آخر ”رضیہ سلطانہ“ ہی کام آئیں : مبارک ہو!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوم کو بہت بہت مبارک ہو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہو گیا، یہ دیش بالآخر ترقی کی پرواز کے لئے ”ٹیک آف“ کرنے کے قابل ہوگیا۔ یہ معجزہ چند گھنٹے قبل ہی رونما ہوا ہے، میرا تو شروع ہی سے ماننا تھا کہ خدا کے گھر دیر ہے، اندھیر نہیں۔

میرا ایمان تھا ایک دن کوئی نہ کوئی معجزہ ضرور ہوگا اور ہمارے سارے مسائل حل ہوجانے کی راہ نکل آئے گی۔

میرا دل کر رہا ہے وزیراعظم، صدر پاکستان۔ ، معزز چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، (بظاہر) سابق ڈی جی، آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور اور ریاست کے ان تمام ”بڑوں“ کو چیخ چیخ کر مبارکباد دوں جو اول روز سے ہی ملک کی بدحال معیشت، سیاسی عدم استحکام۔ ، بے پناہ مہنگائی اور تاجروں، صنعتکاروں، کسانوں، چھوٹے دکانداروں، مزدوروں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کے لئے بے حد فکرمند رہے ہیں۔ جی کر رہا ہے دیش کے 22 کروڑ عوام اور پوری قوم کو اسی طرح چلّا چلّا کر کہوں ”مبارک ہو! مبارک ہو! “ جس طرح 2014 میں ایک سہ پہر ”دھرنا سرفروشوں“ کو مخاطب کر کے شیخ الاسلام علامہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا تھا۔

16 ماہ ہو چلے تھے ملک کے مسائل مزید خراب ہوتے جا رہے تھے، نہ ڈاکٹر عشرت حسین کی فراست کام آئی نہ حفیظ شیخ کی دن رات کی پر خلوص محنت، نہ آرمی چیف کی بھاگ دوڑ رنگ لا رہی تھی نہ شیخ رشید کی انتھک جدوجہد، نہ شاہ محمود قریشی کی ”آنیاں جہانیاں“ کوئی نتیجہ دے رہی تھیں نہ فروغ نسیم کا راتوں کو جاگنا اور قوم کے مسائل کے لئے اپنا سکون آرام تک تج دینا، نہ پرویز خٹک کا پشاور سے کراچی تک کا ”سفر در سفر“ کام آرہا تھا نہ چوہدری شجاعت حسین کا کمزور صحت کے باوجود عمرہ کے لئے جاکر ملک و قوم کے لئے رو رو کر دعائیں مانگنا۔ ۔

آخر کام آیا تو عصر حاضر کی ”رضیہ سلطانہ“ کا انقلابی قدم۔

ھماری ”رابعہ بصری“ ہماری ”لیلیٰ خالد“ ہماری ”لیڈی اروند کجریوال“، یعنی ہماری خاتون اول کا بولڈ initiative جو آج صبح اٹھتے ہی ایک طرح سے ”بھیس بدل کر“ یعنی کسی پروٹوکول کے بغیر، کسی کو کانوں کان خبر ہونے دیے بغیر خاموشی سے دربار بابا فریدالدین پہنچیں، حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسی خاموشی سے واپس ہولیں مگر۔ ۔

کچھ ہی دیر بعد دربار کے ایڈمنسٹریٹر اور مینیجر کے تبادلے کے ساتھ ساتھ 26 چھوٹے ملازمین کی ضلع بدری کے احکامات اور اس بابت باضابطہ اعلامیہ (سرکاری نوٹیفیکیشن) جاری ہوگیا، حتیٰ کہ وہاں تعینات پولیس سیکورٹی گارد بھی پوری کی پوری فوری تبدیل کر دی گئی

قوم کو مبارک ہو! اب نہ ایف اے ٹی ایف ہمیں دبا سکے گا نہ آئی ایم ایف والے ہمیں مزید ”تھلّے“ لگا کر رکھ سکیں گے، نہ انڈیا اور اس کا بے لگام پردھان منتری نریندر مودی ہمیں آنکھیں دکھا پائے گا نہ مائیک پومپیو یا ایلس ویلز مزید دھمکیاں دے سکے گی۔ ۔

مبارک ہو! ہمارے سارے مسئلے اب جلد حل ہو جائیں گے انشاءاللہ!

جو کام ایٹمی طاقت کا آکسفورڈ گریجویٹ، پرعزم ”نجات دہندہ“ بھی ہزار کوششوں کے باوجود نہ کرپایا، اور بیچارہ 16 ماہ تک ”گھبرانا نہیں“ ”گھبرانا نہیں“ کی تسلّیاں ہی دیتا رہا، وہ کام ہماری عظیم ”رضیہ سلطانہ“ نے کر دکھایا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *