جمہوریت ہی سیاسی بقا کی ضمانت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری سیاست دیگرممالک کے مدمقابل بہت آسان ہے، اس میں بنیادی ضرورت صرف دولت ہے، اس کے بغیر سیاسی میدان خالی تماشا دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں، کوئی تعلیمی معیار، سیاسی نظریہ اور نہ ہی کسی منشور یا انتخابی وعدے کی پاسداری کرنا ضروری ہوتا ہے، اس سے زیادہ آسان سیاست اپوزیشن کی ہے، یہ حکومتی سمت درست کرنے کی بجائے الزامات اور طعنے دینے کا کام کرتے ہیں، اگرخود کوئی کام نہ کرنا ہو تو صرف تنقید سے آسان کام اور کیا ہو سکتا ہے، بلکہ اب تو ہمارے ہاں حکومت کرنے کے لئے بھی کوئی کام کرنا ضروری نہیں، زیادہ وقت اپنے پیشرو حکمرانوں کے کیے کاموں میں کیڑے نکالنے اور اس سے بھی آسان کرپشن کے الزامات لگاکر وقت گزارنا ہے۔ اگرچہ عوام کو وعدوں اور دلاسوں کا عادی بنا دیا گیا ہے، لیکن عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل بنانے پر سیاسی ایجارہ داری کاسحر ٹوٹنے لگا ہے۔

تحریک انصاف کرپشن ختم کرنے اور مثبت تبدیلی لانے کے نعرے پر حکومت میں پہنچی اور اسی حوالے سے عوامی توقعات کا پہاڑ بھی خود ہی اپنے لئے کھڑا کیا، عام طورپر الیکشن جیتنے کے بعد سیاسی پارٹیاں کوشش کرتی ہیں کہ عوام سے کیے گئے وعدے محدود کرکے اپنا کام شروع کریں، تاکہ عوام کو تھوڑا بہت دیا جانے والا ریلیف مطمئن رکھ سکے، مگر موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اور ملک کی مالی حالت سے آگاہی حاصل ہونے کے باوجود بھی انتخابی مہم سے بڑھ کر وعدے اور اعلانات کرنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ گھر بنانے کا ہدف ایک سال کا مقرر کیاگیا تھا، مگر فراخ دل عوام نے تو یہ ہدف 5 سال میں بھی پورا ہونے کو تسلیم کر لیا، مگر گزرتے مہینوں کے ساتھ حکومتی غبارے سے ہوا نکلنے لگی ہے، کیونکہ حکومت نے کارکردگی بہتر بنانے کی بجائے سابق حکمرانوں پر الزامات، سابقہ منصوبوں کی چھان بین، ترقیاتی کاموں کی بندش اورسیاسی و بیوروکریسی کی پکڑ دھکڑ سے ایک طوفان کھڑا کیا گیا، عوام کو ڈیڑھ سال سے انہی بھول بھلیوں میں گھمایا جا رہا ہے، اس دوران نہ تو کسی بڑے کرپشن کیس کی ریکوری ہوئی اور نہ ہی کسی کو نشان عبرت بنانے کے لئے سزا دی گئی، بلکہ احتساب کا تاثر بھی دھندلانے لگا ہے، البتہ یہ ضرور ہوا کہ با اثر طبقے پر ہاتھ ڈالا گیا، بڑے لوگ گرفتار بھی ہوئے، مگر اس سے عوام کوکوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ سابقہ حکمرانوں کی ہسپتالوں، جیلوں اور تھانوں میں سکیورٹی کی نقل وحرکت پر کروڑوں کے اخراجات کیے گئے، بعدازاں ضمانتیں ہونے لگیں اورپھر وہی لوگ صحت خرابی کے باعث بیرون ملک چلے گئے ہیں۔

تحریک انصاف حکومت نے ڈیل اور ڈھیل نہ کرنے کا عدیہ دیتے ہوئے بلا امتیاز احتسابی عمل کی بات کی ہے، مگرعوام کو سینٹ انتخابات سے لے کر ترمیمی آرڈینس تک ڈیل کے محرکات ہی نظر آتے ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت بوقت ضرورت اپنے مفاد کے پیش نظرتبدیلی کی ہوا چلاتے رہتے ہیں۔ حکومت کو دھاندلی سے لے کر ناقص کار کردگی کے الزامات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن کی دوبڑی جماعتیں کرپشن کے الزامات کی زد میں احتسابی عمل سے گزرہی ہیں۔

حکومت کا کچاچٹھا بھی کھلنے لگا ہے، سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ آٹے، چینی کے بحران نے حکومت سازی کو پول کھول کررکھ دیا ہے۔ سابقہ حکمرانوں کی طرح نئے حکمرانوں کی جانب سے بھی خزانہ خالی ہونے کے دعویٰ سننے کو مل رہے ہیں۔ گزشتہ قرضوں کی ادائیگیاں ڈبل قرضہ لے کر کی جارہی ہیں، جس کا بوجھ سارا عوام کے ناتواں کندھوں پر ہے، حکومت کی غلط پالیسیوں کی سزا عوم کو بھگتنا پڑرہی ہے، ماناکہ ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو بدحالی کی دلدل میں دھکیلا ہے، مگر اس کی خوشحالی کے سہانے خواب تو تحریک انصاف نے دکھائے تھے۔

عوام دکھائے گئے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں، لیکن حکومت کی چند حالیہ اقدامات سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں بہتری کی امیدرکھناخود کو ایک بار پھر دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ ملک میں کے تمام شعبے انحطاط کا شکار ہیں، انہیں ٹھیک کرنا اتناآسان نہیں، جتنا عمران خان اور ان کے رفقا ئے کارسمجھ رہے ہیں اور عوام کو بہلانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ حکومت کو بہت بڑے چیلنجز کا ساسامنا کرنا پڑرہا ہے جن میں زیادہ تر اُن کے اپنے پیدا کردہ ہیں، حکومت کی کارکردگی کا انحصار آئندہ کے اقدامات پر ہو گا۔ اگرحکومت عوامی خواہشات کے مطابق فیصلے کرتی ہے تو یہ بات اس کے حق میں جائے گی، اگر اس کے برخلاف کیے گئے تو معاملات پیچیدگی کی جانب چلتے جائیں گے۔

فی الحال حکومتی اقدامات سے لگتا ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کی بجائے سیاسی وغیر سیاسی مخالفین کو ٹف ٹائم دینے کے لئے تیاریاں کررہے ہیں، حکومت کی ڈکشنری میں مفاہمت کی سیاست نامی کوئی چیز نہیں ہے، جبکہ اپوزیشن خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بیان بازیی سے کام چلانے میں کوشاں ہے۔ یہ صورتحال حکومت کے مفاد میں بہتر ہے، مگردوسری جانب بیڈ گورنس حکومت کو بیک فوٹ پر دھکیل رہی ہے۔ حکومت کو بہتر حکمت عملی سے کار کردگی دکھانا ہوگی، کیونکہ ڈیڑھ سال کا عرصہ الزام تراشی کے سہار ے گزر گیا، مگر باقی عرصہ عوام ناقص کارکردگی پرگزانے نہیں دی گے۔

اگرحکومتی ارکان اپنی سمت درست کرتے ہوئے عوامی خوہشات کا ادراک کریں اور اپنی تمام توانائیاں ملک وملت کے مسائل پر صرف کرنے کی روش اپنائیں تو معاملات بہتر ہو جائیں گے۔ ایک طویل جدوجہد کے بعداللہ تعالی نے عمران خان کوموقع دیا ہے، اگر اسے مخالف برائے مخالفت میں ضائع کردیا گیا تودوبارہ اقتدار میں آنے کا چانس ختم ہو جائے گا۔

تحریک انصاف نے واضح طور پر کرپٹ سیاسی کلچر کے خلاف عوام شعور بیدار کردیا ہے، سیاست میں سب سے بڑا الزام کرپشن کا ہی ہوتا ہے، اگراس کے باوجود عوام کسی کرپٹ رہنما کے ساتھ وابستگی ختم نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ الزامات میں کچھ گڑ بڑ ہے، عوام پڑھے لکھیں ہوں یا ان پڑ ہ، ان کا اجتماعی شعور غلط نہیں ہو سکتا، عام کی اجتماعی رائے جمہوریت کی بنیاد ہے، یہ بات درست ہے کہ ہمارے سیاسی نظام اور سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کا فقدان ہے۔

ہمارے ہاں یورپ کی طرح نظریات کو نہیں دیکھا جاتا، بلکہ شخصیات زیادہ اہمیت رکھتی ہیں، مگر اس کا حل بھی مسلسل جمہوری عمل میں ہے، ملک میں انتخابات عمل کے تسلسل سے خودبخود کرپٹ عناصرکی چھانٹی ہوجاتی ہے۔ پا کستانی سیاست میں گزرتے وقت کے ساتھ بڑی حدتک سیاستدانوں اور سیاسی خاندانوں کا اثرورسوخ معدوم ہو چکا ہے اور جن کو ابھی تک عوام کی پذیرائی حاصل ہے، حکومتی مقدمات اور سرکاری الزامات سے ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ آزادانہ ماحول کے انتخابی عمل سے ہی ان کا راستہ روکا جا سکتا ہے، اس لئے ہزار کمزوریوں کے باوجود یہی جمہوری عمل ملک کی بقا کی ضمانت ہے، ملک میں جتنی شفاف جمہوریت ہوگی، اتنی ہی جلدی سیاسی صفائی ہوتی رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *