پارلیمانی جمہوریت اور سیاست کا مستقبل
بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست، جمہوریت اور بالخصوص پارلیمانی سیاست کا مقدمہ ہمیشہ سے کمزور رہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو یہاں جمہوری نظام کے عدم تسلسل سے جڑا ہوا ہے یا غیر سیاسی قوتوں کی مداخلتوں کی وجہ سے جمہوری نظام جڑ نہیں پکڑسکا۔ لیکن یہ آدھا سچ ہے، اور اس پہلو کا دوسرا سچ ہماری سیاسی جماعتیں، قیادتیں اور پارلیمانی سیاست سے جڑے طرز عمل کا بھی ہے جو خود کو نہ تو جمہوری سیاست سے جوڑ سکے اور نہ ہی پارلیمانی سیاست کے تقاضوں کو پورا کیا جاسکا۔
البتہ اس ناکامی پر فریقین اپنی غلطی کو قبول کرنے کی بجائے معاملات بوجھ مخالف فریق پر ڈال کر خود کو بری الزمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اصولی طور پر جب تک فریقین میں یہ ادراک یا فہم موجود نہ ہو کہ ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور جو پارلیمانی سیاست سے جڑے مسائل ہیں اس میں وہ خود بھی ذمہ دار ہیں، مسائل نہ تو حل ہوں گے اور نہ ہی اس سے نمٹنے کے لیے کوئی موثر حکمت عملی سامنے آسکے گی۔
پروفیسرڈاکٹر محبوب حسین بنیادی طو رپر تاریخ اور سیاست کے طالب علم ہیں۔ ان دنوں وہ پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ کے سربراہ ہیں۔ وہ ایک فکری دانشور ہیں اور معاملات کو جذباتی انداز سے نمٹنے کی بجائے دلائل، حقایق اور شواہد کی بنیاد پر اپنا سیاسی مقدمہ پیش کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ماضی میں رہنے کی بجائے ماضی کا تجزیہ کرکے معاملات کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اور اسی بنیاد پر وہ اپنی سوچ اور فکر کی بنیاد پر مستقبل کی طرف پیش قدمی بھی کرتے ہیں۔
اکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور تاریخ کے ساتھ سماجی علوم پر بھی ان کی دسترس کمال کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں بالخصوص آئین اور سیاسی ادارہ جاتی عمل کا تفصیل سے مطالعہ کیا ہے۔ اسی طرح ان کے تحقیقی مضامین ملکی اور بین الا اقوامی ریسرچ جنرل اور قومی اخبارات میں تواتر سے شائع ہوتے ہیں اور پی ٹی وی پر ایک پروگرام کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے حال ہی میں ایک کتاب ”دی پارلیمنٹ آف پاکستان“ لکھی ہے جو اکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی ہے اور اس کتاب میں مصنف نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ اور بالخصوص پارلیمانی عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ چھ ابواب پر مشتمل یہ کتاب پاکستان کی پارلیمانی سیاست سے جڑے تمام مسائل کا بخوبی احاطہ کرتی ہے اور مصنف نے اپنی فکر اور سوچ سے جہاں ایک پس منظر پیش کیا ہے وہیں پیش منظر بھی نظر آتا ہے۔
وہ کئی اہم سوالات اٹھاتے ہیں جو ہماری پارلیمانی سیاست کو مضبوط کرنے کی بجائے اسے کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ اس کتاب میں خاص طو رپر پاکستان کی جو پہلی منتخب پارلیمنٹ تھی جو ون پرسن ون ووٹ کی بنیاد پر قائم کی گئی تھی یعنی کے بھٹو دور کی پارلیمنٹ جو کہ 1970 کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی اور اس کتا ب میں دونوں ایوانوں کو زیر بحث لایا گیا ہے اور پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں یک ایوانی سے دو ایوانی مقنہ بنی تھی۔
اس کتاب میں اس دور کے جو بڑے چیلنجز تھے مثال کے طور پربنگلہ دیش کا علیحدہ ہونا، ایمرجنسی کا نفاذاؤ رجو اہم مذہبی معاملات تھے جس میں اہم مذہبی معاملات سمیت قادیانی اور سات اہم ترامیم ہوئیں اور پارلیمنٹ کے دوسرے اداروں کے ساتھ تعلقات جن میں فوج اور عدلیہ، حکومت اور حزب اختلاف کے معاملات کو تفصیل کے ساتھ زیر بحث لایا گیا ہے۔
پاکستان میں عمومی طور پر سیاست پر بہت کچھ لکھا اور بولا جاتا ہے۔ لیکن پروفیسرڈاکٹر محبوب حسین کا کمال یہ ہے کہ ان کی یہ حالیہ تصنیف عملی طور پر یہاں پہلی یا چند کتابوں میں سے ایک ہے جو بالخصوص پارلیمانی سیاست کا احاطہ کرتی ہے۔ کیونکہ عمومی طور پر یہاں تاریخی تناظر میں پارلیمانی سیاست سے جڑی تاریخ کو اس تفصیلی انداز سے نہیں دیکھا گیا اور یہ ہی اس کتاب کی اہمیت کو بڑھاتی بھی ہے اور جو لوگ بھی عملی طور پر پارلیمانی تاریخ کو سمجھنا یا پرکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے یہ کتاب خاصے کی ہوگی۔
اسی طرح اس کتاب میں 1973 کے دستور کو جسے ایک متفقہ اور سب سے اہم آئین سمجھا جاتا ہے اس کی تشکیل کے مراحل، سیاسی جماعتوں کا کردار، آئین کی تشکیل نو، پارلیمانی جماعتوں کے موقف کو بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں کافی تحقیقی عمل نظر آتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ مصنف نے اپنی بات کو پیش کرنے کے لیے مختلف ادوار کے مراحل کو شواہد کی بنیاد پر پیش کرنے یا سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین کے بقول ”ایسی جمہورتیں جو اپنے ارتقائی سفر کے آغاز میں ہیں وہاں اکثر ادارے کمزور اور شخصیات زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں، ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے جس کے اداروں کی تاریخ اور خاص طو رپر پارلیمنٹ پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں پاکستان کے اس اہم ادارے ک پاکستانی تاریخ کے اہم دورانیے 1970۔ 77 کی پارلیمنٹ کو فوقیت دی گئی ہے۔ ان کے بقول دنیا کے مختلف اداروں کا مطالعہ کرنے کے لیے جو تھیوریاں تشکیل دی گئی ہیں ان کو خوبصورتی سے یکجا کرکے پاکستانی پارلیمنٹ کا مطالعہ کیا گیا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ہماری پارلیمانی سیاست کا ارتقا کیسے ہوا اور ہم کہاں کھڑے ہیں۔
مصنف نے دوسرے باب میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کے انتہائی متنازعہ سمجھنے والے ”نظریہ ضرورت“ پر بھی بحث کی گئی کہ اس ابتدائی اسمبلی کو جب گورنر جنرل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے گھر رخصت کیا تو یہ لڑائی کس طرح دوسرے اداروں سے جڑی اور کس طرح ایک دارہ دوسرے ادارے کے خلاف استعمال ہوا اور ا س کا عملی نتیجہ پارلیمنٹ کی کمزوری کی صورت میں سامنے آیا اور نوزائدہ اسمبلی جمہوریت کی ہچکولے کھاتی گاڑی پٹری سے اتری اور وہ اب تک ٹریک پر واپس نہیں آسکی۔
اسی باب میں دوسری آئین ساز اسمبلی اور پھر مارشل لا کی کہانی اور ا س کے بعد صدارتی نظام کی چھتری تلے ”کنٹرولڈ ڈیموکریسی“ کے ذریعے قائم ہونے والی اسمبلیوں میں نت نئے تجربوں پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر تیسری اور چوتھی پارلیمنٹ جس آئین کے تحت وجود میں آئی تھی وہ کسی پارلیمنٹ نے نہیں بنایا تھا بلکہ ایک فرد واحد کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ اسی طرح تیسرے باب میں براہ راست منتخب ہونے والی اسمبلی کی تشکیل کا کئی حوالوں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ امیدوارں کی تعداد سے لے کر ان کی سیاسی وابستگی، تعلیمی استعداد، معاشی پس منظر سمیت ان کے سماجی پس منظر کا تجزیہ کیا گیا ہے جبکہ اسی کتاب میں منتخب ارکان کا مختلف حوالو ں سے شماریاتی جائزہ پڑھنے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا اور اس مسئلہ کو سمجھنے میں مختلف حوالوں سے نئی فکر کو سامنے لائے گا۔
پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین سوال اٹھاتے ہیں کہ دنیا میں پارلیمنٹ کو سیاسی نظام میں سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے اور اس کی حیثیت سپریم ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایسا کیونکر نہیں ہوسکا۔ ایک جواب تو عمومی طور پر دیا جاتا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ نے سیاست کو مضبوط ہونے ہی نہیں دیا۔ لیکن اس کا اگلہ حصہ بھی زیر بحث آنا چاہیے کہ جب بھی سیاست دانوں، سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کو موقع ملا وہ اپنی داخلی سیاست سے وہ کچھ کیونکر نہیں کرسکے جو پارلیمانی سیاست سمیت جمہوری عمل کو مضبوط بناتا۔
یہاں جس برے اندا ز سے ہماری سیاسی قوتوں نے پارلیمنٹ کو چلایا، کابینہ کو چلایا اور حزب اختلاف کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی وہ بڑے جرائم ہیں۔ یہاں تک کہ ہم نے پارلیمنٹ کو فیصل سازی کے قابل ہی نہیں سمجھا اور بہت سے اہم فیصلے پارلیمنٹ سے باہر کرکے خود اس نظام کو کمزور کیا اس پر بھی ماتم ہونا چاہیے کہ ہم خود اپنی سیاسی اصلاح کیسے کریں گے۔
آج بھی جس انداز سے ہم سیاست، جمہوریت اور پارلیمنٹ کو چلارہے ہیں وہ خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس کی ایک وجہ سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں کا کمزورہونا، فرد واحدکے ہاتھوں یرغمال ہونا، داخلی ڈکٹیٹر شپ، خاندانی اجارہ داری اور اب پیسے کی بنیاد پر سیاسی کنٹرول جیسے مرض ہماری سیاست کو اور زیادہ خراب یا کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ پارلیمنٹ میں آرہے ہیں اور جن کو سیاسی جماعتیں ٹکٹیں جاری کرتی ہیں وہ بھی بڑا سوالیہ نشان ہے۔ برحال پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے کمال کی کتاب لکھی ہے اور امیدکی جانی چاہیے کہ یہ کتا ب پاکستان میں پارلیمانی سیاست کو مضبوط بنانے کی بحث میں ایک نئے اضافہ کا سبب بنے گی اور ہم مصنف کو اس اہم کاوش پر دلی مبارکباد دیتے ہیں۔


