ماں دی بولی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں کچھ چیزوں نے ارتقائی ترقی نہیں کی بلکہ وہ یک لخت آئیں اور نا صرف اس معاشرے پہ طاری ہو گئیں بلکہ لگتا ہے کہ جانے انجانے میں ہم نے انہیں خود پہ مسلط بھی کر لیا ہے۔ وہ چاہے ہماری روزمرہ زندگی کی ضروریات ہوں ’ہمارے رہن سہن کے طریقے ہوں‘ ہمارے رسم و رواج ہوں ’ہمارے تہوار ہوں یا ہمارے ملک و قوم سے منسلک کوئی بھی واقعہ یا کوئی یاد‘ اوراس پہ ستم ظریفی یہ کہ اس سارے عمل میں ہمارے ہاں بولی جانیں والی زبانیں بھی اس آفت سے محفوظ نہیں رہ سکیں۔

نومولود بچے کو اس دنیا میں جس چیز کی ضرورت سب سے پہلے پیش آتی ہے وہ ماں کی ممتا ہے۔ کیونکہ وہی اک ہستی ہے جو کچھ بولے کہے بغیر اپنے بچے کی بات سن اور سمجھ سکتی ہے اور وہ بچہ اس ممتا کا اس قدرعادی ہو جاتا ہے کہ اسے یہ ممتا اپنی زندگی کے ہر حصے ’ہر سکھ دکھ اور ہر موقعے پہ چاہیے ہوتی ہے بالکل ایسے ہی اُسے اپنی ماں بولی یعنی مادری زبان کی بھی ضرورت رہتی ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے جذبات و احساسات‘ اپنے مشاہدات و محسوسات کو واضح ’آسان اور کماحقہ طریق سے بیان کر سکے۔

اس نام نہاد ’پیراشوٹنگ سٹنٹ‘ نے ہماری قومی زبان کو جو نقصان پہنچایا سو پہنچایا ’لیکن اس نے ہماری علاقائی مادری زبانوں پہ بہت خوفناک اثر ڈالا۔ موبائل فون نے تو محض اس معاشرے میں ایک‘ جنریشن گیپ ’پیدا کیا تھا لیکن اس سٹنٹ نے ہمارے بچوں کو ہماری مادری زبانوں سے دور کر دیا اور مادری زبان بولنے کا ٹیگ کم پڑھے لکھے لوگوں کے ساتھ خاص طور پہ کچھ ایسے چسپاں کیا گیا کہ بچے مادری زبان بولنے میں شرم اور ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگے اور اس کو مزید بڑھاوا دینے میں گلی گلی کھلے پرائیویٹ انگلش میڈیم سکولوں نے اپنا کردار خوب نبھایا۔

سکول میں اساتذہ بچے کو اپنے اپنے مضمون میں اپنی انتھک محنت سے طاق کر سکتے ہیں ’میڈیکل کا طالبعلم 6 سال بعد کسی نہ کسی معیار کا ڈاکٹر بن ہی جائے گا اور ایسا ہی باقی شعبوں کے ساتھ بھی ہے‘ سکول اور کالج سے ہم قومی زبان اردو بہت اچھے طریقے سے سیکھ جاتے ہیں اور یونیورسٹی میں کسی حد تک انگریزی کا پلہ بھی پکڑ لیتے ہیں اور اگر نہ بھی بہتر بولیں تو پڑھائی کے اختتام پہ کسی بھی زباں دانی کے ادارے سے یہ زبان سیکھی جا سکتی لیکن قابلِ غور یہ ہے کہ اس سارے نظام میں مادری زبان سکھانے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ صرف اور صرف گھر ہی سے سیکھی جا سکتی ہے۔

مادری زبان سکھانے اور بولنے کی ذمہ داری کلی طور پہ والدین پہ عائد ہوتی ہے کہ آج کے اس تیز رفتار ماڈرن طرزِ زندگی میں یہی اک چیز رہ جاتی ہے جو ہمارے بچوں کو ’ہماری آئندہ نسلوں کو اپنی مٹی‘ اپنے دیس ’اپنے ریت و رواج اور اپنے آپ سے جوڑے رکھ سکتی ہے۔ اسی سے ہم اپنے صوفی سنتوں کا جو کلام ہے‘ جس میں زں دگی کی رمزیں ہیں ’جیون کتھا کی گتھیوں کا ذکر ہے‘ اپنے مذہب ’اپنے اسلاف‘ اپنی تاریخ ’اپنے مقصدِ حیات کا جو ذکر ہے ہم اسی کی بنا پر اس سے جڑ سکتے ہیں۔

حکومتی سطح پر پذیرائی کے بھی مختلف ذریعے ہو سکتے ہیں جن میں علاقائی میلے ’علاقائی زبانوں کے شعراء کی مجالس‘ علاقائی ادب کے پروان کے لئے مختلف طرز کے مقابلے اور سب سے بڑھ کر علاقائی زبانوں کی ترویج کے لئے ان عوامل کی حوصلہ افزائی نا کہ ہم چوک ’چوراہوں اور ناکوں پہ کھڑے ہو کے ان زبانوں کے خلاف ایسی نازیبا زبان اختیار کریں کہ جو کسی بھی طرح کے تعصب کو ہوا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *