مستعفی اٹارنی جنرل انور منصور کے بیان نے حکومت کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دیں؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انور منصور خان
قانونی ماہرین کے مطابق سابق اٹارنی جنرل کو 24 فروری کو عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف دینا ہو گا

مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل انور منصور خان کے میڈیا بیانات نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے جس کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست جمع کراتے ہوئے بھی سابق اٹارنی جنرل کے متنازع بیان سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔

سابق اٹارنی جنرل نے نجی ٹی وی کے مختلف ٹاک شوز میں شریک ہو کر حکومتی موقف کی تردید کی اور کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کے بارے میں نہ تو کسی حکومتی شخصیت نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی ان پر مستعفیٰ ہونے کے بارے میں دباؤ تھا۔

انور منصور کے مطابق انھوں نے دس ججز کے سامنے قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سے متعلق متنازع بیان وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کی مشاورت سے دیا تھا۔

خیال رہے کہ وزیر قانون فروغ نسیم کی طرف سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ انور منصور نے اٹارنی جنرل کے منصب سے استعفیٰ دیا نہیں، بلکہ (ان سے استعفیٰ) لیا گیا ہے۔

فروغ نسیم نے انور منصور کے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہ مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل نے ان سے اس بیان پر کوئی مشاورت نہیں کی۔

فروغ نسیم کے مطابق مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل غلط بیانی کر رہے ہیں اور دراصل وہ اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ایسے الزامات لگا رہے ہیں۔

الزامات کے بعد سیز فائر کی حکومتی کوششیں

حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ شب مختلف نجی ٹی وی چینلز پر مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کے بیانات کے بعد اس معاملے کو وقتی طور پر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس ضمن میں دونوں شخصیات سے رابطہ کیا گیا ہے۔

انور منصور نے اس سے زیادہ بیان نہیں دیا تاہم اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وقت آنے پر وہ کچھ اور لوگوں کے نام بتائیں گے۔ اس ضمن میں جب بی بی سی نے مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل انور منصور سے رابطہ کیا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے اس بیان سے آگے کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’میں نے وعدہ کیا ہے کہ اس بارے میں کوئی مزید بات نہیں کرنی۔‘

انور منصور کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اپنے متنازع بیان پر سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے اور اُنھوں نے اپنا معافی نامہ بطور اٹارنی جنرل عدالت میں جمع کروایا ہے۔  سابق اٹارنی جنرل ان درخواستوں کی سماعت میں وزیر اعظم اور صدر کی طرف سے پیش ہو رہے تھے۔

جسٹس عیسیٰ صدارتی ریفرنس: التوا کی حکومتی درخواست

دوسری طرف وفاق کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق درخواستوں کی سماعت ملتوی کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔ ایڈشنل اٹارنی جنرل کی طرف سے دائر کی جانے والی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیا اٹارنی جنرل تعینات ہونا ہے جس کو تیاری کے لیے کچھ وقت چاہیے لہٰذا ان درخواستوں کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی جائے۔

خیال رہے کہ انور منصور کے استعفے کے بعد حکومت نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔ خالد جاوید نے تصدیق کی ہے کہ حکومت نے انھیں یہ منصب سنبھالنے کا کہا ہے۔

اگرچہ حکومت نے انور منصور خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض تردید سے یا سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دائر کرنے کے باوجود بھی اتنی آسانی سے ختم نہیں ہوگا۔

اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے کہ انور منصور نے 18 فروری کو بطور اٹارنی جنرل جو متنازع بیان دیا تھا اس سے اہم حکومتی شخصیات لا علم ہوں۔ ان کے مطابق اہم بات یہ ہے کہ جب یہ بیان دیا گیا تھا تو اس وقت کمرہ عدالت میں وزیر قانون فروغ نسیم اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر عدالت میں ہی موجود تھے۔

کیا قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس روک دیا جائے گا؟

وفاقی حکومت نے خالد جاوید خان کو پاکستان کا نیا اٹارنی جنرل مقرر کر دیا ہے۔ خالد جاوید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اولین ترجیح عدلیہ کی آزادی اور قانون کی حکمرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مختلف مقدمات میں وفاق کے موقف کو بھی احسن انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل میں کارروائی روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے بارے میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ بطور اٹارنی جنرل اس بارے میں دلائل دیں گے تو نئے تعینات ہونے والے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں 24 فروری کو عدالت میں ایک بیان ریکارڈ کروائیں گے۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران مستعفی ہونے والے اٹارنی جنرل انور منصور وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے دلائل دے رہے تھے جبکہ انھوں نے ایک متنازع بیان دیا جس سے بعد میں وفاق نے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12779 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp