ماں بولی کا قرض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیسا روح پرور اور فرحت آگیں موقع ہے کہ پنجاب کے ایک شہر میں ایک پنجابی دوسرے پنجابی کے پنجابی بولنے پر برسرِعام اس کا محاکمہ کر رہا ہے۔ ناصرف محاکمہ بلکہ فرمانِ با المشافہہ جاری کر رہا ہے کہ: خبردار جو اب مجھ سے اس غیر متمدن زبان میں بات کی۔ بھئی سبحان اللہ! طبیعت شاد ہو گئی۔ ثریا سے زمین پر گرتے کا نظارہ خواہش تھی سو اذنِ قدرت سے پوری ہوئی، اس بابت اب کوئی حسرت باقی نہ ہے۔

صاحب! معاملہ پنجابی، سندھی، بلوچی، اردو، پشتو یا کسی اور زبان کا یا زبان سے متعلق کسی تعصب یا احساسِ برتری کا نہیں ہے کہ سبھی زبانیں محترم ہوتی ہیں۔ معاملہ ماں بولی کا ہے۔ ماں بولی کی اپنوں کے ہاتھوں تضحیک کا ہے۔ سوال ماں بولی کی بلا امتیاز زبان و علاقہ حرمت کا ہے۔

آپ نے کچھ روز سے وائرل ہونے والی ویڈیو ملاحظہ کی ہوگی۔ کس قدر ناقابلِ تردید حقارت سے ایک پنجابی خاتون، ایک ٹریفک وارڈن کا سرِعام غلط انگریزی بولتے ہوئے اپنے ساتھ پنجابی بولنے پر محاسبہ کر رہی ہے۔ موصوفہ کا سب سے شاہکار اور نادر جملہ تھا: تمہاری جرات کیسے ہوئی میرے ساتھ پنجابی میں بات کرنے کی، کسی ڈیسنٹ زبان میں بات نہیں کر سکتے کیا؟ سنتا جا شرماتا جا۔ غضب خدا کا! وارث شاہ، بلھے شاہ، گرو نانک اور بابا فریدکی بولی ڈیسنٹ زبان نہیں ہے! صدیوں کی درخشندہ تہذیب کی وارث کو کیا ابھی بھی ڈیسنسی کا سرٹیفیکیٹ درکار ہے۔ وائے ناکامی۔

ہم پستیوں کے نئے معیاروں کی دریافت میں صدقِ دل سے کوشاں ہیں۔ ایسے کامل جذبے ناکام نہیں لوٹا کرتے، سو نئے معیاروں اور امکانات کے درشن کے لئے تیار رہیں۔ حالات اور سوچ یہی رہی تو قدرت مایوس نہیں کریے گی۔ تاریخ کا سبق تو کم از کم یہی ہے۔ جو سماج ماں بولی کو اس درجے پر رکھے، وہ زمانے سے اپنے لئے کس درجے کی توقع رکھ سکتا ہے۔ جواب یقیناً بہت سادہ اور واضح ہے۔

ماں بولی بلا تخصیص زبان فی نفسہٖ اس سماجی و تہذیبی منفعت و فلاح کی حامل ہوتی ہے کہ صادق معاشرہ اس کا احترام اسی سے کشید کرتا ہے۔ فرد کا سماج سے تعلق اور تہذیب و تمدن سے رشتہ ماں بولی کے دھاگے سے ہی بُنا جاتا ہے۔ آگہی کا اولین در اسی کی برکتوں سے واہ ہوتا ہے، فکر و تدبّر کی راہ کے کانٹے اسی دستِ مادر کی بے پایاں شفقتِ چنتی ہے۔ تفہیم اور ابلاغ کی گھتیاں بہتر طور سے ماں بولی کے اعجاز و کرامت سے ہی سلجھتی ہیں۔ ذات کا شعور، فرد کی کلچر سے نسبت اور اس کے تقاضوں کا ادراک ماں بولی کی مدد سے عموماً بہتر اور افضل طریقے سے ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا واقعہ کا مرکزی جملہ اصل میں اس مخصوص ذہنیت کا نمائندہ ہے جو دانستًا قوم کو سماجی، فکری، تاریخی، لسانی اور سیاسی شعور سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ ماں بولی کی حوصلہ شکنی اور رسمی تعلیم سے اس کی جبری جدائی اس کے بہت سے اہداف میں سے ایک ہدف ہے جو اب تک یہ ذہنیت بڑی کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کر رہی ہے۔

ماں بولی فرد کی پہچانوں میں سے ایک پہچان ہے جو اسے سماج سے، کلچر سے، اپنے ورثے سے اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے جوڑتی ہے۔ یہ فرد کی صلاحیتوں، جذبات، شعور اور ابلاغ کی بہترین نمائندگی کرتی ہے لہذا یہ نمائندگی چھیننے کا مطب فرد سے اس کا کلچر اور ورثہ چیھننا ہے۔ اسے اس ماحول سے محروم کرنا ہے جو اس کی صلاحیتوں کا بہترین ضامن ہے۔ اور یقیناً یہ معمولی جرم نہیں ہے۔

عہدِ حاضر بلاشبہ کثیرالسانی سماج کا عہد ہے۔ علم وہنر کی دنیا زبانوں کے باہمی تعامل اور ارتباط و اختلاط کی مقتضی ہے۔ یہ تقاضے پورے کرنا ضروری ہی نہیں ناگزیر بھی ہیں کہ ایجاد و ابداع کے سوتے خشک نہ ہوں۔ ان حالات میں ماں بولی کی اہمیت نہ صرف بڑھ گئی ہے بلکہ اور مسلمہ ہو گئی ہے کہ انسانی صلاحیتوں، فکر و دانش اور تخلیقی عمل کو ماں بولی نکھارتی ہے، سنوارتی ہے اور انسان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ پر اعتماد طریقے سے سماجی ترقی میں حصہ دار بنے۔ عصری تقاضوں کو ضرور پورا کریں لیکن خدارا ماں بولی کی اہمیت اور افادیت کو بھی سمجھیں، اس کا احترام کریں کہ آپ اس کے مقروض ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *