نعمت اللہ خان: جھونپڑی سے تختِ کراچی تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترم نعمت اللہ خان بھی داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
نعمت اللہ خان کا تعلق بھی عہد کے اُن عظیم لوگوں میں سے تھا جنہوں نے پاکستان کے لیے ہجرت کی، اپنا گھر بار قربان کیا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بے سرو سامانی کے عالم میں کراچی آن بسے۔ نمت اللہ خان کا جھونپڑی سے تخت کراچی تک کا سفر بھی دلچسپ اور سبق آموز داستان ہے۔ مجھے یاد ہے لاہور میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ 8 سال کے تھے تو یتیم ہو گئے۔ پاکستان بنا تو 17 سال کی عمر میں انتہائی کٹھن حالات میں اجمیر شریف سے پیدل کراچی ہجرت کی۔ کئی راتیں فٹ پاتھ پر بتائیں۔ بارش ہوئی تو مہاجر کیمپ میں جھونپڑی پانی سے بھر گئی اور بھوکے پیاسے کئی راتیں جاگ کر گزاریں۔ یہ سب بتاتے ہوئے خود نعمت اللہ خان صاحب کی آں کھیں پر نم تھیں۔

لیکن نعمت اللہ خان نے ہمت نا ہاری، اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کا سہارا بنے، قانون کی ڈگری لی اور کراچی می ٹیکس کے چوٹی کے وکیل بنے۔ صوبائی اسمبلی کے ممبر بنے تو اپوزیشن نے متفقہ طور پر اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کیا۔ َ

نعمت اللہ خان 2001 سے 2005 تک کراچی کے میئر رہے اور کئی دہائیوں سے تاریکیوں میں ڈوبے شہر کو روشنیوں کی طرف لوٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کسی نئے ٹیکس کو متعارف کرائے بغیر کراچی کا بجٹ کئی گنا بڑھایا۔ ایک انٹرنیشنل سروے نے ایشیا کے چار شہروں کے سن 2000 کے پہلے عشرے میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے چار میئرز کے نام شائع کیے ۔ یہ نام بالترتیب یوں تھے، استنبول کے مئیر طیب اردگان، تہران کے مئیر احمدی نژاد، کراچی کے مئیر نعمت اللہ خاں اور شنگھائی کے مئیر۔ اُن کی کراچی اور اہل کراچی کے لیے محبت اور خدمات کے تو اُن کے نظریاتی مخالف بھی قائل اور گواہ ہیں۔

نعمت اللہ خان نے کراچی کا میئر بننے اور الخدمت فاؤنڈیشن کا صدر بننے کے پہلے سے تھرپارکر میں خدمات کا آغاز کیا اور 1998 میں پہلے بد ترین قحط کے دوران، جب وہاں نا سڑک تھی اور نا کوئی جیپ، اونٹوں پر دور دراز گوٹھوں تک پہنچے اور وہاں خواراک، صاف پانی کی فراہمی کے لیے زم زم پراجیکٹ کے نام سے کنویں کھدوانے کا کام، بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے چونرا سکول اور روزگار فراہمی کے لیے بکریاں خرید کر دیں۔ خدمت کی جو پنیری نعمت اللہ خان صاحب نے اُس وقت لگائی وہ آج بھی اعجاز اللہ خان، ڈاکٹر فیاض عالم اور ڈاکٹر تبسم جعمفری کی کاوشوں کی صورت میں پھل پھول رہی ہے۔

نعمت اللہ خان مئی 2005 میں مئیر شپ سے فارغ ہوئے اور 08 اکتوبر کو آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار کی حیثیت سے بے مثال خدمات سر انجام دیں۔

الخدمت کی مرکزی صدارت کے دوران مجھے 2009 سے 2011 قریباً 3 سال نعمت اللہ خان صاحب کے ہمراہ کام کرنے کا موقع ملا۔ اِس دوران 2009 میں مالاکنڈ میں بد امنی کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے آئی ڈی پیز کے زخموں پر مرہم ہو یا 2010 میں آئے ملک گیر سیلاب میں لاکھوں افراد کے لئے خدمات۔ نعمت اللہ خان صاحب کی سربراہی میں الخدمت قوم کے لیے ایک مسیحا ثابت ہوئی۔

کراچی کے عوام کی خدمات اور الخدمت فاؤنڈیشن کے مرکزی صدر کی حیثیت سے نعمت اللہ خان کی خدمات کو نا صرف پاکستان بلکہ بیرون ممالک میں بھی سراہا گیا اور نعمت اللہ خان بابائے کراچی اور بابائے خدمت کہلائے۔ تین سال پہلے الخدمت فاؤنڈیشن کے صدر عبد الشکور نے نعمت اللہ خان کی انہی کاوشوں اور خدمات کے اعتراف میں ”نعمت اللہ خان لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ“ کا اجراء بھی کیا۔

مجھے بھی نعمت اللہ خان صاحب کے ہمراہ ڈیزاسٹرز اور مخلتف پروگرامات کے سلسلے میں بیسووں سفر کرنے کا موقع ملا۔ ڈھیروں باتیں ہوتیں۔ بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ دوران سفر وہ مناظر بہت ہی خوبصورت ہوتے جب ائیر پورٹ، ہوٹلز، چوکوں چوراہوں پر ہر طبقہ سے لوگ آ آ کر نعمت اللہ خان کو کراچی اور انسانیت کی خدمت پر دعائیں دیتے، شکرگزار ہوتے۔ آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ ایک بہت ہی پیارا شخص چلا گیا۔ آج بھی آنکھیں بھیگی ہیں۔
آسماں تیری لحَد پر شبنم افشانی کرے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شعیب ہاشمی، تلہ گنگ کی دیگر تحریریں

One thought on “نعمت اللہ خان: جھونپڑی سے تختِ کراچی تک کا سفر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *