ہسپتال کے چوکھٹے اور قبرستان کی تصویریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ رواج تو اِس علاقے کا ہے ہی نہیں۔ ایسی قبریں تو میں نے سمر قند میں افراسیاب کے کھنڈرات کے کنارے واقع قدیم قبرستان ’شاہی زندہ‘ (زندہ بادشاہ) میں دیکھی تھیں۔ اس قبرستان کو یہ نام نبی پاکﷺ کے غسال، چچا زاد بھائی قثم بن عباس  کی نسبت سے ملا ہے۔ آپ  غسل دیتے وقت حضر ت علی کے ساتھ جسم اطہر کو کروٹیں بدلتے رہے تھے۔ ان کا روضہ مبارک اس قبرستان میں موجود ہے۔ وہاں بہت سی قبروں کے کتبے پر صاحب قبر کی مورت گودی ہوئی ملتی ہے۔

ہم نے اپنے ملک میں تو یہ کہیں بھی نہیں دیکھا۔ لیکن اس دور اُفتادہ علاقے میں جہاں مذہبی انتہا پسندوں کی حکومت رہی ہے، جہاں عورتیں ٹوپی والا برقع پہنتی ہیں، ایک قبر پر تصویر اور وہ بھی صاحب قبر کے ساتھ ایک جوان عورت کی، میرے لئے انتہائی حیران کن تھا۔ عوام کا اس قبر پر تانتا بندھا ہوا تھا۔ پھولوں کے ڈھیر میں موجود، آبنوسی فریم میں جڑی ہوئی، کیا کمال کی تصویر تھی! فنکار نے انتہائی مہارت سے پھیکے پھیکے واٹر کلر کے ساتھ زندہ اعضأ تخلیق کر دیے تھے۔ یہ اس کا اعجاز تھا کہ موئے قلم کے ایک ایک بال نے بے جان لکیروں میں جان ڈال دی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ دونوں کسی کام میں مصروف ہیں اور ابھی ان کے ہاتھ ہلنا شروع ہو جائیں گے۔ اس قبر کی مجاور بھی ایک بوڑھی عورت تھی۔ اس کے سامنے نذرانوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے۔

اس علاقہ میں صدیوں سے پر امن لوگوں کا بسیرا رہا ہے۔ تمام مذاہب کے پیرو کاروں نے مل جل کر زندگی گزاری۔ نئے مذاہب نے اس دھرتی سے جنم لیا۔ یہاں کے باسیوں نے ہر ایک کے لئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ اس خطے کی کائنات تکثریت پسند مقامی مذاہب کی بنیاد پر کھڑی تھی۔ یہ ان صوفیا کی زمین ہے جو کہتے تھے ان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ وہ تو ’وحدت الوجود‘ کے ماننے والے تھے کہ وجود صرف ایک ہی ہے۔ اسی لئے اس دھرتی نے گوتم سے نانک تک، زرتشت سے رشبھ دیو تک ہر کسی کواپنا لیا۔ امن و آشتی کی اس دھرتی میں نہ جانے کب جاہلیت کے دور والی عرب و عجم کی لڑائی اور یورپی اقوام کی کھینچا تانی آ گئی اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والے ایک دوسرے کے سر کاٹنے لگے۔

شمالی ریچھ حملہ آور ہوا۔ پھرمغربی گدھے و ہاتھی کی جوڑی نے اس علاقے کو تاراج کرنا چاہا۔ ہمسائے میں آگ لگی تو لڑائی ہمارے آنگن میں بھی آ گئی۔ چہار سو خون کی ارزانی ہوئی۔ تین دہائیاں گزر گئیں۔ ہمارے شہر بم دھماکوں سے گونج اٹھے۔ بارودی مواد سے بھری گاڑیاں ہمارے سکولوں، ہسپتالوں سے لے کردرباروں تک سے ٹکرا دی گئیں۔ ہمارے نہتے ڈاکٹر، استاد، بے گناہ شہری، نمازی سب کے خون سے بازار کی گلیاں بھر گئیں۔ ہمارے بچے زندہ جلا دیے گئے، ہمارے جوانوں کے گلے کاٹے گئے لیکن ہم حلق بریدہ بھی چلاتے رہے کہ ہمیں یہ سب قبول نہیں۔ قوم نے انگڑائی لی اور ہر دہشت گرد اکھاڑ پھنکنے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔

حکمرانوں نے حوصلہ کیا، فوج نے ہمت اور علاقے آزاد کروا لئے گئے۔ اب باری تھی ان علاقوں میں سول حکومت کے قیام کی، وہ علاقے جہاں پولیو کے قظرے پلانے والی ورکرز کو گولیاں مار دی جاتی تھیں، جہاں سکول جلا دیے گئے تھے، ہسپتال اجڑ چکے تھے۔ بہت سے ڈاکٹرز اساتذہ اور ملازمین کی ضرورت تھی۔ ابھی بھی ٹارگٹ کلنگ جاری تھی۔ ابھی بھی حملے ہو رہے تھے۔ بم دھماکے ابھی بھی جاری تھے۔ لیکن قوم کا کوئی بھی فرد ہمت نہیں ہارا۔ سب نے اپنا حصہ ڈالا اور سب قربان ہوئے۔

جب ہم علاقے میں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ علاقے میں ویرانی کم ہونا شروع ہو گئی تھی۔ اب مقامی لوگ واپس اپنے گھروں کو آ رہے تھے۔ زیادہ تر دکانیں جل کر خاکستر ہو چکی تھیں۔ دھوئیں اور راکھ سے اٹا بازار ملبے کا ڈھیر بنا ہوا تھا۔ ویران دکانوں کے ٹوٹے چھجے، جلے ہوئے دروازے، رہی سہی بجلی کی تاروں پر خون آلودہ چیتھڑے جن میں انسانی گوشت بھی شامل تھا اور جو سڑ کر سیاہ ہو چکے تھے، پوری کہانی سنا رہے تھے۔ کچھ لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کو سیدھا کر رہے تھے۔

بازار میں واحد جگہ جہاں تھوڑی رونق نظر آئی، ایک نیلی ادھڑی ہوئی کاشیوں سے مزین مسجد تھی جس کا مینار چھت پر گر ا ہوا تھا، دروازہ ندارد۔ مسجد کے ادھڑے فرش پہ کچھ بچے بجری اور پتھروں پر بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ ہم جس بھی گھر میں گئے ہمیں کوئی فرد ایسا نہ ملا جس کا کوئی قریبی عزیز اس جنگ میں شہید نہ ہوا ہو۔ گھر اجڑ چکے تھے۔ بہت سے لوگ بیمار اور زخمی تھے۔ علاقے میں ایک ہسپتال کی اشد ضرورت تھی۔ عارضی طور پر قائم ٹینٹ ہسپتال میں بہادر ڈاکٹر اور نرسیں دن رات کام کر رہے تھے۔ ان پر حملے ہوتے تھے۔ لیکن رضاکاروں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پرانے ہسپتال تباہ ہو چکے تھے۔ ملک کے سب سے بڑے بلڈر ’سالک صاحب‘ کی فرم علاقے میں حکومت کے زیر انتظام سڑکوں کا جال بچھا چکی تھی۔ صاحب نے اپنی جیب سے کچھ رقم عطیہ کی۔ باقی رقم حکومت اور غیر ملکی ڈونر اداروں نے فراہم کی اور ایک بڑے ہسپتال کی تعمیر شروع کر دی گئی۔

ہسپتال مکمل ہو نے کے قریب تھا۔ اس کے افتتاح سے پہلے ملکی اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا۔

مقابلہ پینٹنگ –

ہسپتال کے داخلی ہال میں آویزاں کرنے کے لئے ملک کی مشہور شخصیات کی واٹر کلر پینٹنگ بنانے کا مقابلہ۔

شرائط:

مقابلہ میں حصہ لینے والا ہر شخص تین تصویریں بنائے گا۔ ( 1 ) ۔ با نی مملکت خداد د۔ ( 2 ) مفکر اعظم ( 3 ) اپنے پسندیدہ ہیرو کی

اول آنے والے کو تعریفی سند اور مبلغ ایک لاکھ روپیہ۔ جس مصور کی تصویر آویزاں کرنے کے لئے چنی جائے گی اسے تعریفی سند اور مبلغ بیس ہزار روپیہ

مرکزی ہال میں سات پینٹنگز لگائی جائیں گی۔ باقی تصاویر علاقے کے دوسرے سرکاری ادارے خرید سکتے ہیں۔ قیمت فروخت مبلغ ایک ہزارروپیہ بنانے والے کو دی جائے گی۔ جو تصویر فروخت نہ ہو سکی وہ بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔ نوٹ: سیاسی لیڈروں کی تصاویر ناقابل قبول ہوں گی۔

ہم علاقے کے مشہور مصور بہزادکے پاس گئے اور پو چھا کہ وہ کیا بنائے گا۔ کہنے لگا ”روز سوچتا ہوں۔ کس کی تصویر بناؤں؟ اتنے لوگ قربان ہو گئے۔ کس کی شبیہ پردے پرلکیروں اور کسے بھول جاؤں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ “

میں نے مشورہ دیا ”جس کی قربانی آپ کے نزدیک سب سے زیادہ ہے۔ “

بہت سوچنے کے بعد بولے ”کسی کی قربانی بھی کم نہیں۔ جنہوں نے اپنی جان قربان کر دی ان کو میں کیسے ترازو کے پلڑوں میں ڈال سکتا ہوں۔ ان کا حساب کتاب تو اللہ نے بھی نہیں کرنا۔ “

”یہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ لیکن کسی ایک کا تو چناؤ کرنا ہی ہے۔ “

”میں روز رنگ اور برش لے کر کینوس کے سامنے بیٹھ جاتا ہوں ایک لکیر کھینچتا ہوں اور رونا شروع کر دیتا ہوں۔ تمام خیال گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ میں نے کئی شہدا دیکھے۔ ان گنت جنازے ان ناتواں کندھوں پر اٹھائے۔ شہید کی کھلی آنکھوں میں موجود جوت تو صورت پذیر ہو ہی نہیں سکتی، میں ان کو کیسے رنگوں سے لکیروں گا؟ “

”تو آپ کسی زندہ ہیرو کی تصویر بنا لیں۔ “

”تصویر تو میں کسی شہید کی ہی بناؤں گا۔ اگر چہ وہ زندہ ہی ہوتے ہیں لیکن تم دیکھنا میں اسے کینوس پر زندہ کر دوں گا۔ جو بھی بناؤں گا اس میں جان ڈال دوں گا۔ ”

مقررہ مدت میں بہت سی تصاویر موصول ہوئیں۔ افتتاح کے دن قریب آ رہے تھے۔ تصویروں کے چناؤ کی کمیٹی کا اجلاس جاری تھا۔ سلیکشن بہت مشکل تھی۔ پورے ملک سے مصوروں نے ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار بھیجا تھا۔

بانی مملکت اور مفکر اعظم کی تصاویر کا چناؤ جلدہو گیا۔ تیسری تصویر سپہ سالار کی متفقہ طور پر فوراً ہی سلیکٹ ہو گئی۔ وہ بانی مملکت کی دائیں طرف آویزاں کر دی گئی۔

چوتھی اور پانچویں تصویر کے لئے شہدا کا نام آیا۔ ایک تو اس شہید کی تصویر لگا دی گئی جس کو ملک کی پہلی جنگ میں سب سے بڑا فوجی اعزاز ملا تھا۔ اب کمیٹی کو سب سے مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ بہت دیر تک بحث جاری رہی اور مختلف تصویریں لگا کر دیکھی گئیں لیکن بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ کسی ایسے شہید کی تصویر لگائی جائے جو کہ چوتھی تصویر کی خوبصورتی کو متاثر نہ کرے اور اس جیسا ہی جوان ہو۔ انتہائی خوبصورت آنکھوں والے، دشمن کی فوج کے سامنے مسلسل کئی راتوں تک ڈٹے رہنے والے، ملک کے ایک بڑے شہر کے دفاع میں جان قربان کرنے والے، افسر کی تصویر لگا دی گئی۔

اب آخری دو کا چناؤ ہونا تھا۔ ایک تصویر اس علاقے میں پنپنے والے مذہب کے بانی کی تھی جو کہ کئی سو سال پہلے وفات پا چکا تھا۔ اس کو مختلف مذاہب کے پیرو کار اپنا مانتے تھے۔ اس کی آخری یادگار ادھر ہی تھی لیکن چونکہ اس کے پیرو کار ہجرت کر کے دشمن ملک چلے گئے تھے اس لئے اس کو ابھی ایک طرف کر دیا گیا۔ ایک اور تصویر جس پر بہت بحث ہوئی وہ تھی علاقے کے مشہور شاعر کی۔ تصویر میں ایک طرف اس کی نظم ’ہارٹ اٹیک‘ بھی لکھی گئی تھی۔

لیکن شاعر کے ہاتھ میں سگریٹ تھی اور اس کی تصویر لگانے سے دوست ملک کی ناراضگی بھی خطرہ تھا، اس لئے اسے بھی ایک طرف کر دیا گیا۔ پھر ایک ایسے بزرگ کی تصویر پر بحث شروع ہو گئی جس کے اس علاقے میں بہت سے مرید تھے اور اس نے ملک کے معرض وجود میں آنے سے پہلے کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ اس کے دو مرید اس کمیٹی میں بھی موجود تھے۔ اس کے چناؤ پر کچھ دیر بحث جاری رہی اور پھر اسے متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔

اب آخری جگہ خالی بچی تھی۔ بہت سی اعلی پائے کی تصویریں موجود تھیں۔ کمیٹی کا سربراہ بولا ”میرا دل بہت دکھی ہے کہ جگہ نہ ہونے کی وجہ سے اتنی اہم شخصیات کی تصویروں کا چناؤ نہ ہو سکا۔ کچھ پینٹنگ کی خوبصورتی دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ ان کے لئے ایک اور ہسپتال بناناچاہیے تاکہ ان کو بھی شایان شان جگہ مل سکے۔ ہمارے پاس جگہ اگرچہ محدود ہے لیکن ہمارے دل بہت کشادہ ہیں اور یہ سب اس میں بستے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ ہم نے مختلف طبقات کو نمائندگی دے دی ہے لیکن حکومت کے کسی بھی عوامی مدد گار کو ہم خراج تحسین پیش نہیں کر سکے اس لئے میری رائے ہے کہ اس ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ دینے والے سالک صاحب کی تصویر اس جگہ پر لگنی چاہیے۔ وہ اقلیت کی نمائندگی بھی کرتے ہیں اور ان کے نام کا ملک کے بڑے شہر میں خیراتی ہسپتال بھی ہے۔ ان کی ہسپتال سے دو نسبتیں ہیں، اس لئے وہ سب سے موزوں شخصیت محسوس ہوتے ہیں۔”

ایک ممبر نے کچھ مخالفت کی تو اس کا ساتھ بیٹھا ممبر بولا ”کیا تمہیں حصہ نہیں ملا؟ “

آخری تصویر بھی متفقہ طور پر منتخب کر لی گئی۔

ہمیں افتتاحی تقریب کا دعوت نامہ مل چکا تھا۔ بہزاد کا شہپارہ دیکھنے کا شوق تھا۔ اس نے کس شہید کی تصویر بنائی اور وہ کیسی تھی؟ لیکن ہمیں اطلاع ملی کہ کمیٹی میں پیٹنگ کا معیار تو زیر بحث آیا ہی نہیں۔ ہم سب بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ بوڑھے بہزاد سے پو چھا تو وہ بھی خاموش رہا۔ ہم نے ایک نظر تمام پینٹگز کو دیکھا اور سیدھے واپس اپنے شہر کی طرف چل پڑے۔

اب کئی سالوں کے بعد ادھر دوبارہ آنا ہوا۔ بہزاد مر چکا تھا۔ اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے قبرستان آئے۔ اس دہشت گردی نے قبرستان کو بہت بڑا کر دیا تھا ہر قبر پر کوئی نہ کوئی بیٹھا اپنے پیارے کو یاد کر رہا تھا۔ بہزاد کی قبر کا پو چھا تو اس طرف اشارہ کر دیا گیا جہاں بہت زیادہ ہجوم جمع تھا۔ اس کو مرے تو کافی مہینے گزر چکے تھے۔ رش دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔

وہاں تین قبریں تھیں جن کے پیچھے ایک دیوار پر یہ تصویر آویزاں تھی۔ نیچے اس کے دائیں کنار ے پر ’بہزاد‘ لکھا صاف نظر آ رہا تھا۔

میں حیران تھا قبر پر تصویر لگانا تو اس علاقے کا رواج ہی نہیں؟

اور پھر قبریں کن کی ہیں؟ ہاتھ باندھے کھڑے ایک شخص نے بتایا:

”یہ جو بڑھیا ہے اس کے دو بچے بم دھماکے میں زخمی ہو گئے تھے۔ علاج ہوا، ٹھیک ہو گئے۔ پھر ایک دن اس کے گھر پر ڈرون حملہ ہوا اور اس کا سارا خاندان شدید زخمی حالت میں نئے ہسپتال لایا گیا لیکن کوئی بھی جانبر نہ ہو سکا۔ یہ اسی ہسپتال کے باہر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک دن کوڑے کے ڈھیر سے اسے یہ تصویر ملی تو یہ اسے لے کر سیدھی قبرستان آ گئی اور اس دن سے یہ ادھر بیٹھی ہے اور بار بار پکارنا شروع کر دیتی ہے۔ “

ایک دم بوڑھیا نے چلانا شروع کردیا

” تم دونوں زندہ ہو، اٹھو! میرے بچوں کو بچاؤ۔ “

تصویر اس ڈاکٹر اور نرس کی ہے جنہوں نے لاکھوں زخمیوں کا علاج کیا اور خود بم دھماکے میں مارے گئے۔

( یہ افسانہ نارووال کے ضلعی ہسپتال میں لگی تصویریں دیکھ کر لکھا گیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *