​ايران اور سعودی عرب کی دشمنی کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"malike-ashter\"دُنيا ميں کوئی دو ملک، آپس ميں جس قدر دشمن ہو سکتے ہيں، اس شدت کی دشمنی ايران اور سعودی عرب کے درميان ہے۔ سفارتی رشتے توڑے جا چکے اور مخالفت کی ہر حد پھلانگ چکے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سالانہ اجلاس ميں بھی اپنے اپنے موقف کو دُہرایا، اور حالات کی خرابی کا طوق فریقِ مخالف کی گردن میں ڈال دیا۔ دونوں ملکوں کے بیانات دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ فی الحال دونوں ہی تعلقات بہتر کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں؛ بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں کا موقف تلخ تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے، کہ جب امریکا اور کیوبا کے تعلقات سدھر سکتے ہیں، امریکا اور وینزویلا قریب آ سکتے ہیں، ایران کا جوہری تنازع حل ہو سکتا ہے، اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، فلسطینی صدر محمود عباس کو اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کی دعوت دے سکتے ہیں، تو آخر ایران اور سعودی عرب کے درمیان اچھے تعلقات، ایسی کون سی نایاب شئے ہیں، جو استوار ہو کر نہیں دیتی۔

ایران اور سعودی عرب کے رشتوں میں گھلا زہر، اِن دونوں ملکوں کا اپنا نہیں، بلکہ دوسروں کا ہے۔ ان دونوں ممالک کی مثال ان دو ہمسایوں کی سی ہے، جو آپسی رنجش نہیں، بلکہ تیسرے ہمسایے کی لڑائی میں شامل ہوکر ایک دوسرے کا سر پھوڑنے کی تاک میں رہتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے بگڑے رشتوں کی جڑیں تین ممالک میں گڑی ہیں؛ پہلا شام، دوسرا یمن اور تیسرا بحرین۔ شام میں ایران بشار الاسد کی حکومت کا حامی ہے، اور سعودی عرب باغیوں کا؛ یمن میں ایران باغیوں کا حامی ہے، اور سعودی عرب منصور ہادی حکومت کا؛ اور بحرین میں ایران حزب مخالف کا ہم نوا ہے، جب کہ سعودی عرب شاہی حکومت کا۔ اب زرا دیکھیے، ان تینوں ہی ممالک میں کیا صورت احوال ہے۔ ایران کو لگتا ہے کہ اگر شام میں اسد حکومت کا تختہ الٹ گیا، تو اس کا ایک بڑا حامی ختم ہو جائے گا، اور پھر کون جانے کے انقلاب کے بعد کون سی حکومت دمشق میں آ بیٹھے؟ ادھر سعودی عرب کو تشویش ہے کہ اگر اسد حکومت برقرار رہی، تو دمشق کے معاملات میں ایرانی اثر رسوخ اب پہلے سے زیادہ رہے گا؛ ایسے میں ایران کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہو جائے گی۔ یمن میں سعودی عرب کی فکر کا سبب یہ ہے کہ اگر حوثی اقتدار میں آئے، تو وہ ایرانی حکومت کے چشم و ابرو کے اشاروں پر چلیں گے؛ اور یوں اس کے پڑوس میں بلاواسطہ ایرانی حکومت قائم ہو جائے گی۔ گویا یہ بعینہ وہی تشویش ہے، جس سے ایران شام کے حوالے سے دوچار ہے۔

ایران جانتا ہے کہ اگر بحرین میں انقلاب آیا تو شیخ سلمان کی قیادت والا وہ اتحاد اقتدار میں آ جائے گا، جو جذباتی طور پر اس سے بہت قریب ہے۔ سعودی عرب ظاہر ہے ایسی کسی بھی حکومت کو گوارہ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ کل ملا کر تینوں جگہ برپا شورش، خطے میں دوسرے کا رسوخ محدود رکھنے کی کوشش ہے۔ اس میں سب سے زیادہ مزے میں بحرین کے شاہ آل خلیفہ، یمن کے صدر منصور ہادی اور شام کے صدر بشار الاسد ہیں۔ ان تینوں ہی کا معاملہ یہ ہے، کہ نہ ہلدی لگی نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آیا۔ ایران اور سعودی آپس میں کٹ مر رہے ہیں جس کا فطری طور پہ فائدہ ان تینوں کو ہو رہا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ تینوں اپنے اپنے ہم نوا ممالک کو تواتر سے یہ پیام بھیجتے رہتے ہوں، کہ ہماری حکومت بچا لیجیے، ورنہ آپ کا دشمن ہمارے یہاں آ بیٹھے گا۔

ایران اور سعودی عرب کو ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کرنا ہوگا، کہ ان کی آپس کی دشمنی ان دونوں کے کتنے مفاد میں ہیں؟ ان دونوں ممالک کے درمیان کھینچا تانی کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ اب یہ تنازع سرحدوں سے نکل کر دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان، شیعہ سنی تنازعے کے طور پر کھڑا ہو رہا ہے۔ کیا یہ عجیب نہیں کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم نے یہ تک بیان دے دیا، کہ ایرانی رہبر اعلیٰ اور ایرانی عوام مسلمان ہی نہیں ہیں، بلکہ یہ آتش پرست ہیں۔ یہ بیان دینے کا حوصلہ اسی وقت ہو تا ہے، جب کسی کو لگے کہ آگ بھڑکی ہوئی ہے، جو چاہو اس پر پکا لو۔ البتہ اس سلسلہ میں سعودی عرب کے طرز عمل کی تعریف کرنا ہوگی، کہ مفتی اعظم کے اس بیان کے بعد اس نے فوری طور پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا؛ سعودی حکام نے کوئی مذمتی بیان تو نہیں دیا، لیکن مفتی اعظم کو خطبہ حج دینے سے روک دیا گیا۔ حالاں کہ اس کا سبب مفتی اعظم کی کم زور صحت کو بتایا گیا، لیکن سرکاری ٹی وی خطبہ حج کے دوران بار بار دکھاتا رہا، کہ وہ مسجد میں نمازیوں کے درمیان بیٹھے ہیں۔ اس تعریف کے بعد یہ بات دُہرانا ضروری ہے، کہ سعودی عرب کو بھی ایران سے رشتے بہتر کرنے کے لیے، اتنی ہی ذمہ داری سے کام کرنے کی ضرورت ہے، جتنی ایران کو۔ میرا ماننا ہے کہ ریاض او ر تہران بھلے ہی اس بات کو مجمع عام میں قبول نہ کریں لیکن ان کا دل جانتا ہوگا، کہ ان کے آپسی جھگڑے کا اثر دنیا بھر کے مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔ ایسے دور میں جب کہ عراق اور شام کی لڑائی مسلکی جھگڑے میں بدلنے لگی ہے، دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے، کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ یمن پر سعودی عرب کی مسلسل بم باری نے انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، اور اب یمن مزید خاک و خون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سعودی عرب اور ایران کو چاہیے کہ خطے میں امن امان کے لیے، اپنے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں، ناکہ انتشار کے لیے۔

اخیر میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے، کہ دنیا کے کوئی بھی دو مسلمان ملک، اگر آپس میں لڑیں تو وہ صرف دو ملکوں کا جھگڑا رہتا ہے، لیکن اگر سعودی عرب اور ایران آپس میں لڑیں، تو اس کا شدید نقصان دُنیا بھر کے مسلمانوں کے اتحاد کو پہنچتا ہے۔ سعودی عرب کوئی عام ملک نہیں ہے، وہ دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے؛ خاص طور پر سعودی حکومت کے پاس حرمین شریفین کی تولیت ہونے کے سبب، اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہیں۔ اسی طرح ایران کی حیثیت صرف ایک ملک کی نہیں، دُنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں کے مرکز کے طور پر ہے۔ ایسے میں ان دونوں ممالک کا اتحاد صرف دو ملکوں کا اتحاد نہیں، بلکہ شیعہ سنی کا اتحاد بن سکتا ہے۔ ہر ملک کے اپنے مفادات ہوتے ہیں، سفارت کاری کبھی کبھی بہت کچھ کراتی ہے، لیکن جب دو ملک ایسے ہوں، جن کی بات ان کی سرحدوں کے باہر بھی سنی جاتی ہو، ایسے میں زیادہ تحمل، زیادہ رواداری اور زیادہ معاملہ فہمی ضروری ہے۔

Latest posts by مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 114 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply