کرونا وائرس؟ نو پرابلم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر طرف شور و غوغا بلند ہے۔ کیا خبر اصل میں نہ ہی ہو۔ لیکن جیسا کہ ہم تو پاکستان سے باہر مقیم ہیں ہمارے لیے وطن عزیز کی ہر تصویر وہی ہوتی ہے جو سوشل میڈیا پیش کرے۔ عرصہ ہوا گھر میں ٹیلیویژن نہیں رکھا۔ چپ چاپ ٹویٹر کو اوپر نیچے اسکرول کیے جاتے ہیں اور ہر خبر پر ہونے والا طوفان نظر میں رکھتے ہیں۔

یوں تو سوشل میڈیا پر ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی تہلکہ خیز موضوع زیر بحث رہتا ہی ہے۔ اگر موضوع میں تہلکہ مچانے کی قدرت نہ بھی ہو تو یہاں ہونے والا ردعمل وہ کسر پوری کر دیتا ہے۔ بہرحال آج کل زیر بحث موضوع واقعی نہ صرف گمبھیر ہے بلکہ خاصا دل دہلا دینے والا ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس داخل ہو چکا ہے کیونکہ کراچی کے ایک شخص میں اس کی تشخیص ہو گئی ہے۔ سننے میں آیا یے کہ یہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال تھا جس نے اس مرض کی شناخت کی۔

سب کو فکر ہے کہ اب یہ وائرس آگ کی طرح پھیلے گا۔ ہزاروں جانیں لے گا وغیرہ وغیرہ۔

دیکھئے صاحب، یہ خدشہ بالکل بجا یے۔ لیکن یہ سوال بھی اہم۔ ہے کہ کیا واقعی یہ پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس ہے؟ پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں بالخصوص کرونا وائرس موجود ہے۔ ہر طرف ایمرجنسی نافذ ہے۔ یہ کیسے ہوا کہ خدا نے ناقص علاج معالجے کی سہولت رکھنے والے ایک غریب ملک کو بخش دیا؟ کیا یہ کیس بھی سامنے آتا اگر مریض کسی چھوٹے شہر کے سرکاری ہسپتال میں علاج معالجے کی غرض سے جاتا؟ ایک گولی اینٹی بائیوٹک صبح دوپہر شام دی جاتی اور ٹھنڈے پانی سے پرہیز بتا دیا جاتا۔ نزلہ زکام ہی سمجھا جاتا نا۔

جب پوری دنیا نے اپنے شہریوں کو چین سے بلانے کی تدبیر شروع کر دی پاکستان نے وہان میں پھنسے سینکڑوں طلباء کو تاکید کی کہ وہ وہیں رہیں۔ ووہان کو ہی اپنا گھر سمجھیں۔ شہباز گل صاحب نے تو کچھ ایسی ٹویٹ کر ڈالی جیسے ہمارے ہاں رخصتی کے وقت لڑکی کو تلقین کی جاتی ہے۔
’بیٹی اس گھر سے اب تمہارا جنازہ ہی نکلے۔ ‘

حکومت کا یہی خیال تھا کہ ہمارے ہاں علاج معالجے کا تو کوئی بندوبست ہے نہیں۔ یہ کم بخت یہاں آ کر مزید بیماری پھیلائیں گے۔ درست ہو گیا صاحب۔ مرتے ہیں تو مرتے رہیں۔ گھر آنے کا نہ سوچیں کہ ہم ان کو نہیں رکھ سکتے۔ بجائے اس کے کہ اپنے ہاں تشخیص اور تحقیق کی سہولیات پر توجہ دی جاتی انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔

یوں بھی جہاں صبح شام بچوں کا ریپ ہوتا ہو، جان بچانے والی ادویات تک میں ملاوٹ کر دی جاتی ہو، لڑکیوں کو آج بھی غیرت کے نام ہر قتل کر دیا جاتا ہو، انسان کی جان کی قدر اس کی جیب میں پیسے کے حساب سے ہو، وہاں کیا فرق پڑتا ہے کہ چند ہزار لوگ اور مر جائیں۔

’بس جی، اللہ کی مرضی۔ اس کے آگے کس کی چل پائی ہے؟ ‘
جی بالکل، اللہ کی مرضی اور بندے کی کرنی۔ خدا پر الزام ڈالنا تو یوں بھی آسان ہے۔

لہذا اب جب کہ پاکستان میں کرونا وائرس ’واقعی‘ آ چکا ہے تو بھی کسی کے کانوں پر جوں نہ رینگنے کا قوی امکان ہے۔ جہاں پاکستان سے باہر مقیم پاکستانی اس پر واویلا کررہے ہیں (یہاں رہ کر عادتیں بگڑ گئیں نا) وہیں پاکستان میں فیس بک اور وٹس ایپ گروپ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے وظائف کی تقسیم میں سرگرداں ہیں۔

حکومت کا حرکت میں آنا فی الفور تو خاصا مشکل ہے کہ انہیں کشمیر اور دہلی کی فکر کھائے جاتی ہے۔ ان کی وہی مثال ہے کہ ایک چوکیدار رات کو ’جاگدے رہنا، ساڈے تے نہ رہنا‘ کی صدا بلند کیا کرتا تھا۔ اب خیال آتا ہے کہ وہ محلہ پاکستان تھا اور وہ چوکیدار ہماری حکومت۔ آخر جیسی بھی ہے کرپٹ تو نہیں ہے نا۔ لوگوں کا کیا ہے۔ موت کا تو یوں بھی وقت مقرر ہے۔ ٹرک کے نیچے آ کر نہ مرے تو کرونا وائرس کے ہاتھوں ہی صحیح۔ نو پرابلم!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *