اسلامی نظام کو جمہوری اصطلاحات پر پرکھنے والے
ہمارے چند ماڈرن مذہبی لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ آسمان کو اپنے گھر کے صحن کے ساتھ ماپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی نظر میں آسمان اتنا ہی ہے جتنا ہمارے گھر کا صحن ہے۔
جب بھی اسلامی نظام پر بحث ہوتی ہے تو وہ اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے کے لئے جمہوری اور سیکولر نظام کی اصطلاحات کو سامنے رکھ کر ان پر اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اسلامی نظام کی جو چیزیں جمہوری یا سیکولر پیمانے پر پورا اترتی ہیں تو فورا کہہ دیتے ہیں کہ اسلام کا نظام حکومت جمہوری تھا۔ اگر سیکولر اصطلاحات کے ساتھ چند چیزیں مطابقت رکھتی ہیں تو فٹ سے کہہ دیتے ہیں کہ اسلام کا نظام حکومت سیکولر ہی تھا۔
ان میں غامدی صاحب سرفہرست ہیں۔ کبھی کہتے ہیں اسلام جمہوری نظام ہے اور کبھی اسے سیکولر کا نام دے دیتے ہیں۔ جبکہ طاہر القادری کا موقف ہے کہ اسلامی نظام حکومت جمہوری ہی ہے اور جمہوریت ہی اصل شکل میں خلافت ہے صرف نام بدل کر جمہوریت رکھ دیا گیا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ اگر واقعی اصل جمہوریت ہی حقیقی خلافت ہے تو پھر نام کیوں تبدیل کیا گیا؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نام تبدیل کردیا گیا ہے۔
مگر خلفائے راشدین کے وقت تو ایسا نہیں ہوتا تھا۔ جمہوریت کو حقیقی خلافت کہنے والے طاہر القادری نے بطور دلیل خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کی مثال پیش کی ہے۔ طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب بالکل اسی طرح جمہوری انداز میں ہوا تھا جو آج کل ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج ہم ووٹ ڈالتے ہیں اس وقت بیعت کی گئی تھی۔ چلیں اس بات کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ خلیفہ اول کا انتخاب جمہوری انداز میں ہوا تھا مگر اس کے بعد کیا ہوا۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لئے وہی طریقہ کیوں نہیں اپنایا گیا جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے اپنایا گیا تھا۔ خلیفہ ثانی کا انتخاب بھی جمہوری انداز سے کیا جاتا؟ تمام مسلمانوں سے ووٹ کرائے جاتے اور مسلمان جس کے حق میں ووٹ دیتے انہیں خلیفہ مقرر کیا جاتا۔ جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کر گئے تھے۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جس طریقہ سے ان کا انتخاب ہوا تھا اس طریقہ کو وہ اپنی زندگی میں ہی تبدیل کر گئے۔ اور ایک نیا طریقہ دے کر گئے کہ خلیفہ وہی ہوگا جسے موجودہ خلیفہ اپنے بعد خلیفہ مقرر کر جائے گا۔
پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا طریقہ ہی دیکھ لیں۔ آپ کے دور مبارک میں خلافت آدھی دنیا میں پھیل چکی تھی۔ مگر آپ نے تمام مسلمانوں سے رائے لینے کے بجائے پانچ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام دے کر شوری کو اختیار دے دیا کہ وہ جسے چاہے مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کرے مگر وہ خلیفہ ان پانچ ناموں میں ہونا چاہیے۔ آپ نے خلیفہ اول کے انتخاب اور اپنے انتخاب کے برعکس ایک نیا طریقہ وضع کیا تاکہ کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
مگر خلیفہ مقرر کرنے کا اختیار مخصوص لوگوں کو دیا کہ وہی لوگ خلیفہ کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوتی ہے اور حالات خراب ہونے کی صورت میں کوئی واضح نظام نہیں اپنایا گیا۔ بہرحال اسی طرح شوری کو اختیار تھا کہ وہ مسلمانوں کا خلیفہ مقرر کرے۔ اب آتے ہیں سیکولر اور جمہوری نظام کی طرف کہ یہ کیا بلائیں ہیں۔
کچھ لوگ ہمیشہ یہ غلطی کر جاتے ہیں کہ اسلامی نظام کو سمجھنے کے لئے جمہوری اصطلاحات کو بطور آلہ استمعال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلامی نظام حکومت کو سمجھنے کے لئے وہ جمہوری نظام حکومت پر قیاس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے گا کہ اصل کو فرع پر پرکھ رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلے اسلامی نظام ہے پھر جمہوریت کا زمانہ آتا ہے۔ اور یہ جمہوریت مغربی اصطلاح ہے نہ کہ اسلامی اصطلاح۔
قرون وسطی کے مغرب میں بھی پہلے جمہوریت کا نام و نشان تک نہیں تھا وہاں پادری ہی سب کچھ ہوا کرتا تھا۔ جب پادریوں نے اپنے مذہب کی من گھڑت تشریحات کرنا شروع کردیں تو لوگ بیزار ہونے لگے۔ اور اس بیزاری کے سبب لوگوں نے عیسائیت کو ریاست سے الگ کردیا۔ جسے ہم سیکولر ازم کہہ سکتے ہیں۔ جب ریاستی نظام کلیسا سے نکل آیا تو اب اس ریاست کو چلانے کے لئے کوئی نظام چاہیے تھا۔ ریاستی امور چلانے کے لئے بادشاہت نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ جب بادشاہت سے بھی لوگ بیزار ہوگئے تو بادشاہت کو بھی ایک کونے میں محدود کردیا گیا اور عوامی نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اور عوامی نظام چلانے کے لئے جمہوری انداز اپنایا گیا۔
جہاں تک بات سیکولرازم کی ہے تو سیکولرازم بذات خود کوئی نظام ہے ہی نہیں۔ یہ صرف ایک مطالبہ ہے ایک ڈیمانڈ ہے۔ وہ یہ کہ ریاستی امور سے مذہب کو الگ رکھا جائے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ ہمارے مذہبی اعمال یا معاملات میں ریاست ہماری پکڑ دھکڑ نہ کرے۔ ریاست کا کام صرف اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اور اس کے بدلے ریاست اپنے شہریوں سے اپنی وفاداری کا حلف لے گی۔ اگر کسی شہری نے ریاست کے خلاف بغاوت کی تو اسے ریاستی قوانین میں ناقابل معافی جرم سمجھا جائے گا۔
اور شہری ایک دوسرے کو تکلیف اور ایذا بھی نہیں پہنچائیں گے۔ اسے ریاست اور شہریوں کے درمیان معاہدہ کہا گیا جسے آئین کا نام دیا گیا۔ اگر کوئی شہری اپنی مرضی سے کوئی بھی مذہب اپنانا چاہتا ہے یا اپنی مذہبی رسومات ادا کرے نہ کرے ریاست اسے پابند نہیں کرے گی۔ ریاست صرف ان کاموں میں مداخلت کرے گی جو ریاست کے لئے مضر ہوں گے۔ یہ سیکولرازم ہے جو ایک مطالبہ تھا جسے آج کل لبرل لوگ ایک نظام کہہ کر پیش کر رہے ہیں۔ جبکہ اسلامی ریاست میں ریاست ہر چیز پر سمجھوتہ کرسکتی ہے مگر اسلامی اقدار کا مذاق اڑانا یا اسلامی شعار کی توہین کرنا اسلامی ریاست کبھی معاف نہیں کرسکتی۔ اور اس پر ریاست خود گرفت کرتی ہے۔ اسی طرح دیگر فرائض جن کا بجا لانا مسلمانوں پر فرض ہوتا ہے ریاست ان کی پابندی کے لئے بھی اقدامات اٹھاتی ہے۔
پاکستان میں بھی بہت سے لوگ سیکولر ریاست کے خواہاں ہیں۔ جن میں کچھ مذہبی ماڈرن اسکالر بھی ہیں۔ مشہور زمانہ مذہبی اسکالر غامدی صاحب بھی اپنی باتوں سے یہی باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو سیکولر ریاست ہونا چاہیے۔ اور فرنود عالم جیسے چند لکھاری بھی اپنی تحریروں میں اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہوتا لہذا ریاست کو سیکولر ہونا چاہیے۔ ایسے مذہبی اسکالر اور لکھاری مزید الجھنیں پیدا کرکے سادہ لوح انسانوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اسلام کا کوئی حکومت نظام نہیں ہے اور ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہے۔
سادہ لوح انسان جو پہلے سے الجھنوں کا شکار ہوتے ہیں یا اسلامی نظام کے متعلق علم نہیں رکھتے وہ ان کی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے طاہرالقادری کی تو وہ مغرب میں رہنا چاہتے ہیں اور ایک تیر سے دور شکار کرنا چاہتے ہیں۔ قادری صاحب سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کی لاکھ بھی بات کی جائے مگر مسلمانوں کے ذہن میں ایک چیز نقش ہے کہ اسلامی نظام خلافت ہی ہے جمہوریت نہیں ہوسکتا۔ جب تک جمہوریت کو خلافت بنا کر پیش نہیں کیا جاتا تب تک مسلمانوں کے ذہن سے خلافت کا تصور نہیں نکل سکتا۔
اسی لئے انہوں نے صرف نام کی تبدیلی کو وجہ بناتے ہوئے باقی جمہوری نظام کو ہی خلافت کہہ دیا۔ اس طرح مغرب بھی خوش اور مذہبی حلقہ اور اپنے مریدین بھی خوش۔ رہی بات اسلامی ریاست میں غیرمسلمین کا تصور تو اس پر اسلام میں باقاعدہ غیر مسلمین کے حقوق اور ذمہ داریوں کا الگ باب ہے۔ جس میں سب کچھ واضح ہے۔ اب غیر مسلمین کے حقوق پر بات کرنے سے اسلامی نظام سیکولر نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ تو خالص مذہبی نظام اور مذہب میں بھی اسلام کا خاصہ ہے جس نے پوری انسانیت کے حقوق کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرندوں کے حقوق کی بات بھی کی ہے۔


