مجوزہ این پی آر کے خلاف حکومت بہار کا تاریخی اور مستحسن فیصلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سال گزشتہ کے آخری ماہ سے سی اے اے اور مجوزہ این پی آر اور این آرسی کے خلاف ملک عزیز بھارت کا ہر شخص سراپا احتجاج ہے۔ سرد ترین راتوں میں خواتین جان کی پرواہ کیے بغیر حکومت کے تعصب پر مبنی کالا قانون اور اڑیل رویہ کے خلاف دارالحکومت دہلی کے شاہین باغ سے لے کر ملک کے سیکڑوں جگہوں پہ علم احتجاج بلند کررہی ہیں انسانی حقوق کی شدید پائمالی پر ہر شخص متفکر اور جدو جہد کررہا ہے۔ انصاف کی حصولیابی کے لئے سیکڑوں ہزاروں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد ہوا ہے جس میں شہریت کے حقوق کو سلب کرنے والی قانون کی مخالفت پرزور انداز میں نہایت شدومد کے ساتھ کیا جارہا ہے۔

اس دوران کئی ایک ریاست کے وزرائے اعلی نے قانون ساز کونسل سے این پی آر کو نافذ نہیں کرنے کے خلاف بل بھی پاس کرلیا مگر عوام کی نگاہ بار بار بہار کی جانب اٹھ رہی تھی جس کی باگ ڈور ترقی پسند وزیر اعلی نتیش کمار کے ہاتھوں میں ہیں جنہیں سماجواد کا مجاہد کہا جاتا رہا جن کا خود نعرہ ہے۔ انصاف کے ساتھ ترقی جس نے بہار کے اقلیت کے تعلق سے بیش بہا خدمات انجام دی ہیں مگر فرقہ پرست ہندو نیشلسٹ بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کی سیاست نے ان کی سیکولر اور منصفانہ پرسنالیٹی کو بری طرح مجروح کردیا ہے۔

راجیہ سبھا میں سی اے اے کی حمایت میں جنتادل متحدہ کی حمایت سے بہار کے سیکولر طبقہ نہ صرف ان سے متنفر ہوگئے بلکہ لوگوں کا اعتماد ٹوٹ کر بکھر کے ریزہ ریزہ ہوگیا حالانکہ دسمبر جبکہ سی اے اے پاس ہوا تھا اس کے بعد وزیر اعلی نتیش کمار مختلف جلسوں اور پلیٹ فارم سے یہ کہتے سنے گئے کہ ”مجھے قانون کی سنگینی کا علم نہیں تھا“ اس کے بعد جنتادل متحدہ کے مسلم لیڈران کی بھی باری تھی جنہیں لوگوں کے طعن و تشنیع کا بھی سامنا کرنا پڑا بعض جذبات سے مغلوب افراد نے تو جنتادل متحدہ کے لیڈران سے استعفی تک کا مطالبہ کیا بہار کے عوام نے وزیر اعلی بہار سے مسلسل اصرار کیاکہ وہ اپنے فیصلہ پہ نظر ثانی کرے اور ملک کے دیگر خطہ میں آباد کروڑوں ہندوستانی بہار کی جانب آس بھرے نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ بہار فاششٹ قوتوں سے لڑنے میں پیش پیش رہا ہے۔

جس نے جنگ آزادی میں چمپارن تحریک نے اہم رول ادا کیا تھا اور 1917 کی چمپارن جنگ آزادی کا نمایاں باب چمپارن تحریک ہندوستان کی تاریخ میں پہلی سول نا فرمانی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ اس تحریک کی قیادت بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کی تھی یہ تحریک عدم تشدد کی بنیاد پر اٹھی تھی اور اس کا مقصد انگریز حکومت کے مظالم کا خاتمہ تھا۔

اس تحریک کا ایک بڑا مقصد چمپارن کے کسانوں کی حالات زارکا مداوا کرنا بھی تھا۔ انگریزحکومت نے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ چمپارن کے کسان اناج اگانے کے بجائے نیل کی کھیتی کریں۔ گاندھی جی نے چمپارن پہنچ کر کسانوں کا حوصلہ بندھا یا اور کئی وکلا کو اس کام پر لگا یا کہ وہ لوگوں کے درمیان بیداری پیدا کریں۔ اس تحریک کی وجہ سے برٹش حکومت نے اپنا حکم واپس لے لیا اوراس طرح پہلی سول نا فرمانی تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی بہار اپنی روشن تاریخ اور روایت سے بھلا کیسے انحراف کرتا لہذا جب مرکز میں برسر اقتدار ہندو نشینلسٹ اور ہندوپرست بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار نے آئین کے خلاف قانون متعارف کرایا تو بہار بھی چیخ اٹھا بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت کے سربراہ وزیر اعلی نتیش کمارپر مختلف طرح سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی جنتادل متحدہ کے اراکین اسمبلی اور قانون ساز نے سی اے اے کے متوقع خطرات کے پیش نظر این پی آر اور این آسی کی ہلاکت خیزی سے وزیر اعلی کو متعارف کرایا آج جب بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں دونوں ایوان میں بجٹ اجلاس کا سیشن شروع ہوا تو لوگ پرامید تھے۔

انصاف پسند شہریوں کی امیدیں پوری بھی ہوئیں بجٹ اجلاس کے باوجود سب سے پہلے ہندوستانیوں کے شہریت پر ڈاکہ ڈالنے والے قانون پر گفت و شنید کا آغاز ہوا از خود وزیراعلی نتیش کمار نے این پی آر کے تعلق سے وضاحت کے ساتھ اراکین سے روبرو ہوئے انہوں نے بہار مقننہ کا بجٹ اجلاس سے شروع ہونے کے بعد کہاکہ 15 فروری 2020 کو ہی ایک آفشیل لیٹر مرکزی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے۔ جس میں تھرڈ جنڈر کی شمولیت کے ساتھ 2010 میں اختتام پذیر مردم شماری کے فارمیٹ پر 2020 میں مردم شماری یا این پی آر کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یعنی بہارقانون سازاسمبلی سے این آر سی اور نئے این پی آر کے خلاف قرارداد پاس ہوا اور 2010 کے فارمیٹ پر ہی ہوگا این پی آر ہوگا اور این آر سی نہیں ہوگاجس سے بہار کے کسی بھی شخص کو ایک ذرا دقت نہ ہو اور شہریت کا تحفظ یقینی ہوسکے

اس کے بعد حزب اختلاف کے مطالبہ پر باضابطہ طور پر قانون ساز کونسل سے این پی آر کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد پاس کیا گیا یقیناً یہ خبران آزاد ہندوستانیوں کے جیالوں، خواتین اور جوانوں کے لئے خوش آئند ہے۔ کہ جو سی اے اے اور اس کے بعد لائے جانے والے کالے قانون کے خلاف بنا تھکے ہارے جہد مسلسل کے ساتھ رواں دواں جنہیں یقین کامل ہے۔ وہ صبح کبھی تو آئے گی جب حق سرخرو ہوگا اور باطل کو پسپائی ہوگی اس فیصلے سے مرکزی حکومت کو بہار سے ایک خاموش پیغام گیا ہے۔ جو حکومت کے لئے ہزیمت اور شرمندگی کا باعث ہے۔ عوام کے ساتھ چھل کرنے والوں اور جمہوریت کے ساتھ بھدا مذاق کرنے والوں کے لئے عوامی تحریک کا یہ فتح ہے۔ اور جشن جمہور کا آغاز بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply