آئے کہ سٹریٹجک مفادات صرف امریکہ کے نہیں بلکہ اس کے اتحادیوں کے بھی ہیں۔

لہٰذا امریکہ ان مفادات کے حصول اور برقرار رکھنے کی جو قیمت ادا کر رہا ہے وہ اس قیمت کا ایک حصہ اب اپنے اتحادیوں سے ادا کروانا چاہتا ہے۔ اپنی بات پر ثابت قدم رہنے اور ثابت کرنے کی غرض سے ٹرمپ نے چین سے تجارتی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تا کہ اس کے اتحادیوں کو بھی علم ہو جائے کہ وہ کسی تصادم کی پرواہ نہیں کر رہا۔ اس کے ساتھ یورپ وغیرہ سے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے ٹیرف کے معاملات کو سامنے لایا اور اسی دوران بھارت کو بھی تین سال قبل ایک دھکا دے دیا۔ جب اس کی سٹیل اور ایلومینیم کی مصنوعات پر ٹیکس چھوٹ کو ختم کر کے ان پر ٹیرف کو بڑھا دیا۔

بھارت کے لئے یہ افتاد کی مانند تھا کیونکہ وہ اپنے آپ کو امریکہ کی انڈوپیسفک سٹریٹجک کا کلیدی کردار تصور کرتا ہے۔ مگر ٹرمپ نے یورپ کی نہیں پرواہ کی جو ٹرانس اٹلانٹک سکیورٹی سے وابستہ ہے تو انڈیا کی بھلا کیا کرتا۔ بھارت نے رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کی زرعی اور طبی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیا۔ لیکن بھارتی معیشت کا امریکی معیشت سے بھلا کیا مقابلہ۔

بھارتی معیشت اس وقت تنزلی کا شکار ہے۔ گزشتہ 50 برسوں میں سب سے زیادہ شرح بے روزگاری اس وقت بھارت میں موجود ہے جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق اس سال بھارت کی شرح ترقی بھی 4.8 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ جو بے روزگاری کے اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ لہٰذا انڈیا امریکہ سے کسی بھی قسم کی تجارتی بد مزگی کے خاتمے کے لئے امریکہ سے معاملات کا حل چاہے گا۔ مودی نے ٹیرف بڑھا کر اپنی مقامی انڈسٹری کو بچانے کی کوشش کی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

امریکہ کا یہ صدارتی انتخابات کا سال ہے اس لئے صدر ٹرمپ رائے دہندگان کو یہ دکھانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بھارت جیسے ملک سے ایک ایسا تجارتی معاہدہ کر لیا جس کے ذریعے بھارت کی مارکیٹ امریکیوں کے لئے زیادہ کھل گی۔ اور امریکہ بھارت سے جو 25 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ برداشت کرتا ہے اس کا بھی تدارک کرڈالا کہ یہ خسارہ بتدریج کم ہوتا چلا جائے۔ ٹرمپ بھارت کے لئے ٹریڈ پالیسی اور انڈوپیسفک سٹریٹجی کو اکٹھا ملا کر آگے بڑھنا چاہتا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ انڈیا کوئی امریکہ کی محبت میں انڈوپیسفک سٹریٹجی یا چین کے مقابلے میں نہیں کھڑا ہونا چاہتا۔

بلکہ انڈیا یہ سمجھتا ہے کہ یہ انڈیا کی ضروریات میں سے شامل ہے۔ جب وہ یہ سمجھتا ہے تو پھر اس کی قیمت بھی ادا کرے۔ تنہا امریکہ کیوں ادا کرے۔ اس تمام ٹریڈ پالیسی کے باوجود امریکہ کامیابی سے سٹریٹجک مفادات میں بھارت کو استعمال کر رہا ہے۔ مثلاً ٹرمپ کے دورے میں 2.5 ارب ڈالر کے امریکی ہیلی کاپٹروں کے معاہدے کی توقع ہے جبکہ بحریہ اور میری ٹائم پر بھی معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سائنس اور خلائی ریسرچ سنٹر کے قیام پر بات چیت کی توقع کی جا رہی ہے۔ جس کے مقاصد اور بھی ہو سکتے ہیں۔

بھارت ایک طویل عرصے سے علاقے میں تھانیداری حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس لئے وہ ہر قیمت پر یہ چاہے گا کہ صدر ٹرمپ کے دورے میں وہ اپنے عوام کو یہ تاثر دینے میں کامیابی حاصل کر لے کہ امریکہ سے تعلقات میں گرم جوشی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اور امریکہ بھارت کو ماضی جتنی ہی اہمیت دے رہا ہے۔ اپنی سفارتی کامیابیوں کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے لئے بھارت یہ چاہے گا کہ صدر ٹرمپ بھارت کی سر زمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کے حوالے سے کوئی منفی جملہ ادا کرے بلکہ وہ سر توڑ کوشش کر رہا ہے کہ وہ سی پیک کے حوالے سے بھی کوئی منفی گفتگو کر ڈالے۔

مگر واشنگٹن سے مصدقہ خبریں ہیں کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے صدر ٹرمپ کو تجویز کیا ہے کہ سی پیک کو صرف فوکس کرتے ہوئے وہ کوئی گفتگو نہ کرے بلکہ بی آر آئی کے حوالے سے گفتگو نہ کرے۔ لیکن بھارت ابھی تک اپنا یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہا ہے۔ ان تمام حالات سے پاکستان لا تعلق نہیں رہ سکتا۔ تا کہ صدر ٹرمپ کے دورہ بھارت کے ہم پر کوئی منفی اثرات نہ پڑیں۔ لیکن اس کے لئے بھر پور حکمت عملی کی ضرورت ہے لیکن ہم تو ملائیشیاء کی کانفرنس کے حوالے سے کوئی حکمت عملی نہ بنا سکے بلکہ ہمارے دوست ملک ترکی نے اس نقصان کا تدارک کرنے کے لئے یہ اقدام کیا کہ اس کے صدر کو پاکستان آنا پڑا کہ دوری کا تاثر رفع ہو سکے۔ ایسی فاش غلطیوں کے بعد صدر ٹرمپ کے دورے کے حوالے سے کسی سنجیدہ حکمت عملی کی موجودگی بہت مشکل محسوس ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS