لاہور ادبی میلہ، ہم بھی وہیں موجود تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپریل دو ہزار تیرہ میں جب لاہور ادبی میلے کا آغاز ہوا تھا تو لاہور کے ادیب اور شمال کے عاشق، مستنصر حسین تارڑ صاحب نے اسے ”لاہور کا انگلو انڈین ادبی میلہ“ قرار دیا تھا۔ ہم جو اردو بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں، انگلو انڈین میلہ کا نام سنا تو کچھ ایسے بدظن ہوئے کہ اگلے چھ ادبی میلوں میں شرکت کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔ فروری کے دوسرے ہفتے ایکسپو سنٹر لاہور میں عالمی کتب میلہ لگا تو ہمیں تازہ تازہ تنخواہ ملی تھی اس لیے کتابوں پر دل، ہاتھ اور جیب کھول کر خرچ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہماری خریدی ہوئی نصف درجن کتابوں میں ایک اورحان پاموک کا ناول ”اسنو“ بھی تھا جسے پہلی فرصت میں ہی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی ناول آدھا بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک دن ہمارے دوست فرحان احمد خان نے اطلاع دی کہ جمعہ کو اورحان پاموک لاہور آرہے ہیں اور وہ لاہور ادبی میلے کے افتتاحی سیشن میں شریک ہوں گے۔ ہم نے مستنصر حسین تارڑ سے غائبانہ معافی مانگتے ہوئے لاہور ادبی میلہ میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔

اپنی چائنا موٹر سائیکل بیس روپے کے عوض پارکنگ میں کھڑی کرکے الحمرا کے احاطے میں داخل ہوئے تو مستنصر حسین تارڑ صاحب کے الفاظ ایک بار پھر ذہن کے کسی گوشے سے نمودار ہوئے اور کسی ٹی وی اسکرین کے نیچے چلنے والے ٹکرز کی طرح لفظ بہ لفظ نظر کے سامنے سے گزرتے رہے۔ ”ڈرٹی رِچ لوگ جن کو میں نہیں جانتا تو وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ حساب برابر ہو گیا“ ہم نے مستنصر حسین تارڑ صاحب سے ایک بار پھر غائبانہ معافی مانگی اور آگے بڑھے۔

ہال نمبر ایک میں داخل ہوا تو وہاں قوالی چل رہی تھی، واپس مڑنے ہی والا تھا کہ ایک ہشاش بشاش نوجوان سامنے سے آتا دکھائی دیا اور میرے ہاتھ میں ”اسنو“ دیکھ کر پوچھا، آپ بھی اورحان پاموک کے لیے آئے ہیں؟ نوجوان کے سوال کا جواب مسکراہٹ سے دے کر آگے بڑھے تو آخری نشستوں میں ایک انگریزی اسکول کے انگریز پرنسپل کے ساتھ خالی نشست مل گئی۔ قوالی ختم ہوئی تو لاہور ادبی میلے کے بانی رضی احمد اسٹیج پر آگئے اور ایک ایک کرکے مہمانوں کو اسٹیج پر بلایا۔

ہال میں ہلکی پھلکی تالیاں بجتی رہیں۔ سب سے آخر میں اورحان پاموک کا نام پکارا گیا اور جب وہ اسٹیج پر چڑھنے لگے تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور میرے دائیں جانب بیٹھے ایک کیمرہ مین جو خوشی کا اظہار بھرپور انداز سے کرنے کی ہمت رکھتا تھا، کھڑے ہوکر نہ صرف تالیاں بجائی بلکہ ایک دو سیٹیاں بھی بجائی، دل نہیں بھرا تو ہلکی سی چیخ مارنے کی بھی کوشش کی۔ بھرپور پزیرائی سے متاثر ہوکر انگریز پرنسل صاحب نے مجھ سے پوچھا ”ہو اِز دِس؟

ہم نے انگریزی کے تمام ذخیرہ الفاظ کو مجتمع کرکے انگریز پرنسپل کو صرف اتنا بتا سکے کہ یہ ترک ادیب اورحان پاموک ہیں۔ انگریز کو چپ دیکھ کرہم فخر سا محسوس کرنے لگے کہ ایک انگریز کو ہم نے نہ صرف ان کی زبان میں جواب دیا بلکہ ایسا تسلی بخش جواب دیا کہ وہ چپ بھی ہوگئے۔ انگریز پرنسپل کو شاید ہماری انگریزی کا امتحان لینا مقصود تھا، لہذا ایک اور سوال داغ دیا ”واٹ ہی رائٹ؟ ہم نے ایک بار پھر انگریزی کے ان الفاظ کا سہارا لے کر جن کو ادا کرتے ہوئے ہماری زبان نہیں لڑکھڑاتی، انگریز پرنسل کو جواب دیا کہ یہ ناولسٹ ہیں اور ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا“ اسنو ”بھی دکھا دیا تاکہ انگریز تیسرے حملے کی جرات نہ کرے۔ انگریز پرنسپل کو جب یقین ہوگیا کہ ہم پاکستان کے چند“ پڑھے لکھے ”افراد میں سے ایک ہیں تو جیب سے اپنا وزٹنگ کارڈ نکال کر یہ کہتے ہوئے مجھے تھما دیا کہ وہ بچوں کے لیے کتابیں لکھتے ہیں، کبھی ملنے کا شوق ہوا تو رابطہ کریں، آپ سے دوبارہ مل کر ہمیں خوشی ہوگی۔

ابتدائی سیشن کے ابتدائی کلمات کے بعد باقی مہمانوں کو رخصت کیا گیا تو اسٹیج پر اورحان پاموک نے کچھ ایسا قبضہ جما لیا کہ احمد رشید میزبان ہونے کے باوجود میزبانی بھول گئے۔ اگلے ڈیڑھ گھنٹے تک ہال میں صرف اور صرف اورحان پاموک تھے، ان کے لہراتے ہاتھ تھے، چبا چبا کر ادا کے گئے لفظ تھے اور ان کے گونجتے قہقہے تھے۔ جب جب پاکستان کا نام آتا ہے، لاہور اور اقبال کا نام ضرور آتا ہے، صرف ووٹ ڈالنے کو ہم جمہوریت کا نام دیں تو ترکی میں بہترین جمہوریت ہے، میں نوبیل انعام یافتہ نہ ہوتا تو شاید جیل میں ہوتا کیونکہ ترکی میں میرے اکثر دوست جیلوں میں قید ہیں، بارہ سالوں سے سال کے چھ مہینے نیویارک میں گزارتا ہوں لیکن میں نیویارک پر کوئی کوئی ناول نہیں لکھ سکتا کیونکہ نیویارک میں اپنے گھر کے سوا کسی کے گھر میں نہیں گھسا جبکہ استنبول کے رگ رگ سے میں واقف ہوں، یہ چند اقوال زرین اورحان پاموک کے منہ سے نکلے اور ہمارے ذہن کی دیوار سے چسپان ہو گئے۔ ڈیڑھ گھنٹے کا سیشن کب ختم ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔

اورحان پاموک نکلے تو ولی نصر آگئے اور ہم ایک بار پھر ہمہ تن گوش ہوگئے، لوگوں کی دلچسپی اور ہزاروں افراد کی گنجائش والے ہال کو بھرا ہوا دیکھ کر خوشگوار حیرت ہورہی تھی۔ ولی نصر اور ملیحہ لودھی نے گلوبلائزیشن اور تازہ ترین عالمی سیاست پر سیر حاصل گفتگو کی۔ یہ سیشن ختم ہوا تو ہم نے دفتر کا رخ کر لیا۔ اتوار کو صبح صبح ولی نصر کا ایک اور سیشن تھا جس میں وہ افغانستان میں امن معاہدے پر گفتگو کرنے والے تھے۔

ہم اپنی کاہلی کے باعث ایک اہم سیشن میں بیٹھنے سے محروم ہوگئے۔ ڈیڑھ بجے الحمرا پہنچے تو ہماری پہلی منزل ہال نمبر دو تھا جہاں وجاہت مسعود صاحب ”اجتماعی ذہانت کے زوال“ پر گیان بانٹ رہے تھے۔ ہم ہال کے دروازے پر پہنچے تو پتہ چلا ہال میں جگہ ہی نہیں۔ یہ سوچ کر کہ شاید اردو سامعین کی تعداد زیادہ ہوگی، ہال نمبر ایک کا رخ کیا جہاں انگریزی محفل جمی ہوئی تھی لیکن صورتحال وہاں بھی مختلف نہیں تھی۔ بند دروازے کھلنے کے انتظار میں لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔

ہم بھی کچھ دیر لائن میں لگنے کے بعد باہر آگئے۔ تھوڑی دیر پشتو موسیقی پر نوجوانوں کا اتان ڈانس دیکھا، وہاں کسی نے بتایا کہ ہال نمبر تین میں وسطیٰ ایشیاپر سیشن جاری ہے اور اچھی بات یہ ہے کہ وہاں بیٹھنے کی جگہ بھی ہے۔ ہم وقت ضائع کیے بغیر ہال نمبر تین پہنچنے۔ سیشن ایسا شاندار تھا کہ اگر ہم وہاں نہ جاتے توایک بڑی نعمت سے محروم رہ جاتے۔

ڈھائی بجے وہ سیشن ختم ہوا تو ہم نے دفتر کا چکر لگانے کا سوچا تاکہ وقت سے پہلے تھوڑا کام کرکے چار بجے اورحان پاموک کا آخری سیشن میں شرکت کے لیے دوبارہ آسکوں۔ اورحان پاموک کے ساتھ محسن حمید کی گفتگو چار بجے شروع ہونے تھی لیکن ہم ایک بار پھر لیٹ ہوگئے۔ چار بج کر پانچ منٹ پر ہال نمبر ایک پر پہنچے تو دروازے ایک بار پھر بند تھے۔ کئی دروازوں پر دستک دینے اور سیکیورٹی پر معمور کئی نوجوانوں کی منت سماجت کے بعد بھی جب اندر داخل ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو ہم نے پہلے دن کے سیشنز کو غنیمت جان کر واپسی کی راہ لی۔

آٹھ سال بعد لاہور ادبی میلے میں شرکت کرکے کم از کم یہ تو واضح ہوگیا کہ اس ملک میں اب بھی کتاب سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں ہے، ہاں اچھی کتابوں کی کمی ضرور ہے۔ جو ادب انتظار حسین، عبد اللہ حسین اور مستصر حسین تارڑ نے تخلیق کیا ہے، اس جیسا ادب آج بھی تخلیق ہورہا ہوتا تو اسٹیج پر پاکستانی نظر آتے اور اردو میں بول رہے ہوتے۔ ایسا نہیں ہو رہا تو ادبی میلہ سجانے والے بھی ان لوگوں کو بلانے پر مجبور ہیں جو اپنی اپنی زبانوں میں انتظار حسین، عبد اللہ حسین اور مستصر حسین تارڑ جیسا ادب تخلیق کر رہے ہیں اور وہ ادب ترجمہ ہوکر ہم تک پہنچ رہا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *