مٹی کے برتنوں کی تیاری
مٹی کے برتنوں کی تیاری اتنی آسان نہیں جتنی دیکھنے میں معلوم ہوتی ہے۔ برتنوں کی خوبصورتی ان کی مضبوطی اور ان کے دیرپا رہنے میں سب سے زیادہ کردار اس میں استعمال ہونے والی چکنی مٹی کا ہے۔
کمہار اس مٹی کو اپنے پاؤں سے خوب اچھی طرح گوندھتا ہے یہاں تک کہ وہ یکجاں ہو کر نرم اور ملائم چکنی مٹی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اب کمہار اس گیلی چکنی مٹی کی ایک خاص مقدار کو اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے گھومتے ہوئے پہیے کے بالکل درمیان میں رکھتا ہے جس کو چاک کہتے ہیں۔ اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک خاص انداز سے اس طرح اس مٹی کے گرد رکھتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ بے شکل مٹی خوبصورت برتنوں کی شکل اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔
یہ کام کمہار اتنی تیزی اور مہارت سے کرتا ہے کہ چند ہی منٹوں میں کئی اشیاء بنا ڈالتا ہے جن میں گولک، پیالے، چراغ اور ہانڈیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے ہاتھوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ یہ ہنر مند اپنے پاؤں کی طاقت سے چاک کو گھماتا جاتا ہے۔ اور یوں برتن بناتا چلا جاتا ہے۔
آج کل کے جدید دور میں پاؤں سے چلنے والے چاک کی جگہ عمومی طور پر بجلی سے چلنے والے چاک نے لے لی ہے جس کی وجہ سے محنت میں کسی حد تک سہولت اور کام کی رفتار میں آضافہ ہوا ہے چاک سے اتارنے کے بعد ان اشیاء کو چند دن کے لیےدھوپ میں رکھ کر سکھایا جاتا ہے جب یہ کچھ سوکھ جاتی ہے تو ان برتنوں کو زرد مٹی والے پانی میں ڈبو کر دوبارہ سوکھنے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے اس پانی کی وجہ سے برتن پکنے کے بعد سرخی نما رنگت اختیار کر لیتا ہے۔
برتنوں کو پکا اور مضبوط بنانے کے لیے ان کو آگ میں پکایا جاتا ہے آگ کی اس بھٹی کو آوی کہتے ہیں۔ سب سے پہلے مٹی کو مکمل طور پر صاف کر کے جانوروں کے خشک گوبر کی ایک تہہ اس پر بچھا دی جاتی ہے اور اس پر ایک تہہ پرالی کی لگانے کے بعد مٹی کے کچھ برتن اس پر رکھے جاتے ہیں۔ اس طرح تین چار تہیں لگا کر آگ سلگا دی جاتی ہے یہ آگ آہستہ آہستہ دو تین دن تک سلگتی رہتی ہے جس کے بعد آگ ٹھنڈی ہونے پر برتن مکمل طور پر پک کر تیار ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد ان برتنوں کو مزید خوبصورت بنانے کے لیے ان پر مختلف رنگوں سے نقش ونگار بھی بنائے جاتے ہیں۔ انسان کی قدیم ترین تہذیب سے لیکر آج تک مٹی کے برتنوں کی صنعت کا مختلف انداز سے جاری رہنا اور اس میں ارتقا کا عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس صنعت سے انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔

