نیشنل پریس کلب کے رکن اورصحافی کا تعین؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کو صحافتی اداروں میں دارالحکومت کا پریس کلب ہونے کے ناتے ایک انفرادیت حاصل ہے اور دارالحکومت کا پریس کلب ہونے کی وجہ سے اس کا معیاری ہونا بھی اہم معاملہ ہے۔ اگر پریس کلب میں صحافت کے معیار کو قائم رکھا جائے تو اس کے تقاضے بہتر ادا ہو سکتے ہیں لیکن اگر صحافی کو ”تولنے کے بجائے گننے“ سے صحافت کا تعین کیا جاتا رہے تو اس سے معیاری صحافت کے تقاضے پورے نہیں کیے جا سکتے۔ گزشتہ کئی سال سے نیشنل پریس کلب میں غیر صحافی افراد کی ممبر شپ کیے جانے کی باتیں عام ہیں۔

ان دنوں اسی حوالے سے ایک کمیٹی قائم کرتے ہوئے کئی ناموں کا اخراج کیا گیا ہے تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ غیر صحافیوں کے نام لسٹ سے خارج ہو چکے ہیں۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کسی کی ممبر شپ بارے اعتراض کیا جائے تب کارروائی ہو سکتی ہے جبکہ انتظامیہ کو خود یہ دیکھنا چاہیے کہ کون صحافی ہے اور کون محض کسی صحافتی ادارے وغیرہ سے منسلک ہونے کی وجہ سے صحافی ہونے کا دعوی کر رہا ہے۔

میں راولپنڈی پریس کلب کا اس وقت رکن بنا جب اسلام آباد پریس کلب کا وجود نہیں تھا۔ لیاقت روڈ پہ، لیاقت پارک کے پہلو میں پریس کلب کی پرانی عمارت اور سامنے ایک باغیچہ۔ اس وقت نواز رضا صاحب پریس کلب کے صدر تھے اور مسلسل کئی سال سے صدر کا انتخاب جیتتے آ رہے تھے۔ بعد ازاں آبپارہ میں پریس کلب کا ایک چھوٹا سا دفتر قائم ہو اور پھر باقاعدہ اسلام آباد پریس کلب کا قیام ہوا جس میں راولپنڈی پریس کلب کے ارکان کی غالب تعداد شامل تھی۔

2004 میں نیوز ایجنسی ”این این آئی“ کو از خود خیر آباد کہا تو چند دنوں بعد ہی پریس کلب کی رکنیت خارج کر دی گئی۔ ایک مرتبہ معلوم کرنے گیا لیکن مناسب جواب نہ مل سکا۔ چند سال قبل نیشنل پریس کلب اسلام آباد ممبر شپ کے لئے گیا لیکن وہاں کا ماحول اور رویہ دیکھ کر ممبر شپ کے اپنے کاغذات وہیں چھوڑ کر لوٹ آیا۔ پریس کلب کے ذریعے تین چار بار صحافیوں کو پلاٹ ملے، بہت جونیئر بھی اس سہولت سے مستفید ہوئے۔ میں شاید پرانے ممبران میں واحد صحافی ہوں جسے صحافی پلاٹ نہیں ملا۔ اسی طرح نیشنل پریس کلب کی انتظامیہ کو اس بات پہ بھی توجہ دینا چاہیے کہ نئی ممبر شپ کے لئے بھی طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے تا کہ ایسے حقیقی صحافی بھی نیشنل پریس کلب کی رکنیت حاصل کر سکیں جن کا یہ حق ہے۔ پریس کلب کو اس کے کردار سے ہم آہنگ اور معیار پر خصوصی توجہ دیا جانا ضروری ہے۔

صحافی، جو اشاعت کے کسی ذریعے کو استعمال میں لاتے ہوئے لوگوں کو اطلاعات، معلومات فراہم کرتا ہے۔ ایسا خبر، کالم، مضمون، تصویر کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی صحافی کہلائے جانے کے لئے چند خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ صحافی کی خصوصیات میں صاحب علم ہو، اپنے علم میں اضافہ کرتا ہو، صاحب الرائے ہو، حساس محسوسات اور مشاہدے کا مالک ہو، جدید علوم حالات حاضرہ سے آگاہی، وغیرہ شامل ہیں۔

اس بات کی تعریف ضروری معلوم ہو تی ہے کہ صحافی کون ہوتا ہے؟ رپورٹر، سب ایڈیٹر، ایڈیٹر، نامہ نگار، کالم نگار، مضمون نویس، ادارئیہ نگار یا فیلڈ میں ادارے کی نمائندگی کرنے والا؟ اس بات کی تعریف اور اس کا احاطہ ضروری ہے کہ صحافی کون ہوتا ہے؟ کیا خبر پہنچانے والا؟ خبر بنانے والا، سب ایڈیٹر، ایڈیٹر اخبار کا مالک، میڈیاکے کسی ادارے کا اداریہ لکھنے والا، کالم یا مضمون نگار؟ صحافتی ادارے سے کسی بھی طور منسلک کارکن؟ یا پھر صحافت کی سیاست کرنے والا؟ یا کسی ایسے کے مفادات کے لئے کام کرنے والا جس نے اسے صحافتی ادارے میں ملازم رکھا ہوا ہے اور جو اپنے ادارے کے تمام افراد کے صحافتی کام سے اپنے مفادات کے لئے کسی ”ٹول“ (اوزار) کی طرح کا کام لیتا ہے؟

صحافت کی سیاست بھی ایک وسیع موضوع ہے کیونکہ صحافت کی سیاست کرنے والے اتنے موثر ہوتے ہیں کہ کسی حقیقی صحافی کو بھی غیر صحافی قرار دے سکتے ہیں۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ صحافت کی سیاست کرنے والے صحافی اپنا اصل صحافتی کام بہت ہی کم، برائے نام کر پاتے ہیں۔ بلعموم پاکستان کا میڈیا پیسے لے کر کوئی بھی معاملہ اٹھانے، کسی کو رگڑنے، مخصوص حلقوں کی مدح سرائی میں ملوث ہوتے ہوئے صحافتی تقاضوں کو سراسر نظر انداز کرتا نظر آ رہا ہے۔ بلا شبہ ہمارا میڈیا اب صحافت کے نام پر ”شوبز“ کے طور پر نظر آتا ہے۔ ہمارا آج کا میڈیا اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ملکی نظریات، قومی مفادات کے برعکس طاقت کا پجاری معلوم ہوتا ہے۔

ہمارا میڈیا ماضی میں آمریت، ملکی، عوامی مفادات کے لئے شاندار کردار ادا کرتا چلا آیا ہے لیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ ملکی صحافت کی پر فخر شخصیات کی جانشینی کا ’کال‘ پڑ گیا ہے۔ مفادات، مادیت، انحطاط پزیری کا سیلاب اکثرکو بہا لے گیا۔ اب ہمارا میڈیا یہ سمجھتا ہے کہ ”چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو“۔ عمومی معاشرتی گراوٹ کا رجحان ایک ایسا نمایاں پہلو ہے جو تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح صحافت پر بھی اثر انداز ہوا ہے۔ اب صحافت کے نام پر کئی امور کے علاوہ جھوٹ اور جہالت کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔ پہلے میڈیا (پریس) کے سامنے ملکی عوامی مفادات کا نکتہ توازن ہوتا تھا جبکہ اب مقصد کاروباری مفادات کا حصول بن کر رہ گیاہے۔ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ سرمایہ دار طبقات نے میڈیا کو مغلوب ہی نہیں بلکہ فتح کر لیا ہے۔

آج کی عمومی صحافت سے تو وہ بھانڈ بہتر ہے جو کہتا ہے کہ ”بھاگ لگے رینڑ، سرکاراں دی خیر روے، تے ساڈا روٹی پانڑیں چلدا روے، (یعنی اپنا مقام بے بسی واضح کر دیتا ہے، صحافی کی طرح خود کو عقل کل اور باکردار ظاہر کرنے پر زور نہیں دیتا) اپنی حیثیت اور مقام کا ذکر کرنے کے بعد بھانڈ کہتا ہے“ ساڈے چودھری صاب جتھوں لنگھدے نیں، تے لوگ اناں نوں تک کے نس جاندے نیں ”، دوسرا بھانڈ حیرت سے دریافت کرتا ہے کہ“ تیرا چودھری صاب بڑا بہادر ہوئے گا جے اساں تک کے لوگ نس جاندے نیں ”تو پہلا کہتا ہے“ نئی اوئے جھلیا، لوگ ڈردے نیں کہ او اناں دی جیباں تو پیسے نہ کڈ لے ”۔

سابق آمر جنرل ایوب کے سخت پابندیوں کے دور میں تو ان بھانڈوں نے ”آزادی اظہار“ کی لاج رکھ لی۔ اس وقت کسی شادی کی محفل میں فوجی و سول افسران، سیاستدانوں کے سامنے بھانڈوں کی طرف سے مذاق میں ایک تلخ حقیقت اکثر بے باکی سے بیان کی جاتی تھی جسے سن کر عوام ان کی جرات پہ حیران ہو جاتے اور افسران زیر لب مسکرا دیتے، ”پاکستان تے انڈیا نے کشمیر دا فیصلہ کر دتا اے“ دوسرا بھانڈ اشتیاق سے پوچھتا ”کشمیر دی آزادی دا؟ “ تو پہلا بھانڈ کہتا ہے، ”نئی اوئے مورکھا، کشمیری پاکستان دے تے کشمیر ہندوستان دا“۔

کئی صحافی سمجھنے لگے ہیں کہ اب ملک میں کچھ بھی ”نوبل“ رہا نہیں تو مادی مفادات سے خود کر محروم کرتے ہوئے اپنے پورے خاندان کو کیوں سزایاب کیا جائے۔ یہ تو ”پیغمبری“ پیشہ ہے، اگر کسی بھی پیشے کو مادی مفادات کے لئے آڑھت میں بدلنا پڑے تو کوئی دوسرا ’دھندا‘ اپنانا عین مناسب ہو گا۔ اس ”پیغمبری“ پیشے میں حقیقی صحافی کم سہی لیکن ہیں ضرور جو ہمارے معاشرے کے تاریک اندھیروں میں روشنی کا نشان ہیں۔ ہمارے طبقاتی نظام معاشرت میں یہ بہت مشکل ہے کہ صحافی سیاسی نظریات سے عاری ہو، لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے صحافی شخصیت اور مفاد پرستی کے علاوہ تعصب میں بھی محدود نظر آتے ہیں۔ مختلف منفی رجحانات کے ساتھ ساتھ سفارش بھی ہماری صحافت کا لازمی جز بن چکا ہے۔ ایسے صحافی ڈھونڈنے پڑیں گے جو صحافت کو ایک مقدس مشن (نوبل کاز) کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔

ایک مرتبہ ایک صحافی دوست کے ساتھ آزاد کشمیر کے ایک شہر کے پریس کلب میں تھوڑی دیر کے لئے گیا۔ وہاں چند ”شوقین مزاج صحافی“ موجود تھے۔ میرا صحافی دوست ماحول کو دیکھتے ہوئے اپنے صحافی ہونے میں ذرا تامل دکھانے لگا، اس پر میں نے اپنے دوست سے کہا کہ آپ تو ایک سینئر صحافی ہیں، دانشور ہیں۔ اس پروہ صحافی دوست بے ساختہ بول اٹھا ”نہ بابا نہ، اگر سامنے بیٹھے یہ دوست صحافی ہیں تو میرا صحافت اور دانشوری سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں“۔

اسی طرح ایک مرتبہ ایک سٹڈی رپورٹ کی ابتدائی تیاری کے سلسلے میں ایک فرانسیسی خاتون نے مجھ سے آزاد کشمیر کے چند صحافیوں کے نام طلب کیے جن کے کیے گئے صحافتی کام کا شمار اس سٹڈی رپورٹ کا ایک حصہ تھا۔ میں نے مظفر آباد سمیت آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع پر طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے چند معروف صحافتی شخصیات کی فہرست تیار کر لی۔ اس خاتون نے ایک ایک نام پہ جرح شروع کر دی، یہ کون ہیں، کیا کرتے ہیں؟ میں نے عرض کی کہ صحافی ہیں، پھر سوال ہوا کہ صحافی تو ہیں پر کرتے کیا ہیں؟

مجھے الجھن میں دیکھ کر کہنے لگیں، خبر بناتے ہیں، ایڈیٹنگ کرتے ہیں، رپورٹس بناتے ہیں، کالم مضامین یا اداریہ لکھتے ہیں، اور کس ادارے کے لئے؟ میں نے تو آزاد کشمیر کے ہر ضلع کو برابر کی نمائندگی دیتے ہوئے پچاس سے زائد افراد کی فہرست تیار کی تھی لیکن جب نئی وضاحت کی روشنی میں شارٹ لسٹنگ ہوئی تو چند ہی نام باقی رہ گئے جس سے مقصد پورا نہیں ہوتا تھا۔ چناچہ مجھے ٹیلی فون پر رابطے کر کے صحافیوں کے ناموں کی مطلوبہ فہرست مکمل کرنا پڑی۔

علمی قابلیت صحافت کے لئے بنیادی شرط ہے۔ اس کے محسوسات طاقتور ہونے چاہئیں۔ صحافی کو صحافتی اخلاقیات، صحافتی اقدارکے ساتھ ساتھ صحافتی مقاصد سے بھی بخوبی آگاہ ہونا چاہیے۔ اسے کسی بھی بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، جیسا کہ ہمارے آج کے اکثر صحافی خاص کو اہم اور غیر خاص کو غیر اہم سمجھتے ہیں۔ صحافی کو حکومتی، سرکاری اداروں، عہدیداران، شخصیات کے دائرہ کار کے ساتھ ساتھ اپنا دائرہ کار بھی معلوم ہونا چاہیے۔

صحافت وہ شعبہ ہے جسے ہر شعبے کے بارے میں علم ہونا چاہیے کہ ہر شعبہ، ہر علم الغرض ہر شے صحافت کا موضوع ہے۔ ملکی اداروں کا اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرنا، سیاسی جماعتوں کے نام پر شخصی، خاندانی، علاقائی، فرقہ وارانہ گروپوں کا وجود اور اسی صورتحال میں سیاستدانوں اور ملکی سیاسی نظام کے معیار میں گراوٹ، شہری حقوق کی ابتر صورتحال، مختصر یہ کہ انحطاط پزیر معاشروں میں جہاں عمومی طور پر عوام بھی برائی کو اچھائی کے طور پر قبول کر چکے ہیں، صحافی کے کردار کی اہمیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ صحافی ملکی اداروں، عہدیداران وغیرہ کے دائرہ کار، کردار اور عوامی بالادستی کے عالمگیر تصورات کی روشنی میں آگاہی، محاسبے اور تجزیے سے ایسی درست راہوں کا تعین کر سکے جو عوام و ملک کے اتھ ساتھ تمام عالم انسانیت کی بہتری کے لئے بھی ضروری ہے۔ مختصر طور پر وسیع معنوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب سیاست اور صحافت طوائفیت میں بدل جائے! تو وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *