حکومت لال مسجد کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی: علامہ طاہر اشرفی
لال مسجد اسلام آباد تنازعے پر ایک ماہ سے کشیدگی جاری ہے اور تاحال کشیدہ صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی تاہم پاکستان علماء کونسل اور متحدہ علماء بورڈ پنجاب کے چیئرمین علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی نےسوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی افواہوں کو رَد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کہنا کہ حکومت لال مسجد ختم کرنا چاہتی ہے سراسر غلط ہے۔ کوئی حکومت ایسا اقدام نہیں کر سکتی اورنہ ہی ہم ایسا ہونے دیں گے۔ جامعہ حفصہؓ اور لال مسجد کا معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔ افواہیں پھیلانے سے نقصان کےعلاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ معاملہ جذبات سے نہیں، فہم، تدبر، حوصلے اور بات چیت سے حل ہو گا۔ خدا کا واسطہ ہے معاملات کو بگاڑنے کے لئے اس آگ میں تیل اور پٹرول نہ چھڑکیں۔
تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حکومت مولانا عبد العزیز، اُمِ حسان صاحبہ اور لال مسجد کے معاملے پر بہت ساری افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ لگتا ایسا ہے کہ ایک طبقہ جو اپنے گھر بیٹھ کر سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے اور جسے صیح صورتحال کا ادراک بھی نہیں ہے اس نے صرف دو کام کرنے ہیں، ایک گالم گلوچ اور دوسرا افواہ سازی۔ جو آدمی بھی اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی کردار ادا کرے گا، وہ ہمارے سر کا تاج ہے۔ تمام جماعتوں کے علما اپنی بساط کے مطابق محنت کر رہےہیں۔ کل رات ہم نے دیکھا کہ بہت ساری جماعتوں کےحضرات نےمحنت کی اور پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کیا۔ گذشتہ ہفتے بھی ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس پر میں خود لال مسجد پہنچا تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں۔ مایوسی کی کیفیت آتی ہے، گذر جاتی ہے۔ کسی نہ کسی سطح پر بات چیت جاری ہے۔ حکومت اور مولانا عبد العزیز سے ہاتھ جوڑ کر عرض کر رہے ہیں۔ مفاہمت کے راستوں پر مفتی عبدالرحیم سمیت اسلام آباد کے بڑے بڑے مقتدر علما اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت بھی حوصلے سے کام لے گی۔ مولانا عبدالعزیز اور اُن کی اہلیہ محترمہ بھی دو طرفہ بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔


