کیا آپ اپنے والد سے نفرت کرتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وہ زمانہ تھا جب میں سوچا کرتا تھا کہ بیٹیاں اپنے باپ کی لاڈلی ہوتی ہیں۔ باپ بیٹیوں سے بہت پیار کرتے ہیں اور ان کا بیٹوں سے زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ میراخیال تھا کہ کئی دفعہ باپ بیٹے کے درمیان تضاد ہوتا ہے اور باپ بیٹوں سے ناراض ہوتے ہیں بیٹیوں سے نہیں لیکن پھر میری ایک ایسی ماں سے ملاقات ہوئی جس نے میرے باپ بیٹی کی اٹوٹ محبت کے تصور کو چیلنج کیا کہنے لگی

’ڈاکٹر سہیل! میری جوان بیٹی اپنے باپ سے ناراض رہتی ہے۔ کئی کئی دن بات نہیں کرتی۔ اب اس کی ناراضگی بڑھتے بڑھتے نفرت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ ‘

میں نے جب پوچھا کہ آخری بار اس نے اپنے باپ سے اپنی نفرت کا اظہار کیسے کیا تو وہ کہنے لگی

’ یہ پرسوں کی بات ہے کہ وہ اپنے والد کے سب کپڑے۔ اس کے کوٹ۔ اس کی پتلونیں۔ اس کی ٹائیاں۔ اس کی قمیصیں۔ اور اس کے موزے سب لونگ روم میں لے آئی۔ ان کا ایک ڈھیر بنا دیا۔ پھر وہ ایک قینچی لے آئی اور اس نے سب کپڑوں کو کاٹ کر لیرولیر کر دیا۔ میرے شوہر کو اپنے دفتر جانے کے لیے اسی دن نئے کپڑے خریدنے پڑے‘

’آخر وہ اپنے والد سے اتنی نفرت کیوں کرتی ہے؟ ‘

’میری وجہ سے‘

’میں سمجھا نہیں‘

’میرا شوہر جس طرح مجھ سے مخاطب ہوتا ہے۔ میری تذلیل کرتا ہے۔ میری بے عزتی کرتا ہے اور میری ہتک کرتا ہے اس سے میری جوان بیٹی بہت غصے میں آتی ہے۔ وہ باپ کے سامنے مجھے کہتی ہے کہ میں اپنے شوہر کو چھوڑ دوں اور اس کے والد سے طلاق لے لوں‘

اس واقعہ کے بعد میں کئی اور بیٹیوں سے ملا جو کئی وجوہات کی وجہ سے اپنے والد سے نفرت کرتی ہیں۔ میں آپ کو اپنی ایک مریضہ کی کہانی سناتا ہوں جس کا میں کئی مہینوں سے علاج کر رہا ہوں تا کہ آپ کو اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

ٹریسا ایک پینتیس برس کی شادی شدہ عورت ہے جو بچپن سے اینزائٹی اور پینک ڈس آڈر ANXIETY AND PANIC DISORDERکے نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ چھ برس کی تھی جب اس کے والدین کی طلاق ہوگئی۔ وہ اور اس کا بھائی ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ پہلے تین سال اس کے والد کبھی کبھار ان سے ملنے آتے تھے لیکن پھر وہ غائب ہو گئے۔ کئی سال بعد پتہ چلا کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی اور ان کی دوسری شادی سے دو بچے ہوئے۔

ٹریسا جوان ہوئی تو ایک دفعہ اس نے والد کو خط لکھا کہ وہ ان سے ملنا چاہتی ہے۔ والد نے ایک رستورانٹ میں ملنے کا وعدہ بھی کیا۔ ٹریسا اس رستورانٹ مین ایک گھنٹہ انتظار کرتی رہی لیکن اس کے والد نے نہ آنا تھا نہ آئے۔ اس واقعہ کے بعد ٹریسا کی نفرت میں بھی اضافہ ہوا اور پینک ڈس آرڈر میں بھی۔

میں نے ٹریسا سے کہا کہ اس کے نفسیاتی علاج کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے والد سے رابطہ کریں۔ ٹریسا کئی ہفتے سوچتی رہی۔ اسے یقین تھا کہ اس کے والد نہ تو آنے کا وعدہ کریں گے اور اگر وعدہ کریں گے بھی تو اس وعدے کو ایفا نہیں کریں گے۔

میں نے ٹریسا سے اجازت لے کر اس کے والد رابرٹ سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے کلینک میں بلایا۔ رابرٹ مجھ سے ملنے میرے کلینک آئے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ان کی بیٹی ٹریسا جوان ہے لیکن ایک چھوٹی بچی کی طرح باپ کی محبت کو ترسی ہوئی ہے۔ وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ میں نے جب رابرٹ سے پوچھا

’کیا آپ اپنی بیٹی ٹریسا سے محبت نہیں کرتے؟ ‘

کہنے لگے ’حد سے زیادہ محبت کرتا ہوں‘

’پھر مسئلہ کیا تھا کہ آپ ان سے ملنے نہیں آتے تھے‘

کہنے لگے ’مسئلہ ٹریسا نہیں تھی مسئلہ اس کی ماں جینیفر تھی جو ہر وقت مجھ سے لڑتی رہتی تھی۔ اس نے میری زندگی حرام کی ہوئی تھی۔ وہ ایک حاسد عورت تھی جو ہر بات پر شک کرتی تھی۔ میرا اس کے ساتھ زندگی گزارنا اتنا مشکل ہوا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔ چھوڑنے کے بعد بھی وہ مجھے اپنے بچوں سے ملنے نہیں دیتی تھی اور میری خلاف بچوں کے ذہنوں میں زہر گھولتی رہتی تھی۔ میں جب بھی بچوں سے ملنے کی بات کرتا وہ مجھ سے ڈالر مانگتی۔ آخر میں نے بچوں سے بھی قطع تعلق کر لیا اور ایک اور عورت کے ساتھ ایک نئی زندگی شروع کر دی۔ ‘

’ٹریسا نے کئی سال پیشتر آپ کو ایک خط بھی لکھا تھا‘

’جی ہاں مجھے ملا تھا لیکن وہ خط غصے اور نفرت کے زہر سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ میں وہ پورا خط نہ پڑھ سکا۔ میں نے ملنے کا وعدہ بھی کیا لیکن پھر مجھ میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ اس سے مل سکتا۔ ‘

’میں چاہتا ہوں کہ میں آپ سے اور آپ کی بیٹی ٹریسا سے اکٹھے ملوں۔ اس میٹنگ سے اس کے نفسیاتی مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی‘

’مجھے آپ کے کلینک میں اپنی بیٹی ٹریسا سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں‘

چنانچہ میں ٹریسا اور رابرٹ دونوں سے اکٹھے ملا۔ پہلے تو ٹریسا خاموشی سے آنسو بہاتی رہی۔ پھر اس نے والد سے کہا کہ وہ ان سے بچپن سے ناراض ہے کہ انہوں نے انہیں چھوڑ کر ایک اور شادی کر لی اور دوسری عورت کے بچوں کو اپنا پیار دیا اور ٹریسا کو اپنے پیار سے محروم رکھا۔

رابرٹ ٹریسا کی باتیں بڑے تحمل سے سنتے رہے پھر کہنے لگے

’ میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔ میں نے جوانی میں بہت سی غلطیاں کیں جن کا مجھے اب احساس ہوا ہے۔ میں تمہاری ماں سے اپنا رشتہ نہ نبھا سکا۔ جدائی کے بعد بھی ہمارے تعلقات بہت خراب تھے اس لیے میں تم سے نہ مل سکا۔ لیکن میرے دل میں تمہارے لیے جو محبت تھی وہ کبھی ختم نہیں ہوئی۔ تم مجھے معاف کر دو اور اب ہم باپ بیٹی کے رشتے کا نیا باب شروع کریں‘

ٹریسا بڑی دیر تک ہچکیوں سے روتی رہی۔ پھر رابرٹ نے اٹھ کر اسے گلے سے لگایا اور ایک دفعہ پھر معافی مانگی۔ ٹریسا نے انہیں معاف کر دیا۔

ٹریسا سے ملاقات کے بعد علیحدگی میں جب میں نے رابرٹ سے پوچھا کہ انہوں نے اپنے انٹرویو میں ٹریسا کی والدہ کا ذکر نہیں کیا تو کہنے لگے کہ میں ٹریسا کے سامنے اس کی والدہ کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اب کئی مہینوں سے رابرٹ ٹریسا کو روز فون کرتے ہیں۔ ہر ہفتے اسے لنچ یا ڈنر پر لے کر جاتے ہیں اور اسے تحفے بھی دیتے ہیں۔

ٹریسا کو ابھی بھی یقین نہیں آتا کہ یہ سب کچھ سچ ہے۔ اسے لگتا ہے وہ کھلی آنکھوں سے ایک خواب دیکھ رہی ہے۔

جب سے ٹریسا اپنے والد سے مل رہی ہے اور وہ اسے اپنی محبت کایقین دلا رہے ہیں اس کی اینزائٹئی میں بہت کمی آ گئی ہے اور اسے تین مہینے سے کوئی پینک اٹیک نہیں ہوا۔ اس کی دوائیاں بھی بہت کم ہو گئی ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں کئی باپوں سے کہا کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزارا کریں اور ان سے اپنی محبت اور پیار کا اظہار کیا کریں۔ جن باپوں سے نوجوانی میں غلطیاں ہوئی ہیں میں انہیں مشورہ دیتا ہوں کہ وہ رابرٹ کی طرح اپنے بچوں سے معافی مانگیں اور ان سے محبت کا ایک نیا باب شروع کریں۔ زندگی کے کسی دور میں بھی جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہو کہ اس نے کسی کا دل دکھایا ہے تو اسے معافی مانگنے میں عار محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ ہم سب انسان ہیں اور خطا کے پتلے ہیں لیکن ہم زندگی کے کسی موڑ پر بھی معافی مانگ کر محبت کا ایک نیا باب شروع کر سکتے ہیں۔

دیر آید درست آید۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 305 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *