میرا جسم مولوی کی مرضی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ 2020 اس برس پدری سماج پر سندھو کنارے پر بم برسانے جا رہا ہے۔ جس کے آفٹرشاکس کا انتظار تھا لیکن زمین تو ابھی سے ہلنے لگی ہے منبروں، خانقاہوں میں کھلبلی مچ گئی ہے جیسے اعلان جنگ ہوا ہو ایسے پدری فوج دفاع کا لائحہ عمل جوڑنے میں لگ گیا ہے۔ بھائی ایک دو نعروں، دوچار بینرز سے اتنے خائف کہ فیس بکی مجاہدوں نے بالآخر ماحول کی مناسبت سے اپنے فرسودہ ذہن کے کباڑخانوں میں سنبھالے ناکارہ قسم کے الفاظ میں لعن طعن کی گولا باری شروع کردی ہے وہیں سے کچھ ان کو مزاحمت کا سامنا بھی ہے جو کہ پہلے سے کافی زیادہ ہے۔ مانیں یا نا مانیں سوشل میڈیا نے رجعت پسندانہ خیالات اور پدری معاشرے کے مورچوں میں کافی دراڑیں ڈال دیں ہیں۔ لوگ اب سوچتے ہیں سمجھتے ہیں اور بول بھی رہے ہیں۔

یہ محاذ آرائی تب شروع ہوئی جب قدامت پرست مذہبی جماعت جے یو آئی نے سکھر کے قریب پنوعاقل میں ایک بیٹھک لگائی اور علماء نے بیٹھ کر یہ طے کیا کہ کہیں نا کہیں عورتوں کے باہر نکلنے سے اسلام کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور اس قسم کا ماحول پیدا کیا جائے کچھ بھی کیا جائے ان عورتوں کو روکا جائے۔ جیسا کہ اس مرتبہ عورت مارچ کا محور سکھر ہے تو انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہم قانون کے دائرے میں رہ کر اس مغربی سازش کو روکیں گے۔ انہوں نے کل اپنی پریس کانفرنس کردی اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثہ شروع ہوگیا۔

کچھ لوگوں نے اسے سازش قرار دیا تو کچھ لوگوں نے جے یو آئی سندھ کی اہم شخصیت علامہ راشد محمود سومرو سے گزارش کی اور شکوہ بھی کیا کہ کیسے لوگ آپ کی تنظیم میں ہیں جو پر امن عورت مارچ کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں علامہ راشد محمود کا ایک ویڈیو بیان جاری ہوا جس میں علامہ صاحب نے اس اجلاس کو اون کیا اور کہا کہ عورت مارچ ہونے جا رہا ہے جس کو مد نظر رکھ کر ہم نے اجلاس کیا ہے۔ اگر عورت اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے تو اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اور عورت کے حقوق جتنے اسلام نے دیے ہیں اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے۔ عورت کو جتنا تحفظ اسلام نے دیا ہے کسی اور مذہب نے نہیں دیا ہے۔ لیکن ”میرا جسم میری مرضی“ کے نام پر اگر اس ملک کو سیکیولر اسٹیٹ بنانے کی کوشش ہو گی، فحاشی اور عریانی کی طرف لے کر جانے کی بات ہوگی تو کسی صورت ہم ان ایکٹوٹیز کو قبول نہیں کریں گے۔ اس حوالے سے ہم نے کوشش کی ہے کہ انتظامیہ کو شامل کریں میری سکھر کی انتظامیہ سے بات ہوئی ہے میں نے انہیں کہا ہے کہ اس قسم کے معاملات پر وہ نوٹس لیں۔ اور قانون حرکت میں آئے ہم قانون ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے قانون والے ادارے خود اس معاملے کا نوٹس لیں۔

علامہ صاحب کے اس بیان میں دو باتیں زیر غور ہیں ایک میرا جسم میری مرضی، دوسرا سیکیولر ازم کے نام پر فحاشی اور عریانی پھیلانا۔ علامہ صاحب پہلے تو آپ ہند کے 25 کروڑ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی جمیعت علمائے اسلام ہند کو سمجھائیں کہ وہ پچیس کروڑ اہل ایمان کے لئے سیکیولر ازم کو ہی کیوں اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ کیوں وہ سیکیولر ازم پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یا پھر آپ کو پتا ہی نہیں کہ سیکولر ازم کیا ہے یا آپ جان بوجھ کر اپنے سادہ لوح فالوئرز کو سیکولر ازم کی غلط تشریح کر کے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیکولر ازم میں ایسی کون سی فحاشی اور عریانی ہے ایسا کون سا فحش ماحول چھپا ہے جو 25 کروڑ ہندوستانی مسلمانوں کو نظر نہیں آتا آپ نے اسے ڈھونڈ نکالا ہے۔ یا سیدھی بات یہ ہے کہ وہاں سیکیولر ازم آپ کے مفاد میں ہے یہاں آپ کے مفاد میں نہیں اس لیے خراب تو نہیں؟

علامہ صاحب اگر آپ لوگوں کو گمراہ کرنے کی نیت سے سیکیولر ازم کو ٹارگٹ کر رہے ہیں یا واقعی آپ کو سابق ہوم منسٹر چودھری نثار علی خان کی طرح سیکیولر ازم کا پتا نہیں تو تھوڑا سا تعارف کروا دوں؟

سیکولر ازم قطعی طور پر مذہب نہیں نا ہی سیکیولر ہونا ملحد ہونے کے مترادف ہے یا فحش اور عریاں ہونا ہے۔ سیکیولر ازم ایک سیاسی فلسفہ ہے اس کا یہ مقصد ہے کہ ریاست اور مذہب کا محور علیحدہ علیحدہ رہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ مذہب ختم کیا جائے مگر یہ کہ ریاست کا کسی بھی مذہب سے تعلق نہ ہو۔ اگر اور واضح کریں تو سیکیولر ازم کہتا ہے کہ مذہب انسانوں کا ہوتا ہے ریاست کا نہیں۔ انگریزی میں فقرہ استعمال کیا جاتا ہے کہ Separation Of Church And State اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایسے تمام قوانین جو کسی فرقے کے ساتھ امتیازی سلوک کریں وہ ختم کردیے جائیں۔ اور سیکولر ازم میں یہی وہ گیدڑ سنگھی ہے جو جے یو آئی ہند کو نظر آ رہی ہے اور آپ ماننے سے انکاری ہیں۔

سیکولر ازم یہ کہتا ہے کہ ہر مذہب ان کو عزت دی جائے Freedom Of Conscience دی جائے اور ان کو سپورٹ کیا جائے اور اس یہ مراد ہے کہ ہر مذہبی کمیونٹی کو حق ہے کہ اپنے مذہبی عبادت ادا کریں اور اس پر ریاست کو مداخلت  کا حق نہیں اور ریاست سوسائٹی کے اندر موجود تمام مذاہب میں غیر جانبدار کردار ادا کرے۔  کسی مذہب کو فوقیت نہ دے اور وہ کسی مذہب سے مخاصمت نہ رکھے۔ سیکولر ازم کا مقصد ہے کہ ہر قوم ذات پات کو مذہب سے ہٹ کر ایک انسانی سماج دیا جائے۔  مذہبی افراتفری سے بچا جائے اور ریاست کے اندر ہر مذہب اور قوم کے فسادات سے بچ کر ایک شہری اور حب الوطنی کے تحت حق دیے جائیں جس میں کسی بھی مذہب پر روک ٹوک نہ ہو اور ایک مثبت اور بہتر سماج ہو اس کو سیکولر سماج کہتے ہیں۔ جس میں اگر کوئی ہندو، مسلم، کرسچن ہے تو ریاست پر اس کا برابر حق ہے۔ اللہ کرے آپ جے یو آئی ہند سے کچھ سیکھ لیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ فقرے میں کیا برائی ہے؟ اگر اسی جگہ میرا جسم مولوی کی مرضی ہو تو کیسا ہوگا یا پھر اپنے جسم پر پڑوس والے کی مرضی بھی ہوتی ہے کیا؟ میرا جسم میری مرضی کو آپ کسی فحاشی عریانی کے تناظر میں بھلے دیکھیں لیکن میرا جسم میری مرضی کا فقرہ انسان کا پہلا فطری حق ہے جس میں اس کے اپنے جسم پر اس کی اپنی مرضی ہے۔ اگر چاہیں تو آپ اس پر تحقیق بھی کر لیں۔ ہر انسان چاہے وہ مرد ہو یا عورت اسے دنیا میں واحد چیز اپنا جسم ہی جس کی حکمرانی ہے۔ اور اس فطری حق سے نا آپ کو کوئی روک سکتا ہے نا آپ کسی کو روک سکتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں کہ عورت مارچ کیوں ضروری ہے؟ جب گزشتہ برس عورت مارچ ہوا تھا تو اس پر کافی تنقید ہوئی تھی۔ جس پر میں نے بھی تنقید کی تھی۔ وہ تنقید اس تناظر میں کی تھی کہ اس مارچ میں 80 فیصد سے زائد مسائل اشرافیہ کی عورت کے ہوں تو ہوں لیکن جہاں سندھ، پنجاب، پختون، بلوچستان کی عورت خود کو انسان سمجھے جانے کی جنگ لڑ رہی ہو کم از کم اس لوئر کلاس یا لوئر مڈل کلاس کو ان باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

سندھ میں جہاں عورت کاری، ونی، خرید و فروخت، وٹے سٹے وغیرہ جیسی غیر انسانی رسموں کے جبر کے سائے میں جی رہی ہے۔ جہاں عورت کو ملکیت کے حق، تعلیم، خودکفالت کے حق سے محروم کیا جا ریا ہے، ریپ،   ہراسانی، گھریلو تشدد جیسے گھناؤنے ستم ہو رہے ہوں وہاں عورت مارچ ریلی کی صورت میں ایک جدوجہد سندھ کی عورت کے لئے تازہ جھونکا ثابت ہوگی۔ امید ہے ریلی کی میزبان تنظیم سندھ سہائی ستھ اور وومین ایکشن فورم اس ریلی کو محکوم مظلوم سندھی عورت کے حقوق کی جدوجہد ثابت کریں گی نہ کہ ایلیٹ کلاس کا تہوار۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply