ایک استعفیٰ سے جان نہیں چھوٹے گی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید ریاستی نظام کے بنیادی طور پر تین ستون ہوتے ہیں، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ۔ جن کی مدد سے پورا نظام چلتا ہے۔ اگرچہ سارے قومی ادارے محترم ہوتے ہیں، لیکن عدلیہ کا وقار اس لحاظ سے زیادہ بلند اور قابلِ احترام ہوتا ہے، کیونکہ اس کے کاندھوں پر آئین کی تشریح کی بھاری و حساس ذمہ داری ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی کوئی ادارہ انتظامی مسائل کا شکار ہوا یا کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو عدلیہ سے ہی رہنمائی کے لئے رجوع کیا جاتا رہا ہے، اس لئے عدالت اور منصفوں کا احترام ہر صورت برقرار رہنا چاہیے، یہی وجہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں اٹارنی جنرل کی جانب سے معزز ججوں کے حوالے سے غیر محتاط گفتگو کی ہر جانب سے مذمت کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں اٹارنی جنرل سے استعفیٰ لیا گیاہے۔

اس معاملے میں دو موقف سامنے آرہے ہیں، حکومتی حلقوں کا اٹارنی جنرل کے موقف سے اظہارِ لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہنا ہے کہ حکومت آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی اور عدلیہ کا احترام کرتی ہے، اٹارنی جنرل نے مذکورہ بیان حکومتی ہدایات کے بغیر دیا، جبکہ اٹارنی جنرل اٹارنی جنرل کا موقف ہے کہ حکومت سب کچھ جانتی تھی، حکومت نے استعفیٰ نہیں مانگا، بلکہ انہوں نے بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دیا ہے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور بضد ہیں کہ انہوں نے از خود استعفیٰ دیا، ان سے کسی نے طلب نہیں کیاتھا، جب کہ وزیراعظم کی ترجمان فردوس عاشق اعوان اور وزیر قانون فروغ نسیم فرمارہے ہیں کہ انور منصور سے استعفا طلب کیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ انور منصور اور حکومتی ترجمانوں میں سے کوئی ایک تو جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی قانونی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے میں قانونی ٹیم کی نالائقی سب نے دیکھی ہے، لیکن اس وقت بھی کوئی ذمے داری لینے کے لیے تیار نہیں تھا، آج بھی وہی کچھ دہرایا جارہا ہے۔

بقول انور منصور خان انہوں نے سپریم کورٹ بار کونسل کے مطالبے پر استعفا دیا ہے، لیکن بار کونسل نے تو وزیر قانون فروغ نسیم سے بھی استعفا دینے کا مطالبہ کیا ہے، مگر وہ اس بار بھی دوسروں پر ذمے داری عاید کر دیں گے، کیونکہ وہ شاید حکومت کی مجبوری بن چکے ہیں۔ اس کی وجہ ایم کیو ایم سے تعلق یا پھرکوئی دوسرا معاملہ ہے جوبہت جلد ہی سامنے آجائے گا۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے حوالے سے سماعت ہو رہی ہے اور عدالت نے انور منصور کے بیان کا بڑا حصہ حذف کروا دیا ہے، لیکن جو باتیں ذرائع ابلاغ میں آ چکی ہیں ان کے مطابق انور منصور نے الزام لگایا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو اپنا جواب تیار کرنے میں عدالت عظمیٰ کے تمام ججوں نے ان کی معاونت کی تھی۔ معزز عدلیہ کے تمام معزز ججوں پر الزام عاید کرنا یقینا ایک سنگین معاملہ ہے، لیکن اگر انور منصور کے مطابق حکومت کا موقف تھا تو بات بہت دور تک جائے گی، صرف انور منصور کے مستعفی ہونے تک نہیں رہے گی، کیونکہ اس مقدمے کا اہم پہلو یہ ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ کے بیرون ملک مقیم بیوی بچوں کے اثاثوں کی چھان بین کرائی گئی جس پر کئی لاکھ روپے خرچ ہوئے، یہ جاسوسی ایک سرکاری ادارے کے تحت کروائی گئی جس نے بیرون ملک جاسوس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کیں تھیں۔

اس پرسوال اُٹھ رہا ہے کہ کیا حکومت معزز ججوں کی تحقیقات کرنے کی مجاز ہے، اس حوالے سے بھی حکومت کو وضاحت کرنا ہو گی، جہاں تک فروغ نسیم کا اٹارنی جنرل کی ناقص کارکردگی پر اعتراض ہے تواس کا اطلاق فروغ نسیم سمیت پوری حکومتی کا بینہ پر بھی کیا جا سکتا ہے، کیو نکہ پہلے ہی ان سب کے چاروں اطراف ناقص کار کردگی کے پوسٹر لگے ہوئے ہیں۔

اگر انور منصور کا دعویٰ درست مان بھی لیا جائے کہ انہوں نے حکومت کا موقف بیان کیا تو بھی اتنے تجربہ کار اور قانون کے ماہر ہونے کے ناتے انہیں ججوں پر الزامات عاید کرتے ہوئے خود سوچنا چاہیے تھا۔ اس طرز عمل سے ایک بار پھر واضح ہو گیا کہ سرکار کی پوری سیاسی وقانونی ٹیم ہی نا اہل ہے، لیکن اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ استعفا لیا گیا یا خود دیا گیا، اگر سپریم کورٹ بار کے مطالبے پر اٹارنی جنرل مستعفی ہو سکتے ہیں تو فروغ نسیم کو بھی اس عمل سے گزرنا چاہیے، خاص طور پر اس دعوے کے پیش نظر کہ انور منصور نے جو کچھ کہافروغ نسیم اور شہزاد اکبر کے علم میں تھا۔

اگرچہ انور منصور نے متنازع بیان واپس لے لیا تھا، مگر عدالت عظمیٰ نے مطالبہ کیا کہ معافی مانگیں یا بینچ پرلگائے گئے الزام کا ثبوت پیش کریں، لیکن یہ طے ہے کہ انور منصور کے پاس الزام کا کوئی ثبوت نہیں ہو گا، اس لیے استعفا دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، لیکن ایک استعفیٰ سے جان نہیں چھوٹنے والی، کیو نکہ بات نکلی ہے تو بہت دور تلک جائے گی۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے خیرخواہ ہمیشہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ اپنے دور اقتدار میں عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے گریز کیا جائے، عدلیہ کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ترجمانوں اور وزراء سمیت پارٹی کے تمام عہدیداروں کو تنبیہ کردی ہے کہ میڈیا میں عدلیہ کے بارے میں متنازع بیان بازی سے گریز کیا جائے اور کوئی ایسا بیان نہ دیا جائے جس سے عدلیہ کی دل آزاری ہو، اس تنبیہ کے پس منظر میں اٹارنی جنرل انور منصور کا وہی بیان ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے عہدے مستعفی ہونا پڑا ہے۔

اٹارنی جنرل کے استعفا کی جو بھی صورت بنی، اس سے یہ بات ضرور واضح ہو گئی ہے کہ حکومت مقتدر اداروں کے ساتھ کسی قسم کی کوئی غلط فہمی پیدا کرنا نہیں چاہتی اور ہر ادارے کا وقار بحال رکھنا چاہتی ہے۔ اٹارنی جنرل کا ستعفیٰ ان حلقوں کے لیے حکومت کا واضح پیغام ہے جو حکومت اور اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرکے دست و گریباں کرنا چاہتے تھے۔ اس امر میں کوئی دو رائے نہیں کہ عدلیہ کے منصفوں کے حوالے سے انفرادی یا اجتماعی سطح پر کسی بھی قسم کی خیال آرائی کرتے ہوئے الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کا پہلو بہرصورت مقدم رہنا چاہیے۔ اعلیٰ عدلیہ دستور کی محافظ، شارح اور ملک و قوم کو درپیش آئینی الجھنوں کے سلجھاؤ کا قابلِ اعتبار ذریعہ ہے، اس کا احترام ہر صورت ملحوظ خاطررکھنا سب کے لئے ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *