مولانا روم کے مزار سے ازمیر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقرہ میں جولائی کی 16 تاریخ کو کانفرنس کے سیشن ختم ہو چکے تھے۔ 17 تاریخ کو شہر کی سیر کرنا تھی لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ میری نظر میں انقرہ کوئی تاریخی شہر نہیں تھا اس لیے جتنا گھوم پھر کر دیکھ لیا وہ کافی تھا۔

موجودہ ترکی، جسے اناطولیہ کہا جاتا ہے، تاریخی، ثقافتی اور مذہبی آثار کے حوالے سے بہت باثروت ہے۔ ان مقامات کی زیارت کے لیے بہت وقت چاہیے۔ میرے پاس جتنے دن تھے ان میں استنبول کے علاوہ دو مقامات دیکھنے کی شدید خواہش تھی۔ ایک کاپادوکیہ، دوسرے قدیم شہر ایفیسس کے آثار۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ سفر ہوائی جہاز کے بجائے بس میں کرنا ہے تاکہ اس ملک کو دیکھنے کا کچھ موقع میسر آئے۔ وقت کی قلت کی بنا پر کاپادوکیہ اور ایفیسس کو دیکھنے کی کوئی صورت نہیں بن رہی تھی۔ پس میں نے یونانی فلسفی ہیراکلائٹس کی محبت میں ایفیسس کو ترجیح دی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ ازمیر کے قریب ہے اور اب اسے ایفس کہا جاتا ہے۔ اس نام کا ترکی کا بیئر کا بھی ایک بہت مشہور برانڈ ہے۔ ازمیر کا پرانا نام سمرنا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب دوسری جنگ عظیم کے بعد ترکوں اور یونانیوں میں جنگ ہو رہی تھی تو ہمارے مولانا ظفر علی خان اور دوسرے شعرا کرام سمرنا کے معرکوں پر نظمیں لکھا کرتے تھے۔

اج روندے سمرنا دے بال، وے تیریاں دور بلاواں

استنبول سے ازمیر جانے کا پروگرام بنا تو سوچا راستے میں رک کر قونیہ میں مولانا روم کے مزار کی بھی زیارت کر لی جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ مولانا روم سے مجھے اقبال کے پیر رومی سے زیادہ کچھ واقفیت نہیں، نہ مولانا روم کبھی میرے مطالعے کا حصہ رہے ہیں۔

پیر رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

(پیر رومی نے خاک کو اکسیر بنادیا اور میری خاک سے کئی جلوے تعمیر کر دکھائے۔ اقبال)

فارسی زبان نہ جاننے کی وجہ سے بس مولانا کے دو چار اشعار یاد ہیں۔ جب میں سکول میں نویں جماعت میں تھا تو اردو کی کتاب میں شبلی نعمانی کی مولانا روم پر کتاب سے ایک اقتباس نصاب میں شامل تھا۔ ہمارے اردو کے استاد اس پر بہت برہم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواہ مخواہ اس قدر تعریف کی ہوئی ہے۔ مثنوی پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت ہی واہیات انسان تھا۔ اس وقت استاد محترم کی مخالفت کی وجہ تو سمجھ میں نہ آئی البتہ جب کئی برس بعد مثنوی کی کچھ حکایات، از قسم کدو اور گدھا، نظر سے گزریں تو استاد محترم کی برہمی کا سبب سمجھ میں آیا۔ تاہم اس وقت سوچا کہ اتنا برہم ہونا بنتا نہیں تھا۔ یہ صوفیہ کا عام طریق کار ہے، بظاہر فحش بات سے بھی اخلاقی نتیجہ اخذ کرنا۔ کچھ لوگوں کے نزدیک اردو کے واحد قدآور نقاد محمد حسن عسکری صاحب نے جب حافظ شیرازی کے معشوق چہاردہ سالہ والے شعر سے تصوف برآمد کرنے کی کوشش کی تو انتظار حسین صاحب جیسے عقیدت مند بھی حیرت کا اظہار کرتے رہ گئے تھے۔

این جی او کے ایک کارکن سے کہہ کر ازمیر اور استنبول میں ہوٹلوں کی بکنگ کروا لی اور انقرہ سے قونیہ تک بس کی بکنگ کروا لی۔ 17 جولائی کی صبح میں ٹیکسی لے کر بس ٹرمینل پر پہنچا۔ بسوں کا اڈا اوتوگار کہلاتا ہے۔ اس قدر شاندار بس ٹرمینل دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ وہ بالکل ہمارے ایرپورٹ کے مانند تھا اور تین منزلہ تھا۔ ٹکٹ پر گیٹ نمبر لکھا تھا۔ سیکورٹی پر مامور ایک شخص سے گیٹ کی لوکیشن دریافت کی تو اس نے پوچھا کہاں سے ہو۔ جب میں نے پاکستان کہا تو اس نے ہاتھ اٹھا کر پاک ترک کاردش کہا۔ کاردش کا مطلب ہے اخوت۔ بعد میں استنبول میں ایاصوفیہ کے پاس ایک بزرگ نے برادر کا لفظ بھی استعمال کیا۔

بس میں سوار ہوا تو ساتھ کی سیٹ پر پندرہ سولہ برس کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اس لڑکے سے میں نے پوچھا کہ بس کتنی دیر میں قونیہ پہنچے گی تو اس نے مجھے انگریزی میں ہی جواب دیا، جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اس کا تعلق قونیہ کے کسی قریبی گاوں سے ہے اور وہ انقرہ میں ملٹری سکول میں پڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد فوج میں جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے قونیہ کا سفر اچھا کٹ گیا۔ دوران گفتگو وہ ایک بات بار بار کہتا تھا کہ ترکی کو دہشت گردی سے بہت خدشہ ہے۔ مجھے اس بات پر بہت حیرت ہو رہی تھی کیونکہ ان دنوں ترکی میں امن و امان کی صورت حال بہت عمدہ تھی۔ کافی دیر بعد یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ دہشت گردی سے اس کا اشارہ کردوں کی طرف تھا۔ سمجھ میں آیا کہ وہاں کے عسکری مدارس میں بھی طلبہ کو کس قسم کی تعلیم دی جا رہی ہے اور کس طرح ان کے اذہان کو متاثر کیا جاتا ہے۔ میں نے پوچھا کیا ترکی حکومت کا فلسطینیوں کی مدد کے لیے جہاز بھیجنا درست تھا۔ اس کا جواب تھا کہ ہمیں سیاست پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم تھوڑی دیر بعد اس نے کہا میرے خیال میں درست فیصلہ نہیں تھا۔ اس نے پاکستان میں فٹ بال کی صورت حال کے متعلق پوچھا تو میں نے جواب دیا ہمارے کھیل کرکٹ اور ہاکی ہیں، جن کا اسے کوئی پتہ نہیں تھا۔

بس ساڑھے بارہ بجے کے قریب قونیہ پہنچی تو ترکی نمی دانم کے پیش نظر میں نے اس نوجوان سے کہا کہ وہ ازمیر کا ٹکٹ خریدنے میں میری مدد کرے۔ جس کمپنی کی بس میں قونیہ پہنچا تھا اسی سے ازمیر کا ٹکٹ خریدا۔ میں نے چار بجے کا کہا تھا لیکن پتہ چلا کہ بس تین بجے جاتی ہے۔ خیر اس بس کا ٹکٹ خرید لیا۔ اپنا بیگ میں نے کلوک روم میں رکھا۔ کلوک روم کو امانت کہتے ہیں۔

 بس اڈے سے باہر نکلا تو سامنے ایک بہت عظیم الشان مسجد دکھائی دی۔ میں نے مزار مولانا کہا تو ایک شخص نے اشارے سے بتایا کہ ادھر سے وین ملے گی۔ ترکی زبان میں بھی مزار ہی کہتے ہیں البتہ مولانا کا تلفظ تھوڑا سا مختلف ہے۔

وین کوئی بیس منٹ بعد روانہ ہوئی۔ اندازہ ہوا کہ قونیہ اچھا خاصا بڑا اور جدید شہر ہے۔ جب وین نے مزار کے قریب اتارا تو دو بجنے والے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ اب میں وین پر تین بجے واپس اڈے پر نہیں پہنچ سکتا۔ بس جلدی جلدی مزار کی زیارت کی۔ اندر تصویر اتارنے کی اجازت نہیں تھی۔ مختلف شو کیسوں میں لگے مثنوی مولوی کے نسخوں کو دیکھا اور باہر نکل آیا۔ میری کم دلچسپی کے پیش نظر شاید صاحب مزار کو بھی پسند نہیں تھا کہ میں وہاں زیادہ وقت گزاروں۔ یادگار کے طور پر اپنے بیٹے کے لیے وہاں سے ایک تسبیح خریدی اور ٹیکسی لے کر اڈے کی طرف واپس روانہ ہوا۔ ٹیکسی کا کرایہ 25 لیرا بنا جو کافی مہنگا دکھائی دیا۔ راستے میں ایک جگہ شمس تبریزی تربتسی کا بورڈ بھی نظر آیا۔ اڈے پر پہنچتے تک پونے تین کا وقت ہو چکا تھا۔ امانت سے اپنا بیگ واپس لیا، جلدی جلدی ایک سینڈوچ کھایا اور ازمیر جانے والی بس میں بیٹھ گیا۔

ترکی کی بسوں میں یہ طریقہ نظر آیا کہ جیسے ہی بس اڈے سے روانہ ہوتی ہے، کھانے پینے کی اشیا کی ٹرالی بھی ساتھ ہی چل پڑتی ہے۔ اب کے میری ساتھ کی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا ہوا تھا۔ کافی دیر تک جب اس نے دیکھا کہ ساتھ والا بندہ کوئی بات نہیں کر رہا تو اس نے پوچھا ترچے؟ میں نے جواب دیا نہیں، پاکستانی۔ اس کے بعد وہ بھی خاموش ہو گیا۔ قونیہ سے ازمیر کا سفر بہت طویل ثابت ہوا۔ شاید بس کا روٹ براہ راست نہیں تھا۔ ترکی میں بسوں کی حالت بہت عمدہ تھی۔ ہر سیٹ کے سامنے ٹی وی سکرین بھی لگی ہوئی تھی۔ میں نے ہیڈ فون اس لیے نہیں لیا کہ تمام چینل ترکی زبان کے تھے۔ سڑک اگرچہ موٹروے نہیں تھی لیکن بہت ہموار تھی۔ ڈرائیور سپیڈ لمٹ کی بھی پابندی کر رہا تھا۔ ترکی کا سارا علاقہ ہمارے پوٹھوہار کی طرح کا ہے۔ وہاں کوئی وسیع میدانی علاقہ نظر نہ آیا۔ دیہی علاقے بھی کافی ترقی یافتہ نظر آ رہے تھے۔ مجھے ایسا لگتا تھا کسی ترقی یافتہ یورپی ملک میں سفر کر رہا ہوں۔ دیہی علاقوں میں بھی تین تین منزلہ فلیٹوں کی عمارات نظر آ رہی تھیں۔ کئی سو کلومیٹر کے سفر میں بس چار پانچ خستہ پرانے مکان نظر آئے۔ دو تین مقامات پر بس نے سٹاپ کیا۔ ایک بس سٹاپ اگرچہ چھوٹا سا تھا لیکن بہت خوبصورت بنا ہوا تھا۔

رات کے دس بجے کے بعد بس ازمیر کے ٹرمینل پر پہنچی۔ اب وہاں سے مسئلہ شہر جانے کا تھا۔ میں نے اشاروں سے اپنے ہمراہی سے مدد کی درخواست دی۔ اس کو ہوٹل کا نام اور پتہ لکھا ہوا دکھایا: علی جان ہوٹل، فوزی پاشا بلواری۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں ترک دوسری زبانوں کے الفاظ کا تلفظ اپنی سہولت سے ادا کرتے ہیں۔ اس لیے بولیوارڈ بلواری ہو جاتا ہے۔ میرے ہم سفر نے مہربانی کی اور مجھے ایک وین تک پہنچا دیا۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ بس کمپنیوں کی وینیں شہر تک مسافروں کو لے کر جاتی ہیں اور ان کا کرایہ ٹکٹ میں شامل ہوتا ہے۔ اس وین نے مجھے ہوٹل کے بالکل قریب اتارا۔ اس وقت تک رات کے گیارہ بج چکے تھے۔ ہوٹل عین مرکز شہر، ترکوں کے مطابق شہیر مرکزی، میں واقع تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *