سلمیٰ بروہی کیس:قانونی ماہرین رہنمائی فرمائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلمی بروہی کیس میں جیسے جیسے دن گزرتے جارہے ہیں، ذہن میں نئے نئے سوال جنم لے رہے ہیں۔ ایسے میں جب قومی اسمبلی سے زیادتی کے مرتکب شخص کو پھانسی کا بل منظور ہوچکا ہے۔ اکثرحکومتی اوراپوزیشن ارکان نے جنسی زیادتی کرنے والے ملزم کو پھانسی کی سزادینے کی حمایت کی۔ لیکن سلمی ٰ بروہی کیس کو دیکھ کر نہیں لگتاہے کہ پاکستان میں زیادتی کیس کو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیاجا رہا ہے۔ ہر روز پاکستان کے کسی نہ کسی علاقے سے زیادتی کی خبریں سامنے آرہی ہوتی ہیں۔ ایسے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ قانون بنانے والوں کی جانب سے روایتی طریقہ ہی دیکھنے میں آتاہے۔

عام پاکستانی ہونے کی حیثیت سے میرا یہ جاننا ضروری ہے کہ سلمیٰ بروہی زیادتی کیس میں نامزد ملزم جج امتیاز بھٹو کو کن وجوہات کی وجہ سے ”ریلیف“ دیاجا رہا ہے۔ جج پر الزام ہے کہ اُس نے انصاف لینے کے لئے جانے والی خاتون کو اپنے ہی چیمبر میں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ خاتون نے الزام عائد کیا کہ جج نے کہا اگر شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوتوجنسی تعلق ہی واحد راستہ ہے۔ پولیس نے خاتون کا میڈیکل کرایا، جس میں خاتون سے زیادتی کی تصدیق بھی ہوئی۔ رپورٹ منظر عام پر آنے پرسندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز بھٹو کو معطل اور تحقیقات کاحکم دیا۔

جج کی معطلی سے لے کر اب تک کہاں کہاں زیادتی کے مبینہ ہی سہی ملزم کے خلاف مقدمے کے اندراج کے باجود کیوں گرفتار کرکے تفتیش نہیں کی جارہی۔ کیوں وہ اب تک ضمانت لے کر آزاد گھوم رہا ہے۔

قانونی ماہرین رہنمائی فرمائیں کہ عام ملزم اورجج کے کیس میں کس طرح قانون کو قانو ن کے دائرے میں نچایا جا رہا ہے۔ ملزم جج مرضی کے تفتیشی افسر مقرر کرر رہا ہے، مرضی کی عدالت منتخب کر رہا ہے۔

کیایہ ممکن ہے کہ عام آدمی کو تفتیش کے لئے پولیس بلائے اور وہ پیش نہ ہوتو پولیس کچھ کرنے کے بجائے بے بسی کا اظہارکرے؟ کیا عام آدمی کے لئے عدالت کا یہ ہی رویہ ہوسکتاہے کہ عدالت آتے ہوئے گاڑی خراب ہوجائے اور عدالت کوئی سرزنش کیے بغیر سماعت ملتوی کردے؟

قانونی ماہرین بتائیں کہ کیا عا م آدمی کو امریکہ سے ڈی این اے کرانے کی اجازت مل سکتی ہے؟ کیونکہ اُسے پاکستانی اداروں پراعتبار ہی نہیں؟ اورجب پراسیکیوٹر اعتراض کرے تو عدالت جواب دے گی کہ یہ تو ”اسپیشل کیس“ ہے۔

پھرماہرین یہ بھی رہنمائی فرمادیں کہ عدالت جب اگلے دن جواب دینے کاحکم دے تو ملز م کا وکیل یہ کہہ دے کہ اُس کا موکل بیمارہے اورپھر عدالت سماعت 29 فروری تک ملتوی کردے۔

13 جنوری کو  سلمیٰ بروہی کو 48 ویں روز، 29 فروری کو بھی یقیناً انصاف کی طرف اٹھتے دوسرے قدم کی بھی کوئی امید نہیں دلائی جاسکتی۔ کیونکہ اب تک تومبینہ ہی سہی، درندگی کا نشانہ بنانے والے شخص نے نہ تو ڈی این اے کرایاہے، نہ عدالت نے پولیس ریمانڈدیا اورنہ اب تک تفتیش کی شروعات ہوسکی ہے۔

میری پھر سے قانونی ماہرین سے درخواست ہے کہ خدارا ذرا رہنمائی فرمائیں کہ کیا اگر اُن کی بہن، بیٹی یا ماں کے ساتھ خدانخواستہ ایسا کچھ ہوتاتو کیا زیادتی کے ملزم کو ایسے ہی عدالت سے ریلیف مل سکتا۔ اگر آپ کو اپنی ماں بہن بیٹی کا ذکر کرنا بُرا لگا، تو صرف اتنی ہی رہنمائی فرمادیں کہ اگرعام پاکستانی جنسی زیادتی کا مرتکب ہوتا تو تب بھی عدالت 48 روز تک، کم ازکم انصاف دکھنے والا یہی رویہ اختیار کرتی۔

یہاں یہ ذکر کردوں کہ 22 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج کوٹری، رحمت اللہ موریو کی عدالت میں ہونے والی سماعت میں معزز جج نے کہا کہ وہ صرف درخواست ضمانت کو سنیں گے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کا فیصلہ فرسٹ سول جج کی عدالت کرے گی۔ مطلب 48 ویں روزبھی جج کو ریلیف اور سلمی ٰ کو انصاف نہیں ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply