یہودیوں کا رہن سہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت پسند یہودی مرد عموماً کالے لمبے کوٹ پہنتے ہیں، داڑھی رکھتے ہیں اور سر کے بال کانوں سے نہیں منڈواتے باقی سر منڈوا سکتے ہیں صرف کانوں کے پاس بالوں کی لمبی لٹیں رکھتے ہیں جو عام طور پر اکٹھی کر کے سر پہ پہنے ہیٹ میں چھپا لیتے ہیں۔

عورتوں کے پردے میں سر ڈھانپنا لازمی ہے جس کے لئے عام طور پر وہ نقلی بالوں کی وگ استعمال کرتی ہیں۔ شادی اپنے مذہب میں کرتے ہیں اور شادی سے پہلے میل ملاپ کی گنجائش نہیں، شادی کے فنکشن میں عورتوں اور مردوں کو علیحدہ بٹھایا جاتا ہے بیچ میں پردہ رکھتے ہیں۔ بچے زیادہ پیدا کرتے ہیں جس کی ایک وجہ مذہبی جیوش گھرانوں میں ٹیلیویژن کا نہ ہونا سمجھا جاتا ہے، بچے کی پیدائش کے آٹھویں دن اس کے ختنے کر دیے جاتے ہیں۔

شبات:

ہر جمعے کی شام سے ہفتے کی شام تک جب تک آسمان پر 3 ستارے نمودار نہ ہو جائیں شبات کا دن کہلاتا ہے، اس دن یہودی کوئی کام نہیں کرتے، بجلی کا استعمال نہیں کرتے اگر کریں بھی تو بٹن آن آف نہیں کر سکتے مثال کے طور پر فریج کا دروازہ کھولنے سے بلب جلتا بجھتا ہے تو اس کی لائٹ والے بٹن پر ٹیپ لگا کر اسے بھی بند کر دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ٹشو پیپر تک پہلے سے پھاڑ کر حسبِ ضرورت رکھ لیے جاتے ہیں کہ دورانِ شبات کسی چیز کو کاٹنا یا پھاڑنا منع ہے، کھانا پہلے بنا کے رکھ لیا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی نہیں بنا سکتے، گاڑی ڈرائیو نہیں کرتے، آگ نہیں جلاتے، ٹی وی نہیں دیکھتے، لکھنے والا کوئی کام نہیں کرتے۔ غرض عبادت، آرام اور ملنے جلنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرتے۔

کوشر:

کوشر کو حلال بھی سمجھا جا سکتا ہے لیکن یہ اس سے کچھ زیادہ ہے جیسا کہ کوشر میں جانور کے حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ جگالی کرتا ہو اور اس کے سم پھٹے ہوئے ہوں۔ اسلام میں گھاس اور پتے کھانے والے بیشتر جانور حلال ہیں۔ اس طرح کئی جانور جیسے کہ اونٹ، چونکہ اس کے سم پھٹے ہوئے نہیں ہوتے، اسلام میں تو جائز ہیں لیکن کوشر میں ناجائز۔

کوشر میں سور، سارے کے سارے حشرات، بغیر چانے کے سمندری جانور حرام، باقی گائے بکری مرغی مچھلی کھا سکتے ہیں، ذبح کرنے کا طریقہ بھی اسلامی طریقے کی طرح ہے۔

Latest posts by مصور احمد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مصور احمد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply