لغت زبان کا منبع نہیں، مستعمل کی بازگشت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند ذریعہ نہیں ہے۔ “

”کیوں اور کیسے بلکہ کیونکر؟ “

”عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء ِ لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔ “

”اگر لغت ثانوی ذریعہ ہے تو کیا لفظ کا معنی آسمان سے ٹپکتا ہے؟ “

”نہیں حضور! زمین سے پھوٹتا ہے، جہاں ازل سے اگ رہا ہے۔ لغات اس پیداوار کے ذخائر ہیں۔ “

” یعنی جہاں بھی، جیسی بھی، پیداوار ہوگی، لغت ذخیرہ کر لے گی“

” جی سرکار! یہ اس کی وجودی اور ساختیاتی مجبوری ہے۔ “

”چاہے کوئی بھی لفظ ہو، کسی بھی رائج معنی کے ساتھ“

” جی یقیناً، فقط ایک شرط ہے : سماج نے اس لفظ کا معنی متعین کر دیا ہو مسلسل استعمال سے“

” کوئی استثنیٰ؟ “

” کوئی نہیں“

” لاحول ولا قوہ۔ پھر تو نازک اعضاء کے نام اور ان کے حساس اور مرغوب اہداف تک مطلوبہ فرضی رسائی کے لئے سماجی طور پر متعین الفاظ بھی لغت میں موجود ہونے چاہئیں؟ “

” چاہئیں نہیں، قبلہ! موجود ہیں۔ باقی چھوڑیں، فرہنگِ آصفیہ سے متعلق بابائے اردو مولوی عبد الحق کی معروف رائے ملاحظہ کیجئے :

’فحش الفاظ جمع کرنے میں خاص اہتمام کیا ہے اور کوئی ایسا فحش لفظ یا محاورہ نہیں ہے جو ان کی نظر سے بچا ہو‘

” تو پھر“

” بھئی یہ تو لغت کی خوبی ہے کہ وہ اپنی تہذیب کی نمائندہ ہو، اس کا مرقع ہو مکمل طور سے۔ “

” تو مطب یہ ہوا کہ لغت لوگوں کی زبان بولتی ہے؟ “

” لغت نہیں بولتی، زبان بولتی ہے سماج کے ذریعے۔ لغت سنتی ہے اور لکھ لیتی ہے۔ “

” میں اتفاق نہیں کرتا، یہ صرف سماج ہی کی نہیں اپنی تدوین کرنے والے کی زبان بھی بولتی ہے“

” اور اس کی تدوین کرنے والا کس کی زبان بولتا ہے، اپنی تہذیب کی یا لغت کی؟ حضورِ والا! مکرر عرض ہے : لغت خطیب نہیں سامع ہے، انتہائی اعلی سامع، حیران کن یادداشت اور وسعت کی مالک۔ “

” بھئی اہلِ زبان، لغت اور قواعد کے ذریعے ہی سے تو زبان کو پروان چڑھاتے ہیں۔ “

” فضیلتہ الشیخ! زبان سخن شناسوں ‌ کی محفلوں میں ہی نہیں گلی محلوں، تھڑوں اور سڑکوں ‌میں بھی پروان چڑھتی ہے۔ جہاں نیا اظہاریہ درکار ہوتا ہے، وہیں نیا لفظ جنم لیتا ہے اور پھر بقدرِ افادیت وہ لفظ یا جملہ زبان زد عام ہو جاتا ہے۔ زبان کا دامن وسیع ہو جاتا ہے۔ “

” اور اہلِ زبان چنے بھونتے رہ جاتے ہیں۔ ہیں نا؟ “

ارے کہاں حضور پر نور! نیا لفظ یا جملہ پھر زبان کے زبردستی کے پاسبان معاف کیجئے گا، زبردست پاسبان اسے تطہیر کے عمل سے گزارنے کی کوشش کرتے ہیں ‌۔ اجازت ہے اور اجازت نہیں ہے کے دم چھلے لگا لگا کر اس کے استعمال یا امتناع کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ لیکن لفظ وہی زندہ رہتا ہے جو خلق خدا کی زبان پر ہوتا ہے۔ ”

”لیکن میں ابھی بھی آپ سے متفق نہیں ہوں کہ لغت ہر غلط سلط اور اہلِ زبان کا مسترد شدہ لفظ ذخیرہ کر لے گی“

” بھئی لوگ بولیں اور لکھیں گے تو لغت کو اسے اپنے دامن میں جگہ دینی پڑے گی اور دینی چاہیے۔ اپنے خود ساختہ مقام کے دوام کے لیے زبان کو جامد نہ کریں خدارا! اسے پھلنے پھولنے دیں“

” اچھلنے کودنے بھی دیں؟ “

” جی کوئی حرج نہیں، اچھل کود زبان کی صحت کے لئے مفید عمل ہے۔ سانس پکّا ہوتا ہے اس سے۔ دور تک چلتی ہے زبان بغیر سانس اکھڑے“

” سانس نہ اکھڑے، چاہے جڑیں اکھڑ جائیں! “

” بندہ پرور! آپ لمبے لمبے سانس لیں اور غصہ نہ کریں۔ کچھ نہیں ہوگا جڑوں کو بلکہ روایت میں جدت کی آمد سے یہ شجر اور بھی ہرا بھرا ہو جائے گا۔ “

” غلط العام اور غلط العوام کے کانٹوں کے ساتھ یہ ہریالی ہمیں منظور نہیں۔ “

” لیکن آپ کی منظورِ نظر، لغت منظور کر لے گی، اور کرتی ہے۔ “

” بھئی وہ کیوں کرے گی؟ “

” وہ کرتی ہے اور کرے گی۔ ضرور کرے گی۔ وہ مستعمل ہی کی تو بازگشت ہے۔

(بھائی فیصل اقبال اعوان، آپ سے یہ توقع نہیں تھی کہ آپ علمی بحث کی آڑ میں ہمارے عزیز دوست ظفر عمران المعروف بہ لسانی شدت پسند کی یوں بھد اڑائیں گے۔ آپ جو بھی کہتے اور لکھتے رہیں، ہمارا پختہ ارادہ ہے کہ علامہ ظفر عمران سے رہنمائی لیں گے۔ مستعمل پہ نامانوس اور غریب کو ترجیح دیں گے، بھلے اس جگر کاوی میں ہماری اور اردو زبان کی لحد کھد جائے۔ مدیر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *