بارہ موسموں کے محرم اور ذہانت کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر لال خان کو سلام پہنچے۔ ہماری دھوپ ڈھلنے کو آ پہنچی۔ دیدہ تر کی شبنم سوکھ چلی۔ شب سست گام کا ساحل ہمیں دکھائی نہیں دیا اور اب اس کی کچھ ایسی فکر بھی نہیں۔ ایک غم تھا کہ عمر رواں پہ سایہ فگن رہا، ایک ملال تھا کہ ہر سانس میں خنجر زن رہا۔ دل میں جب تک آگ تھی، ہم روشنی کرتے رہے۔ اسی کشید دل میں زیست کا مزہ پایا۔ اب کھیتی کی پرداخت کرنے کو ایک اور نسل سامنے آئے گی۔ قرائن کہے دیتے ہیں کہ فہم، صلاحیت، جستجو اور وابستگی میں ہم سے بہت بہتر ہو گی۔ منزلیں دور نہیں، اڑتے پرندوں نے بشارت دی ہے۔ قدیم دستور ہے کہ ماندگان رفاقت کو اپنے سفر کی حکایت سونپ دی جاتی ہے۔ مانو تو اسے امانت سمجھو، چاہو تو ایک بے خواب بوڑھے کی خود کلامی۔

یہ جو ان دنوں ادب کے نام پر مل بیٹھنے کی روایت شروع ہوئی ہے، اس پر طرح طرح کے نام دھرے جاتے ہیں۔ کوئی اسے سرمایہ دار دنیا کی آڑھت کہتا ہے، کسی کو بدیسی زبانوں کے ادب اور ادیب کی پذیرائی پر اعتراض ہے۔ کوئی شعر و ادب کی دنیا میں ارباب نشاط کی باریابی پہ شکوہ کرتا ہے۔ درویش کو ان مباحث سے غرض نہیں۔ صرف یہ جانتا ہے کہ ہزاروں نوجوانوں نے اپنے کانوں سے مشتاق احمد یوسفی اور فہمیدہ ریاض کو سن لیا، اپنی آنکھوں سے انتظار حسین اور عبداللہ حسین کے درشن کر لئے، اسد محمد خان سے مل لئے، ضیا محی الدین کی پڑھنت سے شاداب ہوئے، زہرہ نگاہ اور شیما کرمانی سے تعارف ہوا۔ اور بھائی، اگر اس ہنگام بیرونی دنیا کے چند ناموں سے آشنائی بھی ہو گئی تو کل ملا کے اس مشق کا حاصل یہ ٹھہرا کہ نژاد نو نے حرف اور خیال کو ایک وقیع تمدنی سرگرمی کے طور پر دریافت کیا۔

لکھ رکھیے کہ ناانصافی، بدصورتی اور جہالت کے پہاڑ کاٹنے کے لئے تخلیقی سرگرمی سے کاری کوئی تیشہ نسل انسانی نے دریافت نہیں کیا۔ ادبی میلے کی شہر شہر پھیلتی روایت سے ایک اہم ضرورت یہ پوری ہو رہی ہے کہ فنون عالیہ میں باہم ربط بڑھ رہا ہے۔ اس سے ہمارا تخلیق کار ثروت مند ہو گا۔ گزرے وقتوں میں شاکر علی صاحب، استاد امانت علی خان اور ناصر کاظمی ایک ہی میز پر بیٹھتے تھے۔ بہت سے خوش نصیب ہیں جنہیں ایک ہی نشست میں فیض صاحب اور روشن آرا بیگم کی یکجائی سے روشنی ملی۔ مشاعرے کا اہتمام نہ ہوتا تو اہل لکھنو کیسے جان پاتے کہ دلی سے میر صاحب نے قدم رنجہ فرمایا ہے۔

درویش طبعاً گریز پا واقع ہوا ہے۔ کم آشنائی اپنی ایک کیفیت رکھتی ہے۔ گزشتہ ہفتے لاہور میں ادبی میلہ سجا۔ کسی نادیدہ مہربان نے ایک نشست میں شرکت کا موقع دیا۔ موضوع بہت اچھا تھا، اجتماعی ذہانت کا زوال۔ اپنا معاملہ یہ ہے کہ سوتے جاگتے میں آپ ہی سے گفتگو رہتی ہے۔ کچے ساتھ کی دبدھا ہے۔ جانے کب، صحافت کی بساط لپیٹ دی جائے۔ سو وہاں جو التماس کیا، مخاطب آپ ہی تھے۔ وہاں حضوری تھی، یہاں ایک ملاقات چلی جاتی ہے۔ ذہانت کا پیمانہ زیادہ سے زیادہ امکانات پر غور کر کے بامعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ آئزن ہاور نے نارمنڈی پر حملے کی دو برس تک تیاری کی۔ وہ ہر ممکن زاویے سے جرمن مزاحمت کی پیش بینی اور اپنی صلاحیت کو صیقل کرنا چاہتا تھا۔

قائد اعظم کے بارے میں منٹو کا جملہ آپ کو یاد ہو گا، ’قائد اعظم…. ہر مسئلے کو بلیئرڈ کے میز پر پڑی گیند کی طرح ہر زاویے سے بغور دیکھتے تھے اور صرف اسی وقت اپنے کیو کو حرکت میں لا کر ضرب لگاتے تھے جب ان کو اس کے کارگر ہونے کا پورا وثوق ہوتا تھا۔‘ ایوب خان نے کس بنیاد پر فیصلہ کیا کہ اکھنور پر بین الاقوامی سرحد پار کرنے کے بعد بھارت اپنی مرضی کا محاذ نہیں کھولے گا؟ یحییٰ خان سامنے کی بات نہیں سوچ سکے کہ مشرقی پاکستان تک رسد کس راستے سے پہنچائی جائے گی؟ مشرف کارگل میں گھس گئے اور بے نظیر بھٹو کا دانشمندانہ سوال بھول گئے کہ بین الاقوامی ردعمل کیا ہو گا؟

فیصلہ ہمیں متعین کرتا ہے۔ اب سوال اٹھا کہ بامعنی فیصلہ کیا ہے؟ خیال ہو یا فعل، معنویت کی سند کے تین ممکنہ زاویے ہیں۔ انسانوں کی آسودگی میں اضافہ ہوا؟ زندگی میں خوبصورتی کے آفاق وسیع ہوئے؟ متحارب مفادات میں توازن کی بہتر صورت سامنے آئی؟ دنیا کی ساڑھے تین فیصد آبادی ہمارے ملک میں بستی ہے۔ کوئی ایجاد ہم سے سرزد ہوئی؟ کسی بیماری کا علاج ہم نے ڈھونڈا؟ ادب، موسیقی اور رقص میں نئے آفاق کی دریافت ہمارے نام رہی؟ اپنے ملک کے باشندوں سے ہمارے رشتے کی کیا صورت رہی؟ ہمارے معاشی اشاریے امید دیتے ہیں؟ ہمارے بچے کھلکھلاتے ہیں؟ ہمارے بزرگ آسودہ ہیں؟

عزیزو! انفرادی طور پر ہمارے لوگ بہت نفیس ہیں۔ قوم کے طور پر ہم پھسڈی ہیں۔ چند کمزوریاں ہمارے آڑے آتی ہیں۔ ہماری امنگیں جدید ہیں اور ہم نے جدیدیت سے دشمنی پال رکھی ہے۔ جدیدیت کا اکل و شرب یا لباس سے تعلق نہیں۔ جدیدیت امکان کے احترام کو کہتے ہیں۔ دوسرے ہم نے احیا پسندی کا شوق پال رکھا ہے۔ وقت کے پانیوں پر واپسی کا سفر نہیں ہوتا۔ ماضی ہماری میراث ہے لیکن ماضی ہمیں مستقبل دینے سے قاصر ہے۔

تیسری خامی یہ کہ ہم نے پاکستان میں اخلاقی جرات کو جرم قرار دے رکھا ہے۔ اختلاف کو احترام دیے بغیر رائے عامہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پریس ریلیز کی سطح پر اتر آتی ہے۔ تھوڑے کہے کو بہت جانیے۔ جنون ہوش مندی نہیں ہے۔ شاعر نے یک گونہ وارفتگی میں جنون کی ہوا باندھی تھی۔ مفاد پرست جعل سازوں نے جنون کی قوالی چھیڑ دی۔ گھاگ صحافیوں نے آپ کو خیالی گھوڑے پر بٹھا دیا۔ عیار اور حراف پیران تسمہ پا نے آپ پر سواری گانٹھی۔ دل کا کہا اور اندر کی آواز تو گاندھی جی کا طور تھا۔ ہمارے بابائے قوم دلیل مانگتے تھے۔ آپ کے ایک رفیق محترم انگیختہ موسیقی کی دھن پر صبح کرتے تھے۔ 18 اپریل 2019 کو بغیر آواز دیے اوجھل ہو گئے۔ بارہ موسموں کا گمراہ کن آموختہ بے وقت کی راگنی ہے۔ قوم کے منہ پر خزاں رت کی زردی کھنڈی ہوئی ہے۔ اس خشک سالی کی خبر لیجئے۔

موسموں کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھوں

کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *