سرپرائز ڈے، ستائیس فروری، شاہنوں کا دن

یوں لگتا ہے جیسے عنقریب فروری کا نام ماہ پاک فضائیہ رکھ دیا جائے گا، اللہ کے فضل سے پاکستان لگاتار دو بار فروری کے مہینے میں سرخرو ہوا ہے، سولہ فروری کو پاکستان کے سپتوں نے ایک بار پھر بھارت کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے مادر وطن کے پرچم کو سربلند کیا۔

کبڈی کوچ چیف وارنٹ افسر فریاد، کپتان وارنٹ افسر عرفان، کھلاڑی لالا عبیداللہ اور وقاص بٹ پاکستان ائیر فورس کے وہ حاضر سروس اہلکار ہیں، جنھوں نے ایک مرتبہ پھر بھارت کو سرپرائز کرتے ہوئے بھارتی نام نہاد سورماؤں کو کبڈی کے میدان میں بھی وہ دھول چٹائی کہ جس کا مزہ وہ بھلائے نہیں بھولیں گے جبکہ پاکستانی چائے کے تو بھارتی ایسے دیوانے ہیں کہ اپنے دو جنگی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر اور ایک ونگ کمانڈر پکڑوا کر ٹی از فٹاسٹک کا نعرہ لگاتے ہیں۔

چودہ فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر میں خود کش دھمکے کے نیتجے میں پچاس بھارتی فوجی مارے گئے جس کا الزام انہیں نے حسب سابق بنا تحییق کیے پاکستان پر عائد کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ پٹھان کوٹ واقعہ میں بھارت کو سوائے شرمندگی اٹھانے کے اور کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔

بھارت کی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کے سربراہ شرد کمار نے اعتراف کیا ہے کہ پٹھان کوٹ حملے میں پاکستانی حکومت یا کسی بھی پاکستانی ایجنسی کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

بھارت نے جس شرمندگی کا بوجھ پٹھان کوٹ حملے کے واقعہ کے بعد پاکستان پر بے بنیاد الزام کی صورت میں اٹھایا تھا اس سے تین گنا سبکی کا سامنا پلوامہ حملے کے بعد اپنی سابقہ حماقت کے تحت اٹھانا پڑا

گذشتہ سال ستائیس فروری کو بھارت نے اپنا فلاپ ڈرامہ رچاتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی حماقت کی جس میں وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہم نے پلوامہ کا بدلہ پاکستان سے لے لیا ہے جبکہ ان کے پاس پاکستان کے خلاف کوئی ثبوت تک نہ تھا، بہرحال مودی اسٹیٹ کی خلاف ورزی کا جس طرح پاکستان کے پروفیشنل فوجیوں نے دیا ہے تاریخ حرب میں یہ لمحات سنہری حرفوں سے لکھے جائیں گے، پاکستان ایئر فورس کے ہوا بازحسن صدیقی اور نعمان نے جے ایف۔

سیونٹین کو مہارت سے اڑاتے ہوئے، انڈیا کو مگ اکیس اور ایس یو 30 سے محروم کیا، پاکستان کی کامیاب پرواز کو دیکھ کر بھارت کے ونگ کمانڈر ابھی نندن پر بدحواسی طاری ہوگئی اور اس نے اپنے طیارے سے چھلانگ لگا دی، جیسے فوری حراست میں لیا گیا تھا۔ بعدازاں خیر سگالی کے جذبے کے تحت دو روز بعد بھارت کے حوالے کردیا گیا۔ بھارتی پائلٹ نے اعترافی بیان میں کہا کہ وہ پاکستان میں اپنا ٹارگٹ تلاش کررہا تھا مگر پاکستان کے شیر دل جوانوں نے اسے کامیاب نہ ہونے دیا۔

ابھی نندن جن پر حملہ کرنے کی غرض سے آیا تھا ان کی مہمان نوازی کا گرویدہ ہوگیا۔ اس نے افواج پاکابھی نندن کی واپسی کو اقوام عالم نے پاکستان کی اخلاقی فتح قرار دیا ہے۔ بھارت پہلے ہی نیوی افسر کل بھوشن کے مشن امپاسبل کی خفت سے دوچار ہے ادھر پائلٹ ابھی نندن نے بھی اسے منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا ہے۔ یہ الگ بات ہے وہ ایک ڈھیٹ ملک ہے۔ اسی لئے اسے اپنی بے عزتی کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ دوسری جانب ان کا میڈیا اپنے عوام کو مزید یہ جھوٹ بتارہا ہے کہ ابھی نندن نے پاکستان کا ایف سولہ مارگرا ہے۔

مزے کی بات کہ اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایف سولہ اس آپریشن میں استعمال ہی نہیں کیا گیا تھا۔ چلیں اگر ایک لمحے کو مان لیا جائے کہ بھارت سچ کہہ رہا ہے تو جناب ہماری جانب سے دیے گئے ثبوت تو ریکاڈر کا حصہ ہیں، بھارت کی جانب سے کیے گئے دعوی کے ثبوت کہاں ہیں؟ اسی دوران بھارت کے ایک اینکر راہول کنول نے لائیو شو میں یہ دعوی کیا کہ ہم نے ایف سولہ کے ٹکڑے تلاش کر لئے ہیں اگلے ہی لمحے ان کے دفاعی تجزیہ کار نے بتایا کہ بھائی صاحب یہ پڑوس ملک کے نہیں بلکہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہیں جو پاکستانی ایئر فضائیہ کے ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے پاش پاش کیا تھا۔ جی ہاں وہ ایس یوتھرٹی کی باقیات تھیں جیسے ان کا جنگی صحافی راہول کنول ایف سولہ گردان رہا تھا۔ بھارت کی اس ایک اور حماقت کو بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھرپور تمسخر کا نشانہ بنایا

بھارت کے بے بنیاد الزامات کے تحت وزیراعظم عمران خان جنگی جنون میں مبتلا بھارت کو پہلے ہی متنبہ کرچکے تھے کہ اگر آپ نے کسی بھی قسم کی جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ منہ توڑ جواب دئیگا۔ خان صاحب کے اس بیان اور بھارت کی بذدلانہ ہمت کو لے کر پاکستان میں مقیم بھا رتی ذہنوں نے تمسخر کا نشانہ بنایا اور سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ حالت کی نزاکت اور وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے، سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورنے پریس کانفرنس کرکے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں سرپرائز دینے کا اشارہ دیا اور کہا مادروطن کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے۔

ہم جنگ نہیں چاہتے البتہ جیسا کے وزیراعظم نے کہا ہے ہم جواب دینے کا سوچے گے نہیں بلکہ جواب دیں گے اور ایسا دیں گے کہ آپ کو حیران کر دیں گے انہوں نے کہا کہ ہم نے طویل عرصے نادیدہ دشمن کا مقابلہ کیا ہے جس میں اللہ کے فضل اور قوم کی دعاؤں سے سرخرو ہوئے ہیں جبکہ بھارت ہم پر کھلی جارحیت کرتا رہا ہے۔ انہوں نے بھی کہا کہ ستر سالوں سے آپ کو دیکھا اور سمجھا ہے اور اپنے آپ کو تیار بھی آپ ہی کے لئے کیا ہے۔

۔ ترجمان پاک افواج کی جانب سے اس ردعمل پر ہندوستان نے رونا شروع کردیا کہ پاکستان ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے۔

سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی میڈیا بریفنگ کے مندرجات کے مطابق پاکستان نے بھارت کے چھ اہم مقامات کو ٹارگٹ کرلیا تھا تاہم ہم نے ان اہم مقامات کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچایا جبکہ ان کے قر یبی علاقوں میں کارروائی کرکے یہ ضرور بتا دیا کہ ہم کیا کیا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور کی اس بات کی تائید بھارتی آرمی کے سابق جنرل بخشی نے کرتے ہوئے کہا کہ ستائیس فروری کو ہماری دفاعی تنصیات پاکستان افواج کے نشانے پر تھیں مگر ان کا کوئی نشانہ درست نہ لگا اور ہم محفوظ رہے۔ ان کے ان کلمات پر صرف ہنسا ہی جاسکتا ہے۔ ند امت کے احساس سے عاری بھارتی جنرل اپنے عوام کو صاف صاف نہ بتا سکا کہ اس روز بھارت کو نئی زندگی ملی تھی، یہ پاکستان کا بھارت پر احسان ہے اور بڑا پن ہے کیونکہ بڑے ظرف والے یہ عظیم کام کرتے ہیں۔

اگر ہم بھارت کی فضائیہ کی تاریخ کی جانب نظر کریں تو ہمیں کچھ اس طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملے گی۔ انڈین ائیر مارشل بھارت کمار نے اگست 2015 میں تسلیم کیا ہے کہ 1965 ء جنگ میں پاکستان کے مقابلے میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ پاکستان نے صرف دو دن میں بھارت کے 35 طیارے تباہ کردیئے تھے۔ ائیرمارشل بھارت کمار نے یہ اعتراف اپنی کتاب ”دی ڈیولزآف دی ہیمالین ایگل، دی فرسٹ انڈو پاک وار“ میں کیا ہے جو یکم ستمبر 2015 کو منظر عام پر آئی۔ بھارت کے موقر اخبا ر ”ٹائمز آف انڈیا“ نے اس کتاب کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی شائع کی۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کے ریکارڈ میں تسلیم کیا گیا کہ 1965 کی جنگ میں بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

جنگ کے دوران بھارت کے 460 طیاروں میں سے 59 اور پاکستان کے 186 میں سے 43 طیارے تباہ ہوئے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ 1965 کی جنگ بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی فضائی جنگ تھی۔ بھارتی فضائیہ کو پاک فضائیہ پر عددی لحاظ سے برتری حاصل تھی لیکن پاکستانی طیارے ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے مقابلے میں زیادہ جدید تھے۔ جنگ کے وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 28 لڑاکا اسکوڈرن جبکہ پاکستان کے پاس صرف 11 اسکواڈرن تھے۔ بھارت نے اس جنگ کے دوران اپنے 28 اسکواڈرن میں سے اسکواڈرن، 13 چینی خطرے کے پیش نظر مشرقی اور وسطی سیکٹر پر تعینات کیے۔ کتاب کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارتی فضائیہ کا بہت نقصان ہوا، جو پاکستان کی فتح ہے۔

تاریخ شاید ہے کہ 1965 ءکی پاک، ہند جنگ کے دوران، جہاں ہندوستان کو پاک فضائیہ کے ہاتھوں بہت زیادہ نقصان اور شرمندگی اٹھانی پڑی وہاں اس کی سبکی کا ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ پاک فضائیہ نے ہندوستانی جنگی طیارہ پاکستانی ہوائی اڈے پہ اتروا لیا اور اس کے پائلٹ نے جان بچانے کے لئے سرنڈر کیا۔ اس واقعہ کی نشانی وہ ہندوستانی جنگی طیارہ آج بھی پاکستان کی تحویل میں ہے اور پی ایف میوزیم کراچی میں بھارتی سورماؤں کا منہ چڑا رہا ہے۔

، 3 ستمبر 1965 ءکو ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کی فضائی حدود میں اپنے 4 لڑاکا نیٹ (GNAT) جہاز جاسوسی کے لئے بھیجے۔ پاک فضائیہ کے 2 سٹار فائٹرز (ایف 104 ) نے ان جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لئے سرگودھا کے ائیر بیس سے اڑان بھری۔ ان جہازوں کو فلائٹ لیفٹیننٹ (بعد میں ائیر مارشل) حکیم اللہ اور فلائنگ افسر (بعد میں ائیر وائس مارشل) عباس مرزا اڑا رہے تھے۔ فضائی مڈبھیڑ (DOGFIGHT) میں ہندوستانی نیٹ طیارے فضائی معرکہ چھوڑ کے بھاگ نکلے۔

ان میں سے ایک جہازنے، جس کو ہندوستانی فضائیہ کے ا سکوارڈن لیڈر برج پال سنگھ اڑا رہے تھے، خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کرتے ہوئے وہیں نزدیک ترین رن وے (RUNWAY) پر جہاز اتار دیا۔

یہ سیالکوٹ کے نواحی علاقے پسرور میں واقع ایک رن وے تھا، جہاں پہ برج پال سنگھ نے سرنڈر کر دیا اور بعد ازاں اس ہندوستانی جہاز کو فلائٹ لیفٹیننٹ (بعد میں ائیر کموڈور) سید سعد ہاتمی اڑا کر سرگودھا ائیر بیس لے گئے۔

اسکوارڈن لیڈر برج پال سنگھ جنگی قیدی بنا لئے گئے اور جنوری 1966 تک پاکستان کی قید میں رہے۔ بعد ازاں انہوں نے ہندوستانی ائیر فورس مین ائیر مارشل کے عہدے تک ترقی پائی۔ پر ان کا جہاز آج بھی پاکستان میں ہے۔ پاک فضائیہ کے پروفشنلزم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 1959 کو عید کے دن بھارت نے اسرائیلی ساخت کا جاسوسی طیارہ پاکستان بھیجا تھا اور اللہ کے کرم سے ہمارے شاہنوں نے اسے بھی مار گرا تھا۔ اسے کے ٹکڑے بھی پاکستان افواج کی ایک اور کامیابی ہے۔

ایک حقیقت ہے کہ لڑاکا طیاروں کی کثیر تعداد کی بدولت بھارتی فضائیہ کا نمبر چوتھا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ

طویل عرصے سے بھارتی فضائیہ میں حادثات ملکی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں کی زینت بن رہے ہیں۔ بھارت میں مگ طیاروں کے حادثات میں اب تک 170 پائلٹس اور 10 شہری ہلاک ہوچکے ہیں اور صرف سال 2010 ء سے 2013 ء کے دوران 14 سے زائد حادثات ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مگ ط یاروں کو ’اڑتے ہوئے کفن‘ یا ’بیوہ بنانے والے طیارے‘ کہا جاتا ہے۔ اسی موضوع پر بالی وڈ نے ’رنگ دے بسنتی‘ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی۔ بھارتی طیاروں کے اسی طرح گرنے پر سال 2014 ء میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی بھی اظہار تشویش کرچکا ہے۔ 2019 بھارتی فضائیہ کے لئے بہت مہلک ثابت ہوا ہے۔

بھارتی فضائیہ تاحال 8 لڑاکا طیاروں سے محروم ہو چکی ہے۔ اس درجہ سبکی اٹھانے کے بعد بھارت نے اپنی نا اہلی رافیل طیاروں کی عدم موجودگی کو ٹھہرایا۔ رافیل طیاروں کی خریداری کا معاملہ پہلے کی سیاسی چپقلش کا شکار ہوچکا ہے۔

اب بات کرتے ہیں شاہنوں کی، اللہ تعائی کے فضل و کرم سے پاک فضائیہ دنیا کی وہ پہلی فورس ہے جس نے اپنا جنگی طیارہ بنایا ہے۔ پاکستانی لڑاکا طیارے ’جے ایف 17 تھنڈر‘ کے جدید ترین ورژن ’بلاک 3‘ دنیا کا بہترین چوتھی نسل کے لڑاکا طیاروں سے بھی زیادہ جدید ہے۔ تھنڈر جے ایف 17 بلاک 3 اپنی صلاحیتوں میں امریکی ایف 16، ایف/اے 18 اور ایف 15 روس کے سخوئی 27 اور فرانس کے میراج 2000 جیسے مشہور لڑاکا طیاروں تک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ دشمن کے ریڈار سے بچنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فضاء سے فضاء اور فضاء سے زمین تک مار کرنیوالے دوسرے میزائلوں کے علاوہ نظر کی حد سے دور تک مار کرنے والے (بی وی آر) میزائل سے بھی لیس ہے۔

۔ سب سے خاص بات یہ کہ جے ایف 17 ’بلاک 3‘ کے کاکپٹ میں 2 افراد کی گنجائش ہے۔ ماہرین کے مطابق جے ایف 17 کی بدولت پاکستان نے مقامی طور پر عسکری طیارہ سازی میں خود کفالت کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیا ہے۔ جے ایف سترہ کی مہارت تو کل عالم 27 فروری 2019 کو دیکھ ہی چکا ہے، اللہ کے خاص کرم کے ساتھ جے ایف سترہ کی کامرانی کو لئے ستائیس فروری پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے جبکہ ونگ کمانڈر نعمان خان اور شیردل اسکوان لیڈر حسن صدیقی اس جھومر کے جگماتے نگینے ہیں، اللہ ہمارے جوانوں کو ایسی ہی بہادری سے جگمگاتا رکھے تاکہ پاکستان کا وقار سر بلند اور ابھی نندن کا ٹولہ سر نگوں رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words