فروغ نسیم کی صورت میں شریف الدین پیرزادہ آج بھی موجود ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیرسٹر شریف الدین پیرزادہ کا شمار ملک کے ذہین ترین وکلا میں ہوتا تھا۔ برطانوی درسگاہ سے فارغ تحصیل پیرزادہ صاحب کی وجہ شہرت ڈکٹیٹرز کی حمایت بنی۔ اعلی مناصب پر فائز رہنے والے شریف الدین پیرزادہ نے قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکیرٹری کے فرائض بھی سرانجام دیے مگر اس کے باوجود وہ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک ہر فوجی آمر کی بیساکھی رہے۔ وہ 1973 کے آئین کو پاؤں تلے روندنے والے ڈکٹیٹرز کو آئینی تحفظ دلانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔

آئینی شقوں پر ان کی مہارت کی وجہ سے انھیں ’آئینی جادوگر‘ بھی کہا جاتا تھا۔ ان کی آئینی پٹاری میں نت نئے کرتب ہر دم تیار رہتے تھے۔ ضیا الحق کے دور میں نظریہ ضرورت کو نئی زندگی بخشنے اور پرویز مشرف کے دور میں چیف ایگزیکٹیو کا عہدہ تخلیق کرنے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔ پرویز مشرف کی آمریت میں خصوصی سفیر بنے اور تین نومبر 2007 کو لگنے والی آخری ’ایمرجنسی پلس‘ بھی انہی کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ شریف الدین پیرزادہ اب ہم میں نہیں ہیں۔ اللہ پاک انھیں غریق رحمت کرے مگر محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج بھی موجود ہیں۔

آئین کے ساتھ آنکھ مچولی کی جو بنیاد انہوں نے ڈالی تھی وہ آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین توڑنے والوں کو ہر دور میں کوئی نہ کوئی ’شریف الدین پیرزادہ‘ ضرور میسر ہوتا ہے۔ ’شریف الدین پیرزادہ‘ مفاد پرستی اور ہوس اقتدار کی اس سوچ کا نام ہے جس کی منزل صرف اور صرف مفادات کا حصول ہوتا ہے۔

موجودہ دور میں بیرسٹر فروغ نسیم بہت دلچسپ کردار ہیں۔ دھیمے مزاج کے فروغ نسیم نے سیاست کا آغاز ایم کیو ایم سے کیا۔ الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا قرار دے کر سینیٹر منتخب ہوئے اور سیدھے وزارت قانون تک جا پہنچے۔ کچھ ہی عرصۂ میں وہ ایم کیو ایم سے زیادہ تحریک انصاف کی ’آنکھوں کا نور‘ بن گئے۔ کنونیر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ انہوں نے فروغ نسیم کو وزارت کے لئے نامزد نہیں کیا لیکن وہ آج بھی وزیرقانون ہیں۔

حیران کن طور پر تحریک انصاف کو بھی اپنی جماعت میں سے کوئی لائق وکیل نظر نہیں آیا جسے وہ وزارت قانون کا قلمدان سونپ سکیں۔ آمر پرویز مشرف کے غداری کیس میں وکالت سے لے کر ایکسٹینشن کیس میں جنرل باجوہ کی نمائندگی تک، طاقت کے مراکز میں بھی فروغ نسیم ہی منظور نظر ٹھہرے۔ حالیہ کچھ عرصے میں ان کا ایسا کردار سامنے آیا ہے کہ وہ دور جدید کے شریف الدین پیرزادہ محسوس ہو رہے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کیس میں ایک جج صاحب کا دوران سماعت ایک واٹس ایپ پیغام بھیج کر تبادلہ کر دیا گیا۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ اس ٹرانسفر میں وزیر قانون فروغ نسیم کا کردار بہت نمایاں تھا۔ مبینہ طور پر فروغ نسیم کی لاہور ہائیکورٹ کی ایک اہم شخصیت سے خفیہ ملاقات اس تبادلہ کا سبب بنی، اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس بھی ذہین و فطین وزیر قانون کی ذہنی اختراع سمجھی جاتی ہے۔

تاثر ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں جسٹس صاحب کا لکھا گیا فیصلہ مقتدر اداروں کو قابل قبول نہیں تھا۔ فیصلے میں صرف آئین پر چلنے کی تلقین کی گئی تھی مگر پاکستان میں آئین کو ردی کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والوں کو یہ گوارا ہی نہیں۔ پچھلے سال مئی میں دائر ریفرنس کا بنیادی مقصد جسٹس صاحب کی کردارکشی کر کے انھیں نشان عبرت بنانا تھا مگر ریفرنس اتنا کمزور ثابت ہوا کہ جسٹس صاحب کی بجائے خود حکومت کٹہرے میں آ چکی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ہونے والا صدارتی ریفرنس بہت دلچسپ ہے۔ جسٹس صاحب کی اہلیہ اور بچے بیرون ملک سکونت رکھتے ہیں اور جسٹس صاحب کے زیر کفالت نہیں۔ تمام جائیداد اہلیہ اور بچوں کے اپنے نام پر ہے۔ ٹیکس بچانے کے لئے کسی آفشور کمپنی کا سہارا نہیں لیا گیا، ریفرنس کی بنیاد بیرون ملک جائیداد کا ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں ظاہر نہ کرنا تھا۔ مقدمہ بہت کمزور تھا اور مزید کمزور ہو گیا جب جسٹس صاحب کی اہلیہ نے ایف بی آر سے خود رابطہ کرلیا۔ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے کیس میں ہم دیکھ چکے ہیں جب ایف بی آر نے جرمانے کے بعد جائیداد کو قانونی قرار دیا۔

ریفرنس کی سماعت گزشتہ نو ماہ سے جاری ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود جج صاحب کے خلاف مالی بدعنوانی یا منی لانڈرنگ کا کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہ لایا جا سکا۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی متعدد بیرون دورے کیے۔ ایک پرائیویٹ برطانوی ادارے سے جاسوسی بھی کروائی گئی مگر کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کیا جا سکا۔ پہلے پہل فروغ نسیم نے بارکونسلز میں کروڑوں روپے تقسیم کر کے وکلا میں خلیج ڈالنے کی کوشش کی مگر یہ حربہ بھی مکمل طور پر ناکام رہا اور وزیر قانون کو سبکی اٹھانا پڑی۔

دوران مقدمہ وزیر قانون فروغ نسیم کا متنازعہ کردار اس وقت مزید کھل کر سامنے آیا جب سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے سپریم کورٹ کے ججون پر سنگین الزام لگایا۔ اٹارنی جنرل کے مطابق جو کچھ انہوں نے عدالت میں کہا وہ وزیر قانون فروغ نسیم کی مشاورت سے کہا ہے۔ فروغ نسیم پہلے پہل تو اٹارنی جنرل کو ہی غلط کہتے رہے مگر بعد ازاں انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں انور منصور سے معذرت کر لی۔ اس بے بنیاد الزام کے بعد اٹارنی جنرل کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا مگر وہ اپنے بیانات میں وزارت قانون کی عدلیہ کے خلاف کارروائیوں کا بھانڈا پھوڑ گئے ہیں۔

اس ریفرنس میں فروغ نسیم کے متنازعہ کردار کو دیکھتے ہوئے ہر جانب سے ان پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ بار کونسلز کی پریس ریلیز میں ان کا کردار انتہائی گھناؤنا اور قابل نفرت قرار دیا گیا ہے۔ انھیں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے خلاف سازشیں کرنے والا گردانا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں عدلیہ میں خلیج پیدا کرنے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا گیا ہے۔ بیان کیے گئے تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ فروغ نسیم وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو مرحوم شریف الدین پیرزادہ ادا کرتے تھے۔ اگر پاکستان میں آئین کی بالادستی لانی ہے، آئین کو ہی سپریم بنانا ہے تو کالے کوٹ میں چھپی ایسی کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرنا بہت ضروری ہے۔

آئین توڑنے والوں سے زیادہ بڑے مجرم آئین کی چھتری تلے چھپے وہ لوگ ہیں جو ڈکٹیٹرز کو آئینی راستہ دکھاتے ہیں۔ اگر ہم واقعی پاکستان سے عہدوفا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آزاد منش ججز کی رائے کا احترام کرنا ہو گا، ڈکٹیٹر کو سزا سنانے والی عدالت کو کالعدم کروانے کی بجائے آئین کی سربلندی تسلیم کرنا ہو گی۔ فروغ نسیم جیسے کرداروں کو بے نقاب کرنا ہو گا تاکہ مزید شریف الدین پیرزادوں سے بچا جا سکے۔ ہم دنیا میں عزت و وقار سے ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے تو آئین کو سپریم تسلیم کرنا ہو گا کیونکہ ’آئین سے عہد وفا‘ ہی درحقیقت پاکستان سے عہدوفا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “فروغ نسیم کی صورت میں شریف الدین پیرزادہ آج بھی موجود ہے

  • 27/02/2020 at 12:50 pm
    Permalink

    بہت اچھا ھے سر پر ان پر عمل کون کرے گا ۔ وہ قانون جو ایک 95 سال کے بزرگ کو 55 سال کی قید بامشقت کی سزا سنا دے۔ یہ سب چیزیں اب مذاق سا لگتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *