انتخابی تاریخ کی ورق گردانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی سیاسی تاریخ یا انتخابات کی روداد پر انگنت کتابیں مارکیٹ اور لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں اس فہرست میں ایک نیا اضافہ فاروق اعظم کی کتاب ”انتخابات 2018 : پس منظر سے پیش منظر تک“ کی صورت میں ہوا ہے۔ میرے تجربے اور مطالعے کے لحاظ سے مذکورہ کتاب بہت مفید اور معلوماتی ہے۔ اس میں ایک مختصر اضافہ جو مقدمہ کی صورت میں شامل کیا گیا ہے، وہ بجائے خود پاکستان کی مختصر سیاسی تاریخ کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر اس اختصار کو پھیلا دیا جائے تو یہ ”پاکستان کی مکمل سیاسی تاریخ“ بن سکتی ہے۔ فی الحال کتاب کے مقدمے پر بات نہیں کروں گا۔

بلا شبہ کتاب ”انتخابات 2018“ بڑے محتاط انداز میں سنبھل سنبھل کر لکھی گئی ہے اور پوری کتاب میں مصنف نے کسی ذاتی رائے یا کسی سیاسی واقعے و حادثے پر تبصرہ کرنے سے مکمل طور پر اپنا دامن بچائے رکھا۔ آج کے حالات اور معیارِ صحافت میں یہ دانش مندانہ طرز تحریر ہے۔ ورنہ یہاں تو یہ عالم ہے کہ آپ کے ذاتی تبصرے کا ایک جملہ ہو تو ایسے مخالف و طرف دار تبصرے پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں، جس سے لکھنے والا سوچتا ہے کہ کاش میں نے یہ نہ لکھا ہوتا تو اچھا تھا۔

مصنف نے انتخابات کے حوالے سے جس محنت، عرق ریزی اور دقتِ نظر سے مواد (Data) جمع کیا ہے یہ بجائے خود تھکا دینے والا کام ہے۔ پھر اس کی ترتیب اور مناسب پیرائے میں عنوانات کے تحت مضامین سمونا اور پھر کتاب کی صورت میں جمع کرنا واقعی لائق تحسین کام ہے۔ یہ کتاب اس صورت میں مکمل انتخابی رپورتاژ کی حیثیت رکھتی ہے۔

2018 میں الیکشن کمیشن کے اعلانات سے قبل سیاسی جماعتوں نے جو پنڈال سجائے اور ملکی فضا میں جو سیاسی موسم بہار کی کیفیت بن گئی اس کی لمحہ بہ لمحہ اور گوشہ گوشہ سے خبروں کو شامل کیا گیا۔ پھر قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں امیداواروں کے کاغذات نامزدگی سے لے کر الیکشن کمیشن کے حتمی نتائج اور ان کے گوشوارے بحسن و خوبی شامل کیے گئے۔ دوران انتخابات سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کا اپنی سیاسی جماعتیں چھوڑ کر دیگر جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کی مکمل روداد بھی شامل کی گئی ہے۔

آخری نتائج کے گوشوارے، ان کی شماریات اور ہر طرح کے میزانیے اور تخمینے جمع کر کے کتابی صورت میں شائع کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس ساری صورت حال کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب، انتخابات 2018 کے بارے میں سیاسیات، صحافت اور دیگر زاویوں سے سیاستِ پاکستان پر تحقیق کرنے والوں کے لیے جامع اور مکمل رپورٹ ہے، جس کے ہوتے ہوئے کسی کتاب، الیکشن کمیشن اور حکومت کے کسی محکمے کی ویب سائٹ پر جانے اور پرانے اخبارات کو کھنگالنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔

میری رائے یہ ہے کہ اگر ہر انتخابات میں اس طرح کی تحقیقی رپورٹ سامنے آسکے تو بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ صدر مملکت، وزیراعظم اور وفاقی و صوبائی وزرا کی فہرستیں کچھ ہی عرصہ میں یوں بدل جاتی ہیں کہ ان کی تفصیلات کچھ عرصہ بعد قاری کو خود اخبارات کے تازہ شماروں سے دیکھ کر Update کرنی پڑتی ہیں، کیونکہ یہ ”دمِ ہست، دمِ دیگر نیست“ کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال یہ کاوش قابل تعریف ہے اور فاروق اعظم صاحب مبارک باد اور ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔

نوٹ: ”کتاب انتخابات 2018 : پس منظر سے پیش منظر تک“ اردو بازار کراچی سے فضلی بک نے شائع کی ہے اور لاہور میں سنگ میل پبلی کیشنز سے بھی دستیاب ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
جاوید اقبال، نوشہرو فیروز کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *