وزیراعظم عمران خان اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ میں اختلافات شدت اختیار کر گئے: رؤف کلاسرا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور مشیر خزانہ حفیظ شیخ میں اختیارات کی کشمکش اب سنگین اختلافات تک پہنچ گئی ہے اور دونوں ایک دوسرے کے فیصلوں کو مسترد کر کے اپنی دھاک بٹھانے کی فکر میں ہیں۔ اس ضمن میں ایک وڈیو بلاگ میں رؤف کلاسرا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے متعدد مثالیں پیش کی ہیں

رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سابق چیئرمیں ایف بی آر شبر زیدی کو بہت پسند کرتے تھے  مگر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے جب تک شبر زیدی کو فارغ نہ کروایا، وہ چین سے نہیں بیٹھے۔ مشیرخزانہ نے شبر زیدی پر پریشر ڈالا کہ آپ سے ریونیو ٹارگٹس پورے نہیں ہوئے۔ اس پر شبر زیدی چھٹی لے کر چلے گئے۔

اس کے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان نے حفیظ شیخ پر دباؤ ڈالنے کے لئے سب سے پہلے شوگر لابی پر ہاتھ ڈالا۔ یاد رہے کہ شوگر لابی اسد عمر کو ناپسند کرتی تھی اور عام تاثر یہ تھا کہ حفیظ شیخ کو شوگر لابی کی سرپرستی حاصل ہے۔ مشیر خزانہ نے فیصلہ کیا تھا کہ باہر سے چینی امپورٹ ڈیوٹی دے کر ہی منگوائی جا سکتی ہے۔ لیکن جب یہ فیصلہ کابینہ میں آیا تو وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ دیا کہ چینی امپورٹ ڈیوٹی کے بغیر ہی منگوائی جا سکتی ہے۔ یہ فیصلہ حفیظ شیخ اور ان کے سرپرستوں کے لئے ناخوشگوار تھا۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا فیصلہ شوگرلابی کو سُوٹ کرتا تھا مگرعمران خان نے یہ فیصلہ اٹھا کر پھینک دیا جس سے شوگرلابی کو دھچکا لگا۔

اس کے بعد عمران خان نے سوشل میڈیا ونگ کے لئے 4 کروڑ روپیہ مانگا۔ وزیر اعظم وزارت اطلاعات میں اس ڈیجیٹل ونگ کے ذریعے دراصل تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے متحرک ارکان کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم کے اس مطالبے کو  مشیرخزانہ کی جانب سے مسترد کردیا گیا لیکن وزیراعظم نے ایک بار پھر حفیظ شیخ کا فیصلہ اٹھا کر پھینک دیا اور چار کروڑ روپے کی منظوری دے دی گئی۔

روف کلاسرا نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی میں حفیظ شیخ کی اس تقریر کو منتخب نمائندوں نے سخت ناپسند کیا جس میں حفیظ شیک نے یہاں تک کہا کہ اسمبلی کے فلور پر بیٹھے کچھ لوگ تو آئی ایم ایف کے دروازے تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ کہ مشیرخزانہ حفیظ شیخ آئی ایم ایف کی مرضی سے آئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ دوسری طرف عمران خان ابھی معاشی طور پر اتنے خودکفیل نہیں ہیں کہ حفیظ شیخ کو فارغ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *