بے روزگار نوجوانوں سے پیسے بٹورنے کا سرکاری دھندا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابتدائی سکول میں اساتذہ یہ سوال کرتے تھے کہ ہاں بھئی بڑے ہو کر کیا بنو گے؟

ہم فوجی افسر، پولیس والا، ہیرو، پائلٹ ڈاکٹر بننے کی خواہش کا اظہار کرتے انجینئر بننے کا کیڑا بہرحال کسی کو نہیں تھا، چاہے لفظ مشکل تھا چاہے کام۔ ٹی وی نیا نیا تھا ہمارے دیہاتوں میں، انڈین موویز کی یلغار تبھی ساتھ ہو تھی۔

یہ 90 کا عشرہ تھا۔ گاؤں کے اسکول تختی سلیٹ لے کر جاتے اور زمین کے فرش پر دریوں پر بیٹھتے۔ پڑھائی کیا تھی بس تربیت سکھائی جاتی تھی کتابیں تو مختصر تھیں پر اچھی تھیں۔ لیکن اساتذہ نے کبھی ہمیں یہ نہیں بتلایا کہ پڑھ لکھ کر اچھے کسان بننا ہے، یا اچھا کاروبار کرنا ہے۔ پھر گھر میں بھی یہی یہی گائیڈ کیا جاتا تھا کہ پڑھو لکھو گے نہیں تو نوکری نہیں ملے گی اور اگر نوکری نہیں ملی تو ذلیل خوار ہو گے۔ چاہے اب حاصل کر کے بھی ہو رہے ہوں۔

گریجویشن کے بعد ہوش سنبھالتے ہی روزگار کے تلاش کرنے نکل پڑے اور گورنمنٹ میں اپلائی کرتے کرتے ہزاروں لاکھوں روپے اڑا دیے۔ فقیر نے ایک فیڈرل کمیشن کا امتحان پاس کیا لیکن انٹرویو میں فیل ہوا، این ٹی ایس دو تین پاس کیے آگے نہ بڑھ سکا۔ خیر پھر گورنمنٹ ملازمت کے لیے دلچسپی چھوٹ گئی اور پرائیویٹ ملازمت کی مصروفیت سے۔ مقامی ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کیا فائنل نوٹس یہ لگا تھا کہ انتطامیہ کے مطابق فی الحال لسٹ معطل ہوگئی ہے اگلا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

بوریا بستر باندھا لاہور آئے، کچھ بڑے خواب سجائے لیکن محنت جستجو کی، کوئی نہ کوئی نوکری مل گئی بس پھر نوکری جوگے ہی رہ گئے۔ لیکن اب اکتا چکے ہیں شہر کے شور سے، شہر کے لوگوں سے اور نوکری سے۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی راستہ ضرور نکالیں گے۔

گزشتہ سال ایجوکیشن یونیورسٹی کے میڈیا منیجر کے لیے درخواست دی، دو ہزار روپے فیس ادا کی، چند ماہ بعد یونیورسٹی میں موجود ایک دوست سے علم ہوا کہ اس سیٹ پر یونیورسٹی بندہ منتخب کرچکی ہے۔

فون کیا متعلقہ افسر سے پوچھا کہ پراسس کیوں نہیں ہوا کب ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ وہ تو ہو چکا ہے، پوچھا کہ بی بی میری درخواست ردی کی نذر کیوں کردی گئی؟

آپ eligibility criteria میں پورے نہیں تھے۔ آپ کا تجربہ مطلوبہ معیار پر نہیں تھا۔ بتایا کہ جتنا لکھا تھا اس سے زیادہ ہے۔ اچھا ہاں آپ کی ڈگری 2018 کی ہے اس لیے تجربہ ڈگری کے بعد شمار ہوتا ہے۔ بتایا پہلی ماسٹر 2012 میں کی ہے۔ اس نے آگے کہا کہ میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ فون بند۔ میں نے دفع کر دیا۔

دو سال قبل ڈیرہ غازی خان کی غازی یونیورسٹی کی کچھ آسامیاں خالی ہوئی تھیں تو وہاں بھی پندرہ سو دو ہزار روپے خرچ ہوئے پھر نہ انہوں نے یاد کیا نہ ہم نے۔

آج علم ہوا کہ غازی یونیورسٹی کی ان آسامیوں پر اب تیسری مرتبہ فیسیں لی گئی ہیں لیکن ابھی تک کوئی پراسس نہیں چلا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نئے وی سی صاحب اپنے حصے کا کام کرنا چاہ رہے ہیں اس سے پہلے والے فیسیں لے کر کہاں گم گئے۔ کسی کو کوئی فکر نہیں نہ کسی نے نوٹس لینے کی زحمت کی نہ یہ سوچا کہ بے روزگار کس طرح ایک ہزار روپے جوڑتے ہیں اور جدید دور میں بھی ایک نوکری کی درخواست دینے کے لیے تین دن ذلیل ہونا پڑتا ہے جس میں کاغذات کی نقول، ان کی تصدیق، چالان فیس، پاسپورٹ سائز تصاور، پھر ڈاکخانے یا کسی کورئیر کا خرچہ، یہ ایک دن کا کام تو مشکل لگتا ہے۔ انٹرنیٹ کے دور میں آن لائن پراسس آسان ہے۔ کاغزات کی تصدیق بورڈز اور یونیورسٹی سے آن لائن کرا لی جائے اور فیس بھی آن لائن لے کر بے روزگاروں کو لوٹا جا سکتا ہے تو پھر ذلیل کس لیے۔

سرکاری ادارے چھوڑیں چند سال قبل این ٹی ایس جیسے نجی ادارے نے بھی دس ہزار امتحانی نگران بھرتی کرنے کے لیے اشتہار دیا کروڑ کے قریب درخواستوں کا سنا تھا، ٹیسٹ دینے ملتان گیا پتہ چلا کہ شہر کے ہر سرکاری و نجی سکول و کالج امتحانی مرکز میں اسی نوکری کے امتحان ہو رہے ہیں۔ سلیکٹ ہوا پتہ چلا کسی ویکنڈ کو ایک آدھ ڈیوٹی کے پیسے ملیں گے۔ لعنت بھیج کر دفع کیا۔

حکومت نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے بے روزگاروں اور بے گھروں کو گھر اور آسان قرضہ دینے کی مد میں جو اڑھائی سو روپے فیس رکھی تھی اس سے پہلے نواز شریف دور میں بھی آسان قرضے کی مد میں بینک پیسے بٹور چکے ہیں۔

پاکستان میں ہر سال لاکھوں لوگ گریجوایٹ ہوتے ہیں لیکن نوکریاں چند ہزار اور سرکاری نوکریاں بالکل قلیل تو پھر سرکاری ادارے ایک نوکری پر بھی کروڑوں اربوں روپے بٹور لیتے ہیں حالنکہ جس ملک میں ٹیکس لیا جاتا ہے تو بے روزگاروں کو الاونس نہ سہی کم از کم ان سے درخواست تو مفت میں لی جائے اور اگر آپ نے سفارش پر بھرتی کرنے ہوتے ہیں تو پھر خدارا بے روزگاروں کو بڑے شہروں میں انٹرویو اور ٹیسٹ کے لیے اچھی evaluation کے بعد بلایا جائے۔

بے روزگار افراد کوشش کریں کہ کوئی اپنا کام کریں، پڑھا لکھا بندہ عام فرد سے کاروبار و دیگر معاملات بہتر سرانجام دے سکتا ہے۔

دوسرا والدین اور اساتذہ سے بھی گزارش ہے بچوں کے دماغ میں اچھا انسان بننے اور اچھا کسان، کاروباری اور اچھا ہنرمند بننا سکھائیں تاکہ وہ مستقبل میں نوکری کے لیے ذلیل نہ ہوتا رہے۔

یہ اندازہ کر لیں فیسوں کی مد میں ہمارے سرکاری ادارے فقط اپنا فنانس پورا کرتے ہیں، اور یہ بات قطعی رد نہیں کی جاسکتی کہ سفارش، اقربا پروری اور رشوت سب چلتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں، نہ کبھی عدلیہ کو بے روزگاروں سے لی جانے والوی فیسوں کی فکر ہوئی نہ کسی حکومت کو احساس ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply