عورت مارچ کے نام پر فحاشی بند کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسے جیسے مارچ کے آغاز میں منایا جانے والا خواتین کا عالمی دن قریب آرہا ہے، ویسے ویسے ہمارے ہاں عورتوں کے حقوق کے علمبردار پچھلے سال کی طرح پھر سے عورت مارچ کی تیاریوں میں زور شور سے مصروف ہیں۔ اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس دفعہ کا عورت مارچ پچھلے والے سے بھی زیادہ جوش اور جذبے سے منائیں گے۔ اب کہنے کو یہ حضرات عورتوں کے حقوق اور ان کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کی بات کرتے ہیں۔ مگر در حقیقت ان کا مقصد کچھ اور ہی ہوتا ہے۔

وہ مقصدعورتوں کے حقوق کی آڑ میں ہمارے جیسے اسلامی سماج میں فحاشی کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ جس کو یہ لوگ، ہمارے بیرونی دشمنوں کے آلِہ کار بن کے بخوبی سرانجام دیتے ہیں۔ اس کام کے لیے ان کو اچھے خاصے پیسے بھی ملتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کے ان نام نہاد علمبرداروں کو شاید لگا تھا کہ ان کی یہ سازش کبھی بے نقاب نہیں ہو گی اور وہ اپنے مذموم مقاصد میں بہت آسانی سے کامیاب ہو جائیں گے۔

مگر ان کو کیا پتا تھا کہ ہمارے اس سماج میں اسلام اور ملک کے دفاع کرنے والے لوگوں کی بالکل بھی کمی نہیں ہے۔ اسی لیے تو جوڈیشل ایکٹوزم کونسل کے چئیرمین اظہر صدیق نے عورتوں کے حقوق کے ان نام نہاد علمبرداروں کی اس گھناونی سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ جس میں انھوں نے بجا طور پر یہ موقف اپنایا کہ درحقیقت یہ عورت مارچ اسلامی شعائر کے منافی ہے اور اس کے ذریعے معاشرے میں بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ہمارے بیرونی دشمنوں کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ جناب اظہر صدیق نے عدالت سے اس مارچ کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کو روکے جانے کی استدعا کر کے ایک سچے مسلمان اور محب وطن شخص ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ جس کو جتنا بھی سراہا جائے وہ کم ہے۔ اور پھر بھلا ہو ہماری لاہور ہائی کورٹ کا بھی، کہ انھوں نے بھی اتنے حساس معاملہ کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے نا صرف اس درخواست کو سماعت کے لیے منظور کیا ہے بلکہ وفاقی حکومت کے نمائندوں کو نوٹس بھی جاری کر کے ان سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔

اس ساری صورتحال پر عورتوں کے حقوق کے یہ نام نہاد چیمپئن اب یہ کہیں گے کہ ان پر لگائے گئے یہ سارے الزامات جھوٹے اور من گھڑت ہیں۔ حالانکہ ان کو کوئی بتائے کہ باقی سب تو چھوڑ دیں صاحب، آپ بس اپنے پچھلے سال کے عورت مارچ میں لائے گئے پلے کارڈز اور پوسٹرز پر لکھے ہوئے نعروں پر ایک نظر ڈال لیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا۔ جیسا کہ ”میرا جسم میری مرضی“، ”اپنا کھانا خود گرم کرو“، ”لو بیٹھ گئی صحیح طرح سے“، ”دوپٹہ اتنا ہی پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو“، ”عورت بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے“، ”کونسنٹ کو عزت دو“ اور ”آج صحیح ماں بہن ایک ہو رہی ہے“۔

کیا یہ سب نعرے اسلامی شعائر کے خلاف نہِیں ہیں؟ اور جس قسم کا لباس پہن کر یہ عورتیں اس مارچ میں آتی ہیں ان سے فحاشی کو فروغ نہیں ملتا کیا؟ اب یہ کہیں گے کہ یہ سب عورتوں کے مسائل ہیں جن کا سامنا انھیں اس سماج میں کرنا پڑتا ہے اور اس کے لیے انھیں کسی سے کوئی فنڈنگ نہیں ملتی۔ تو بھائی ہمارے عوام اتنے سادہ لوح نہیں ہیں کہ ان کو اس بات کا پتا ہی نہ چل سکے کہ عورتوں کے حقیقی مسائل کون سے ہیں اور یہ کہ اس طرح کے عورت مارچ میں صرف وہی عورتیں شامل ہوتی ہیں جن کا تعلق ان این جی اوز سے ہوتا ہے جو کہ بیرونی ایجنڈے کے تحت پیسے لے کر ہمارے ملک کے خلاف کام کر رہی ہیں۔

اس لیے میری لاہور ہائی کورٹ سے یہ استدعا ہے کہ وہ اگلی سماعت میں فوری طور پر عورت مارچ کے انعقاد پر پابندی لگا دیں اور بیرونی دشمنوں کے آلہ کار بن کر اس کا انعقاد کرنے اور اس کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دے دیں۔ کیونکہ ہمارے جیسے اسلامی سماج میں اس طرح کا ایونٹ جس سے بے حیائی کو فروغ ملے، وہ کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

جہاں تک بات عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی، گھریلو تشدد، جنسی ہراسگی، میریٹل ریپ، غیرت کے نام پر قتل، ونی، چہرے پر تیزاب پھینکنے، مرضی کے بغیر شادی اور جائیداد میں حصہ نہ دینے والے واقعات ہیں تو یہ سب محض ہمارے اسلامی سماج کو بدنام کرنے کے لیے ہمارے دشمنوں کی طرف سے کیے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈہ اور سازش کے سوا کچھ نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *