دہلی جل رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دہلی سرکار جہاں سیکولر بھارت کی بات کرتی ہے وہیں پر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی۔ دہلی جل رہا ہے، وہاں کسی ایک مذہب کے پیروکار نہیں بلکہ پوری انسانیت جل رہی ہے۔ وہاں عام آدمی جل رہا ہے۔ وہ عام آدمی جس نے انتہا پسند جماعت کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا۔ اب اس عام آدمی سے ایک خاص آدمی انتقام لے رہا ہے۔ جب بندوق اور جبر سے کسی کے منہ سے قومی ترانہ کہلوایا جائے تو وہ کبھی قومی ترانہ نہیں رہتا۔ قومی ترانہ وہ ہوتا ہے جو دل سے بولا جائے۔

دہلی میں ہونے والے دنگوں سے 1992 کی یاد آگئی جب ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے غنڈوں نے بابری مسجد کو شہید کیا۔ آج بھی وہی مناظر دیکھنے کو ملے جہاں انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کارندے مسجد کے مینار سے جھنڈا اتار کر، سپیکر کو توڑ کر نیچے پھینک دیتے ہیں۔ مسجد کو آگ لگا دی جاتی ہے۔ مسجد سے اٹھتے کالے دھویں میں مودی کا کالا چہرہ بڑی صفائی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان سب معاملات میں عالمی برادری نیند خرگوش میں ہے۔ دہلی دنگوں میں 21 مسلمانوں کو شہید کیا گیا جبکہ ایک ہندو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا۔ نریندری مودی کی سفاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کے غنڈوں نے یہ اس وقت کیا جب امریکہ کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت کے سرکاری دورے پر تھا۔

مودی یقینا یہ جانتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اقلیتوں پر جتنا مرضی ظلم کرلے کوئی اسے پوچھنے والا نہیں ہے اور اس کا یہ خیال اور اعتماد سو فیصد درست بھی ہے۔ اقوام متحدہ میں عمران خان کی تقریر کے بعد بھی اگر عالمی باردی نہیں جاگی تو ان دنگوں سے کیسے جاگ سکتی ہے۔ ایک کم ظرف جب اقتدار کے اعلیٰ منصب پر بیٹھتا ہے تو اپنی کم ظرفی دکھانے سے باز نہیں آتا اور یہی وجہ ہے کہ 120 کروڑ آبادی کے ملک میں دوسرے مذاہب سے زیادہ مسلمانوں کو ازیت اور دکھ میں رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک ہونے والا ہے جس میں مسلمانوں کو غیر قانونی طور پر ڈیٹینشن سیل میں بھی ڈالا جائے گا اور مقصد صرف ایک ہے ہندوستان سے مسلمانوں کا خاتمہ۔

اشوک نگر میں بی جے پی کے پاٹیل مشرا ء کی ہدایت پر آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسجد پر حملہ کیا اور اسے جلا دیا۔ انہیں غنڈوں نے احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر دیدہ دلیری سے پتھراؤ کیا، گولیاں برسائیں اور ڈندوں سے سر بھی پھاڑے۔ آر ایس ایس کے غنڈوں کے ساتھ ساتھ دہلی پولیس بھی پیش پیش رہی۔ زخمی حالت میں سڑک پر پڑے مسلم نوجوانوں سے دہلی پولیس کی وردی میں ملبوث آر ایس ایس کے غنڈے آخری سانس لیتے نوجوانوں کے منہ سے ”جے ماتا دی“ اور ”وندے ماترم“ جیسے الفاظ کہلواتے رہے۔ جو مسلمان لڑکا یہ نہ کہتا اس کے منہ پر ڈنڈا برسا دیا جاتا اور یوں 21 نوجوانوں کو شہید کیا گیا اور 120 سے زائد زخمی حالت میں ہسپتال میں پڑے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

پاٹیل مشراء وہ سیاست دان ہے جو مودی کے نقش قدم پر چلتا ہے۔ دہلی میں کہیں بھی دنگے فساد اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنا ہو وہاں اس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ یہ وہ گرگٹ ہے جس کے رنگوں کو صرف مودی پہچانتا ہے اور اس کے اشارے پر عام آدمی پارٹی کے ساتھ بھی منسلک رہ چکا ہے۔ عام آدمی پارٹی میں شمولیت ایک پلان کے تحت کی جس میں عام آدمی پارٹی کو توڑنے، لیڈران کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا ٹارگٹ اسے سونپا گیا لیکن وہ ناکام رہا اور واپس بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

پورے دہلی میں امن اور سکون ہے لیکن پاٹیل مشراء کے علاقہ میں اس قسم کا فساد کھڑا کیا گیا جس میں اکیس نوجوان جان سے گئے۔ شہریت ترمیمی بل ہو یا آرٹیکل 370 اور 35 A ٹارگٹ صرف ایک مذہب کے لوگ ہیں اور وہ ہیں مسلمان۔ وہ وقت دور نہیں جب ہندوستان پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے سب سے خطرناک ترین ملک بن جائے گا۔ ۔ اشوک نگر میں مسجد کو جلایا گیا اور قرآن پاک کے نسخے بھی جل کر خاک ہوگئے لیکن امت مسلمہ ہے کہ چُپ کا روزہ رکھے خواب خرگوش میں مبتلا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *