پپو یار جنگ نہ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا کے کروڑوں افراد سوشل میڈیا کے جادو کے زیر اثر ہیں۔ سوشل میڈیا کو نہ صرف انفرادی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے بلکہ اجتماعی طور پر بھی۔ لیکن اس سوشل میڈیا کے دور میں بھی رکشہ، ڈاٹسن، فلائنگ کوچ، بس اور ٹرک میڈیا اپنی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ گھر یا دفاتر سے باہر وقت گزارنے والے ہر طبقہ فکر اور ہر عمر کے لوگ عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔ جس میں سفر کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ میڈیا ہی کی پوسٹیں پڑھتے ہیں جو ہر قسم کے عشقیہ، ذاتی، اجتماعی، ملکی مسائل جو تحریروں، فقروں، اشعار اور تصویروں کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر لوگ بے ساختہ مسکرا دیتے ہیں۔ کچھ سوچنے پہ مجبور بھی ہو جاتے ہیں۔

اکثر و بیشتر ہماری نظر سڑک پر دوڑنے والے رکشہ، بس، ٹرک وغیرہ پر پڑتی ہے اور ان گاڑیوں پر لکھی ہوئی تحریرں پڑھنے میں کافی دلچسپ اور کبھی کبھی عجیب و غریب بھی لگتی ہیں۔ جب ہم ان جملوں کوپڑھتے ہیں تو لگتا ہے کہ واقعی یہ باتیں اسی کے لئے لکھی گئی ہیں۔ جیسے کہ ایک رکشہ کے پیچھے لکھا ہوا دیکھا کہ ”گھر کی رونق بچے سے، روڈ کی رونق رکشے سے“۔ اگر آپ کسی دوسرے شہر جا رہے ہوں تو آپ کو بس میں سوار ہوتے ہی دروازے کے سامنے لکھا ہوا ملے گا ”سفر سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں، ہو سکتا ہے یہ آپ کی زندگی کا آخری سفر ہو“۔

جب آپ اپنی نشت پر بیٹھ کر شیشے سے باہر جھانکیں تو گزرنے والی بس کے پیچھے لکھا جملہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ ’‘ تیز چلانا میری مجبوری ہے، کیونکہ دنیا بہت تیز جا رہی ہے ”۔ پچھلے ہفتے سڑک عبور کرتے ہوئے سامنے سے ایک ٹرک آ رہا تھا جس کے آگے لکھا تھا“ ہم یار ہیں تمہارے ”میں نے لرزتے ہوئے جلدی جلدی سڑک اس سوچ کی وجہ سے عبور کی کہ اگر اس نے گلے ملنے کا تقاضا کیا تو نہ جانے کیا ہوگا۔

آپ بھی روزانہ کی بنیاد پر کسی نہ کسی موٹر سائیکل کے پیچھے، رکشہ، ڈاٹسن، فلائنگ کوچ، بس، ٹرک یا کسی کار وغیرہ پر لکھے ہوئے اشعار، جملے، محاورے وغیرہ ضرور پڑھتے ہوں گے۔ جیسا کہ خدا گواہ۔ موسم کی طرح کہیں تم بدل نہ جانا۔ خرچہ ساڈا نخرے لوکاں دے۔ نشیلی۔ انگارے۔ اپنڑے تاں ڈو ہی شوق، سوہنڑی گڈی تے سوہنڑے لوگ۔ خان جی۔ ہرکلہ راشہ۔ چل بلوچاں نال۔ توبہ توبہ سوہنے ایزی لوڈ منگدے۔ ساجن دعا کرنا۔ مُنی بدنام ہو ئی ڈارلنگ تیرے لئے۔

جلو مت کالے ہو جاؤ گے۔ فاصلہ رکھیں ورنہ پیار ہو جائے گا۔ شالا بخت بلند ہووی۔ جانم سمجھا کرو۔ پسند سجناں دی۔ چٹی کبوتری۔ یہ سب میری ماں کی دعا ہے۔ یہ دوستی تیرے دم سے ہے۔ سپیڈ میری جوانی اوورٹیک میرا نخرہ۔ انکھیں بڑی پاگل ہیں۔ واہ سوہنڑا تیرے رولے۔ دیکھ ضرور مگر پیار سے۔ مونجھا نا تھی میں ول آساں۔ دنیا اس کی ہے جس کا رنگ گلابی ہے۔ دل برائے فروخت قیمت ایک مسکراہٹ۔ رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے، گلوکار ملکو نے یقیناً اپنے اس گانے کا مکھڑا کسی ٹرک کے پیچھے سے ہی لیا تھا۔ کیونکہ یہ جملہ ٹرکوں اور رکشوں پر محفوظ ادب کا ہی ایک شاہکار ہے۔

ٹرکوں، ویگنوں، رکشوں پر لکھے، جملے، اشعار، مصرعے، اصلاحی و مذہبی اقوال، مذہبی نعرے اور دیگر عبارات ایک کافی پرانی روایت ہے۔ یہ شاید ان ایجادات کے ساتھ ہی وجود میں آ گئی تھی۔ ان میں کچھ ایسے بھی جملے ہیں جو اب ہمارے ادب اور ہماری زبان کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے تو اصل موجد کا بھی اتا پتا نہیں۔ اگر غور کیا جائے تو یہ پڑھنے والے اجنبی کے ساتھ محو گفتگو ہونے کی ایک کوشش ہے۔ ایک ایسے سماج میں ایک فرد کی آواز ہے جو عام آدمی کو خاموشیوں کے سائے میں رکھتا ہے۔

کانوں میں ہونے والی یہ سرگوشیاں، یہ تحاریر و جملے ذاتی احساسات، اشتعال یا محض غصہ، ہار، خواہش یا ایک لمحے کی جھلک کا اظہار کرتی ہیں۔ دنیا میں جس طرح پاکستان کو ایک جنگجو، دہشت گرد، غصیلے ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو انتہاپسندوں کی فیکٹری ہے۔ مگر سجی دھجی ٹرانسپورٹ پر لکھی شاعری آپ کو ایک دوسری ہی کہانی بیان کرتی نظر آئے گی۔

دانشوری کے ان اعلیٰ نمونوں کو پڑھ کر ایک بارتو بندا مسکرا ہی اٹھتا ہے۔ ہمارے پاکستانی ہم وطنو کو ہر چیز اور کام میں بلاوجہ کیڑ ے نکالنے کی عادت ہے۔ جب دیکھو کسی نہ کسی بات پر روتے پیٹتے ہی نظر آرہے ہوتے ہیں۔ دورِ حاضر میں سب سے بڑا رونا ان پڑھ ہونے کا ہے۔ حا لانکہ ہمارے ملک میں نہ ٹیلنٹ کی کمی ہے اور نہ پڑھے لکھے لوگو کی۔ اینٹ اٹھاؤ تو دو، چار دانشور اکٹھے ہی باہر نکل آتے ہیں۔ یہ الگ بات کہ مانتا کوئی نہیں۔

حالات کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے والے یہ دانشور آپ کے لئے مشورے مفت ہی اپنی گاڑیوں پر لکھوائے پھرتے ہیں۔ ویسے بھی جس ملک میں ہاتھ دیکھنے والا اور سڑک پر طوطے سے فال نکالنے والاپروفیسر اور عامل کا بورڈ لگائے بیٹھا ہو۔ جس قوم میں پانی کے ٹیکے لگانے والا اپنی کلینک کے ماتھے پر اسپیشلسٹ کا اشتہاری بورڈ لگائے ہوئے ہو۔ بھلا اْس قوم کے ڈرائیور اپنی اپنی گاڑیوں کے پیچھے دلچسپ و عجیب معنی خیز المیہ و طربیہ عبارتیں لکھ کر اپنی دانشوری سے قوم کو کیوں نہ آگاہ کریں۔

لگتا ہے ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کے ڈرائیور بھی لکھنؤ و میرٹھ جیسا ذوق رکھتے ہیں۔ جب بیروزگاری کے ہاتھوں تعلیم یافتہ اعلیٰ ذوق کے حامل افراد بھی چنگچی چلانے پر مجبور ہیں تو ان کی فہم و فراست کا اندازہ اس فقرے سے بخوبی لگا یا جا سکتاہے ”ہارن آہستہ بجائیں قوم سو رہی ہے“ یہ بیچارے ہارن آہستہ بجانے کا ہی مشورہ دے سکتے ہیں۔ سوئی ہوئی قوم کے کان کے نیچے بجانے کا حوصلہ ان میں مفقود ہے۔ دیکھنے کی حد تک تو یہ جملہ بس ایک عام سا جملہ ہے اور لکھنے والے بھی شاید اسے طنزاً ہی لکھتے ہیں لیکن اگر اس ایک جملے پر دل سے سوچا جائے تو اس میں ایسے راز سربستہ ہیں جو ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

بہرحال یہ ڈرائیور حضرات قابل تعریف ہیں۔ جس طرح کی تبدیلی پاکستان میں آرہی ہے امید ہے ہمیں مزید مزاح سے بھر پور سطریں ٹرکوں اور گاڑیوں کے شیشوں پر لکھی ہوئی ملیں گی۔ کیونکہ ان کے جملے اور فقرے پڑھنے کے بعد مجھے بھی اپنی تحریریں ماند دکھائی دیتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب میں بھی گھرسے کاغذ قلم لے کر نکلا کروں اور یہ عوامی ادب کے شاہکار فقرے اپنی نوٹ بک میں درج کر کے قارئین کو عوام کوکھ سے پھوٹنے والے اصلی مزاح کو پڑھنے کا موقع دوں۔

یہ عبارتیں کن کی پسند پر لکھوائی جاتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کبھی کسی ادیب نے اْن الفاظ پر غور کیا ہے۔ یہ ایک روایت کی طرح بس لکھی جارہی ہیں اور اب ہماری ثقافت کا حصہ ہیں۔ جس طرح ہر گاڑی والا فرض سمجھ کر شاعری، جملے، فقرے لکھواتا ہے اگر یہی حال رہا تو بات رکشوں بسوں اور ٹرکوں سے بڑھ کر ہوائی جہاز تک پہنچ جائے گی اور کسی دن جب ہمارے وزیراعظم صاحب امریکہ کے دورے پر جائیں گے تو جہاز پر لکھا ہو گا ”پپو یار جنگ نہ کر“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *