میں نے بدھا کا مجسمہ نہیں چرایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان سے واپسی پر سوچا کہ بچوں کو ٹیکسلا کا عجائب گھر دکھایا جائے تاکہ قدیم تہذیب سے آ گاہی ہو۔ ٹیکسلا پہنچے تو میوزیم کے ایک حصے میں کام ہو رہا تھا اور دوسرے حصہ سیاحوں کے لئے کھلا تھا۔ طرح طرح کے نوادرات موجود تھے اور خاص طور پر گوتم بدھا کے مجسمے تو بہت زیادہ تھے۔ قرات العین حیدر کے آ گ کا دریا نے ایسا سحر طاری کیے رکھا ہے کہ بدھا کے بارے سوچتے ہوئے پہلا خیال گوتم نیلمبر اور ہری شنکر کی طرف جاتا ہے۔ ٹیکسلا میوزیم دیکھ کر قدرے مایوسی ہوئی کیونکہ آپ چھوٹے موٹے مجسمے ہی دیکھ سکتے ہیں گو کہ میوزیم میں جا کر تو تاریخ سے سرشار ہو جانا چاہیے۔ علم و آ گہی، تہذیب و تمدن، کردار و کمال یوں سامنے آ نے چاہییں کہ کس ٹائم مشین کی طرح میوزیم کئی صدیوں کا تجربہ کروا دے۔

خیر ہم ٹیکسلا میوزیم ں سے باہر نکلے اور گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ کسی نے شیشہ کھٹکھٹایا اور کریم کلر شلوار قمیض میں ملبوس ملگجی سی داڑھی، ارنسٹ ہیمنگوئے کی ناک نقشے والا ایک ادھیڑ عمر شخص کھڑا تھا۔

” بدھا لینا جے بدھا؟ “وہ شخص آ ہستگی سے بولا۔

میں کچھ کنفیوز ہوا کہ یہ بے چارہ بدھا کہاں سے لائے گا۔ دراصل اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے اور وہ بڑے اعتماد سے پوچھ رہا تھا کہ آیا میں بدھا خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہوں۔

” کہاں جانا ہو گا بدھا کے لئے“ میں نے پوچھا۔
” تھوڑا جیہا اگے آ جاؤ“ وہ شخص رازداری سے بولا۔

میں نے قدیر رشید سے کہا کہ گاڑی اس شخص کے پیچھے لے کر چلو کیونکہ وہ تیز تیز ڈگ بھرتا ہوا کس گلی کی جانب رواں دواں تھا۔

ایک سائیڈ پر ہوکر اس نے حیرت انگیز طور پر بدھا کے کئی چھوٹے چھوٹے مجسمے نکالے اور گاڑی کے شیشے سے آ گے بڑھا دیے۔ میں نے باہر نکل کر ان مجسموں کو دیکھنے کی کوشش کی تو کہنے لگا۔

” تسیں اندر ہی بیٹھو۔ اصلی نے اصلی“

میں نے پوچھا اور بھی ہیں تو اس نے اپنے نیفے سے بڑی بڑی پلیٹیں نکالنا شروع کر دیں جن پر شادی کی رسومات اور بدھا کی حویلی کی کہانیاں کنداں تھیں۔ میں نے پوچھا کی یہ سب کہاں سے چرائی ہیں تو وہ بولا

” جانب کھدائی وچوں لہیاں نیں مورتیاں۔ سچل میں سچل“۔ (جناب کھدائی میں ملی ہیں۔ اصلی ہیں اصلی)
میں قیمت پوچھی تو بولا، ”دس ہزار پلیٹاں دے تے پنج پنج ہزار شکلاں دے“۔ (دس ہزار پلیٹوں کے اور پانچ پانچ ہزار شکلوں کے)
” یار توں وچارے بدھا نوں نیفے وچ تنگی پھرنا پیا ایں۔ کوئی پھڑدا نئیں“ (یار تم بچارے بدھا کو نیفے میں ٹانگے پھرتے ہو، کوئی پکڑتا نہیں؟)

کہنے لگا کہ میں کھدائی سے نکال کر لایا ہوں۔ جائیں آپ بھی نکال لیں جا کر۔ میں نے مول تول کیا اور پانچ پلیٹیں اور شکلیں لے کر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ وہ شخص دیہاڑی لگا کر کہیں اور نکل گیا۔ نوادرات کی چوری پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے لیکن سچ تو یہ کہ بہت بڑی سطح پر بہت ہی آ رگنائزڈ جرم کیا جا رہا ہے۔ میں نے یہ چھوٹے چھوٹے نوادرات وڈیو میں دکھائے ہیں اور آپ آ رٹ ورک کی باریکی دیکھ کر سمجھ سکتے ہیں کہ یہ کسی عام ہنر مند کا کام نہیں ہے۔ میری گزارش ہے کہ ارباب اقتدار تک اس مسئلہ کو پہنچایا جائے۔ ڈاکٹر ندیم عمر صاحب گندھارا آرٹ کے حوالے سے بہت کام کر رہے ہیں۔ میں نے ان تک بھی یہ بات پہنچائی ہے۔

میں نے بدھا کے مجسمے نہیں چرائے بلکہ ایک چور سے خریدے تھے۔ چور ٹیکسلا میوزیم کے باہر کھڑا تھا۔ دیکھیے نوادرات کیسے چوری کیے اور بیچے جاتے ہیں

وڈیو کا لنک

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *