کچھ یادیں یومِ تارڑ پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یکم مارچ مستنصر حسین تارڑ صاحب المعروف ”چا چا جی“ کا برتھ ڈے ہے۔ تارڑ صاحب سے میرا پہلا تعارف میری عمر کے بہت سارے بچوں کی طرح صبح کی نشریات سے ہوا۔

جس وقت ہلکا زرد سورج تازہ تازہ نمودار ہوا ہوتا اور دھوپ میں ہلکی ہلکی ٹھنڈک ابھی باقی ہوتی، گھر کے باورچی خانے میں امی کے توسط سے برتنوں کی کھڑ کھڑ سنائی دینے لگ جاتی اور کچھ ہی دیر میں گرم گرم پراٹھوں اور چائے کی خوشبو پھیل جاتی۔ بستر ابھی بے ترتیب ہی ہوتے کیونکہ مکین تازہ تازہ ہی دل پہ پتھر رکھ کے ان میں سے نکلے ہوتے اور اسکول کالجوں کی ہلچل شروع ہونے ہی کو ہوتی۔ ہم بھی طوعاً کرہاً اس منظر کا حصّہ بن جاتے لیکن سویرے سویرے اسکول جانا سخت کھل رہا ہوتا، اس وقت ”اب بچے کارٹون دیکھیں گے“ کی آواز کانوں میں گویا رس گھول دیتی یہ کہتے چا چا جی بڑے ہی پیارے لگتے تھے۔

وہ پانچ منٹ کے کارٹون ایک ایسی ٹریٹ معلوم ہوتے جو اسکول جانے کی ٹینشن اور اس سے جڑے مسلے مسائل کو کچھ دیر کے لئے بھلا دیتے۔ اس وقت ہمیں نہیں پتا تھا کہ یہ کتابیں بھی لکھتے ہیں۔ ان کی کتابیں گھر میں نظر تو آتی تھیں لیکن ہماری دلچسپی بچوں کے ادب تک محدود تھی۔ ان کی کتابوں سے باقاعدہ دوستی کالج کی لائبریری میں ہوئی۔

ڈی ایچ اے کالج کی خاموش خوبصورت لائبریری جہاں بیچ میں جہازی سائز کی لکڑی کی میزیں تھیں جن پہ ہمہ وقت کوئی نہ کوئی سر جھکاے قلم، کتابوں اور کاغذوں میں منہمک ہوتا یا سائیڈ میں دیوار کے ساتھ بنے بہت سارے چھوٹے چھوٹے کیبنوں میں کسی کتاب میں غرق ملتا اور ایک خطرناک سی لائبریرین ذراسی آواز پہ زور سے اپنی میز کو کسی بگل کی طرح بجا دیتیں (شاید اس لیے وہاں خاموشی قائم رہتی) ۔ اوپر کی سیڑھیاں چڑھو تو شیشے کی دیواروں سے پرے کمپیوٹر کا خوبصورت لیب دکھائی دیتا۔ نیچے کی طرف پانچ چھ قدم اترتی سیڑھیوں کے بعد دو تین گول میزیں تھیں اور بڑے بڑے شیلفوں کے درمیان لکڑی اور کتابوں کی ملی جلی خوشبو بسی ہوئی تھی۔ اس چھوٹے سے جہاں میں بہت کچھ سیکھنے اور پڑھنے کو ملا اور کئی بڑے ناموں سے تعارف ہوا۔

ہمیں آخری شیلفوں کے درمیان جو ابھی کتابوں سے آباد نہیں ہوے تھے کارپٹ پہ بیٹھ کے کتابوں میں کھونا بہت اچھا لگتا تھا۔ ایک تو وہاں کسی کا گزر نہیں ہوتا تھا دوسرے وہ جگہ ایک ایسا پرسکون اور جادوئی گوشہ لگتی تھی جہاں تھوڑی دیر کے لئے اپنی دنیا بسائی جا سکتی تھی۔ شروع شروع میں ایک دو بار لائبریری اسسٹنٹ نے وہاں بیٹھے پہ ٹوکا پھر وہ بھی عادی ہو گیئں، چکّر لگاتیں تو قصدا نظر انداز کر کے گزر جاتیں ہمیں ان کی یہ ادا بڑی پیاری لگتی۔

وہاں پہلی بار ”سفر شمال کے“ پڑھی تو پتا چلا یہ تو بڑی آسان کتابیں ہیں اور ناصرف سفر کا احوال ہے بلکہ ساتھ ساتھ زندگی کی حقیقی تصویریں اور فلسفہ بھی ہے جو ایک عام آدمی کی ناصرف سمجھ میں آ جاتا ہے بلکہ دل کو بھی آہستہ سے چھو جاتا ہے۔ پھر یہ سفر چل نکلا اورکبھی کبھی تو حد ہی ہو گئی ”پیار کا پہلا شہر“ کی نیلی آنکھوں والی پاسکل اور سنان نے کافی عرصہ سحر زدہ رکھا، ادھر فزکس کی ٹیچر ”فوٹون“ کا فلسفہ اور آئن اسٹائن کی تھیوری سمجھا رہی ہوتیں اور جان بوجھ کے آخری قطار میں بیٹھ کے فزکس کی کتاب میں ”پیار کا پہلا شہر“ پڑھتے ہوے ہم دریا کنارے چاندنی رات میں ”ایک دو تین اور گھوم جاؤ“ میں گم ہوتے۔

”جپسی“ پڑھ کے ہم بھی خود کو کچھ عرصہ جپسی جپسی سا محسوس کرتے رہے۔ ”دیس ہوے پردیس“ کئی بار پڑھی اور انگلستان سے چک جوگیاں کے سفر اور الجھی سلجھی کہانیوں نے خوب مزہ دیا۔ ”ہنزہ داستان“ کی خوبانیاں زبان پہ کریم آباد اور گلمت کے ذائقے گھول دیتیں۔ ”کے ٹو“ کہانی پڑھی تو تھنگل کے گلابی کھیتوں نے بہت دن تک ذہن کے دریچوں میں گلابی پھول کھلاے رکھے، ان پھولوں نے ”یاک سراے“ کو اپنے پیسوں سے خریدنے پہ اکسایا اور ”جھیل کرومبر“ کی نیلاہٹوں نے کئی دن محصور رکھا اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔

جیسے ہی چا چا جی کی نئی کتاب کی آمد ہوتی ہم سے انتظار نہ ہوتا فصیح بھائی کبھی کبھی چھیڑ خانی کرتے کہ یار یہ انکل ہر تھوڑے دن بعد ایک کتاب لکھ دیتے ہیں خرچہ ہمارا ہوتا ہے۔ بیچارے کو گھر سے گلشن چورنگی کی ہر واک کے عوض ایک کتاب دلوانی پڑتی وہاں کے ”دانشکدہ“ اور ”بک پوائنٹ“ کے انکل بھی ہمیں پہچاننے لگے تھے، شکل دیکھتے ہی بتا دیتے کہ یہ نئی کتابیں آئی ہیں۔ بڑا پیارا وقت تھا۔ اب بھی میرا پاکستان کا چکر لگے یا امی کینیڈا آتی ہیں تو چاچا جی کی کتابیں ضرور ساتھ ہوتی ہیں۔

چاچا جی کی بہت سی نئی کتابیں جمع کی ہوئی ہیں اور بقول گلزار صاحب ”کتابیں جھانکتی ہیں بند الماری کے شیشوں سے“، خوبصورت سفر، کہانیوں، دل کو چھوتے منظروں، زندگی کی حقیقتوں، فلسفے کی نازک گہرائیوں اور حسین جملوں میں کھونا اب بھی ہماری لسٹ میں ہے اگر کچھ نہیں ہیں تو کالج کی لائبریری کا لکڑی اور کتابوں کی خوشبو میں بسا وہ جادوئی گوشہ اور وہ دنیا مافیا سے بے خبر سولہ سترہ سال کی بے فکر لڑکی اور اس کی فرصتیں، لیکن سفر انشا اللہ جاری رہے گا۔

سر جی کو سالگرہ کی بہت ساری مبارکباد۔ اللہ تعالیٰ انھیں صحت والی زندگی دے اور ان کا قلم یونہی رواں رہے، آمین۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply