اسلام آباد ہائیکورٹ نے نارووال سپورٹس سٹی سکینڈل میں احسن اقبال کی ضمانت منظور کر لی
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نارووال سپورٹس سٹی سکینڈل میں احسن اقبال نے ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے احسن اقبال کی ایک کروڑ کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ احسن اقبال حراست میں نہ ہوں تفتیش پھر بھی ہوسکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں احسن اقبال کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ نیب کسی شخص کو گرفتار کرکے اس پر ٹارچر نہیں کرتا۔ قانون میں ٹارچر کرنے سے منع کیاگ یا ہے۔ کسی پر ٹارچر کیا جائے تب اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔عدالت نے کہا کہ ہمیں کوئی عدالتی فیصلے دکھا دیں جو آپ کے موقف کی تائید کرے۔ نیب پراسیکیوٹر نے بھارتی اور پاکستانی عدالت کا فیصلہ پیش کر دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شاہد خاقان اور احسن اقبال کو ابھی تک ہم قصور وار تصور کرسکتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ جب تک جرم ثابت نہیں ہوتا اسے بے قصور ہی تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ شاہد خاقان اور احسن اقبال ایک ایک حلقے کے نمائندے بھی ہیں۔ شاہد خاقان اور احسن اقبال ابھی عوامی نمائندگی کیلئے نااہل نہیں ہوئے۔ جرم ثابت کئے بغیر قید رکھنا ووٹرز کو نمائندگی سے محروم رکھنا بھی ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسارکیاکہ ایسی کیا وجوہات تھیں کہ جن پر گرفتاری ہی ضروری سمجھی گئی؟ نیب بڑے بڑے ملزمان کو معاف کر کے وعدہ معاف گواہ بنا سکتا ہے۔ نیب نے ایک وفاقی سیکرٹری کو دوسرے کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنا دیا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی کو بغیر متضاد مواد کے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیاکہ نیب کے کسی ملزم کو گرفتار کرنے کا طریقہ کار کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں، نیب عدالت کومطمئن کرے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اگر نیب مطمئن نہیں کر سکتا تو یہ غیرمعمولی صورتحال ہو گی۔ نیب کسی کو غیرضروری گرفتار کر کے تضحیک نہیں کر سکتا۔ بہت سے ملزمان ایسے ہیں جن کا ٹرائل چلتا ہے لیکن نیب انہیں گرفتار نہیں کرتا، انکوائری اور تفتیش میں تعاون کرنے والے کو گرفتار کرنا کیوں ضروری ہے؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کے اختیارات بہت وسیع ہیں۔ جتنی اختیارات میں وسعت ہو گی اتنا ہی عدالت اس کا زیادہ جائزہ لے گی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے دلائل مکمل ہونے پر نارووال سپورٹس سٹی سکینڈل میں احسن اقبال کی ضمانت منظور کر لی۔


