جب جنگی ساز و سامان کھلونے بن جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے ایک بار پھر عالمی برادری کے ضمیر کو جنجھوڑنے کی کوشش کی۔ کیا اس میں مضمر پیغام پھیل سکا؟ کشور مصطفیٰ کا تبصرہ۔

مشرق وسطیٰ کے ملک شام میں 2011 ء سے جنگ جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس جنگ میں اب تک چار لاکھ انسان لقمہ اجل بن چُکے ہیں۔ مارچ 2019 ء میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے دفتر کی طرف سے شائع ہونے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اب تک گھر بار چھوڑ کر بقا کی تلاش میں فرار ہونے والے شامی باشندوں کی تعداد تقریباً 5.7 ملین بنتی ہے جبکہ 6.1 ملین شامی شہری اندرون ملک در بدر ہیں اور ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ ان بھیانک حقائق کے ساتھ زندگی کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف شامی باشندوں کے پاس اپنے بچوں کا دل بہلانے کے لیے کون سا سامان میسر ہے؟

ادلب کا منظر

حالیہ دنوں میں ادلب کے رہائشیوں کی روز مرہ زندگی کی عکاسی کرنے والی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نو عمر بچی سلوا ہر دھماکے کی آواز پر کھلکھلا کر ہنستی ہے۔ یہ حلب کے ایک شہری عبداللہ المحمد کی ویڈیو ہے۔ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اسے اپنی بیٹی سلوا کو بہلانے کے لیے واحد راستہ یہ نظر آیا کہ وہ گولہ باری کی آوازوں کو کھیل کے طور پر پیش کرے اور سلوا کو بم دھماکوں کی آواز پر ہنسنے اور اس سے محظوظ ہونا سکھائے۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ان گنت بار شیئر کی گئی۔ میں نے جب اس ویڈیو کو دیکھا تو گھنٹوں سوچتی رہی کہ کیا یہ مستند ویڈیو ہے یا ’فیک‘ یعنی جعلی؟ ابھی ذہن اس امر کو قبول نہیں کر پایا تھا کہ یہ ایک سچی کہانی پر مبنی جیتی جاگتی زندگی کی عکاسی کرنے والی ویڈیو ہے، کہ میری نظر سے متعدد خبر رساں ایجنسیوں کے آرٹکلز گزرے جن سے اس ویڈیو کے اصلی ہونے کی تصدیق ہوگئی۔

باپ بیٹی کی گفتگو

وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں حلب کا شہری عبداللہ المحمد اپنی بیٹی سے پوچھتا ہے، ”یہ ایک جہاز ہے یا مارٹر؟ “ اس گفتگو کے پس منظر میں گولہ باری کی آوازیں تیز تر ہوتی جا رہی ہیں۔ تین سالہ بیٹی سلوا جواب دیتی ہے، ”مارٹر“۔ باپ کہتا ہے جب یہ برسے گا تو ہم خوب ہنسیں گے اور یہی ہوتا ہے۔ ہر دھماکے کی آواز پر سلوا کھلکھلا کر ہنستی ہے۔

ایک اور ویڈیو میں سلوا اپنے ڈرائینگ روم میں اپنے باپ کی گود میں ہے۔ ایک گرجدار آواز آتی ہے، ایک طیارہ بم برستا ہے، ساتھ ہی سلوا قہقہ لگاتی ہے۔ عبداللہ بیٹی سے پوچھتا ہے، ”سلوا طیارے نے کیا کیا؟ “ سلوا کہتی ہے، ”طیارہ آیا اور میں اس پر ہنس پڑی، طیارہ ہمیں ہنساتا ہے، ہم سے کہتا ہے مجھ پر ہنسو، قہقہے لگاؤ، مجھ پر ہنسو۔ “

سلوا کے والد عبداللہ المحمد بتاتے ہیں کہ جب سلوا 12 ماہ کی تھی تب وہ محلے میں آتش بازی کی آوازیں سُن کر رویا کرتی تھی، خوف سے۔ اُس وقت اُسے سمجھانا پڑا کہ یہ بچوں کا کھیل ہے جو وہ عید پر کھیلتے ہیں یعنی آتش بازی عید کی خوشیاں منانے کے لیے کی جاتی ہے۔ ”اُس کے بعد جب بھی آسمان سے گولہ بارود برستے ہوئے ہماری طرف آتے میں جیب سے فون نکالتا اور سلوا سے کہتا آؤ ہم مل کر ہنسیں، یہ بچے ہیں جو عید پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ “

عبداللہ کا مزید کہنا ہے، ”میں نہیں چاہتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اُسے میں اپنی بچی کے آگے بُرے عمل کے طور پر پیش کروں، میں اسے مضحکہ خیز کھیل کے طور پر سلوا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ “

” ایک روز سلوا خود ہی جان جائے گی کہ یہ موت کی آواز ہے لیکن تب تک اُسے معلوم ہو جائے گا کہ ہم کون ہیں اور ہماری کہانی کیا ہے۔ “

بچوں کے کھلونے اور سائنسی تحقیق

ترقی یافتہ اور ’مہذب‘ معاشروں میں بچوں کی نشوونما کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے سائنسی تحقیق کی جاتی ہے۔ بچوں کی عمر کے حساب سے کھلونے تیار کیے جاتے ہیں، گھروں اور کنڈر گارٹنز میں بچوں کے حواس خمسہ کو بہترین طریقے سے متحرک بنانے کے لیے ان کی عمر کے حساب سے کھلونے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایسی ادراکی تعلیم جو بصیرت سے حاصل ہو اُس کی تدریج کے لیے ٹیچرز کو تربیت دی جاتی ہے۔ گویا بچوں کی پرورش پر تمام تر توجہ مرکوز کی جاتی ہے تاکہ جسمانی اور ذہنی اعتبار سے ایک صحت مند نسل کو پروان چڑھایا جا سکے۔

ترقی یافتہ معاشروں میں بچوں کی عمر کے حساب سے کھلونے تیار کیے جاتے ہیں اور کھلونا سازی میں اس امر کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ جن اجزاء سے یہ کھلونے تیار کیے جا رہے ہیں اُن میں کوئی نقصان دہ مادی اجزاء شامل نہ ہوں۔ اس امر کو بھی غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے کہ بچوں کے کھلونوں میں کوئی ہتھیار یا جنگی سامان شامل نہ ہو نیز اُن کی عمروں کے حساب سے انہیں کھلونوں کی اقسام فراہم کی جائیں۔

دہرا معیار

ترقی یافتہ معاشروں میں ایک طرف تو اپنی آئندہ نسل کو جسمانی، ذہنی، شعوری ہر اعتبار سے صحت مند بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں دوسری جانب یہی بڑی طاقتیں، جن کی معیشت مضبوط ہے، جن کی اقتصادیات کا دار ومدار بڑی حد تک ان کی درآمدات اور برآمدات پر ہے، جدید ترین اسلحہ سازی اور ان کی برآمدات کر رہی ہیں۔ امریکا، یورپی ممالک اور روس دنیا بھر میں اپنے اسلحے کی برآمدات کے سلسلے میں مقابلے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ SIPRI کے گزشتہ برس کے شائع ہونے والے اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں جدید ترین جنگی ہتھیاروں کی برآمدات کرنے والے ملکوں کی فہرست میں سب سے اوپر امریکا، دوسرے نمبر پر روس، تیسرے پر فرانس، چوتھے پر جرمنی اور پانچویں نمبر پر چین ہے جبکہ ہتھیار درآمد کرنے والے ملکوں میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے جبکہ آسٹریلیا دوسرے، چین تیسرے بھارت چوتھے اور مصر پانچویں نمبر پر ہے۔

یہ ہتھیار کہاں اور کس کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب ہی اس امر کی وضاحت کرے گا کہ آیا سلوا جیسے ہزاروں لاکھوں بچے بموں کو ہتھیار اور گولہ باری اور فائرنگ کو کھیل سمجھ کر ان سے کب تک دل بھلاتے رہیں گے؟ شام ہو یا لیبیا، افغانستان ہو یا فلسطین، یمن ہو یا کشمیر ہر جگہ آگ و خون کا کھیل جاری ہے۔ ان علاقوں میں کئی کئی نسلیں اسی ماحول میں پیدا ہو کر اسی میں ختم ہو رہی ہیں۔ ہے کوئی جو دنیا میں ایسی صورتحال کا موجب بننے والے عناصر سے سوال کرے کہ کیا دنیا کے تمام بچوں کوجینے اور بہتر مستقبل کا خواب دیکھنے کا یکساں حق حاصل نہیں؟
بشکریہ ڈوئچے ویلے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *