”کرونا“ کا انتظار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ اپنے چھوٹے بیٹے کی کانوں پر جوں تک نہ رینگنے کی عادت دیکھتے ہوئے مجھے ابھی سے یقین ہوچلا ہے کہ بڑا ہو کر یہ سرکاری افسر بنے گا یا پھر سیاست دان۔ سال بھر کا تھا کہ اپنے جنجال کم کرنے کے لیے اس کو موبائل پکڑانے کی غلطی کر بیٹھی۔ اس دن سے اس کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا سب یوٹیوب کی سنگت میں ہونے لگا۔ اس لت سے گو کہ میرے سر سے بھی کافی بوجھ اترے۔ اسکول جانے کو تیار نہ ہوتا تو گاڑی میں ڈال کر یوٹیوب پر اس کی پسند کا کارٹون لگا دیتی۔ یوں وہ سارا راستہ جو بچے چیختے چلاتے طے کرتے ہیں، سکون سے کٹ جاتا۔ گھر میں ہوتا تو بنا ٹینشن کے بے شمار کام سمیٹ لیتی، فون پر سہیلیوں سے گپیں لگاتی، نہ یہ گود میں چڑھتا، نہ فضول میں روتا دھوتا۔ میں خوش ہوتی کہ یوٹیوبی بچے پالنا کس قدر آسان کام ہے۔

یوٹیوب کی لت نے ذرا اور زور پکڑا تو میں نے اس کو اس دنیا سے دور کرنے کے لیے سمجھانے بجھانے کی کوششیں شروع کردیں، لیکن وہ بھیم، شیوا اور کیمون کی ایسی فینٹسی میں گم رہتا کہ میری بات پر کان دھرنے کو تیار نہ ہوتا۔ ”ذرا بڑا ہوگا تو سمجھ جائے گا۔ “ یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتی اور مزید اس کی جان کا بخار نہ بننے کا ارادہ ترک کر کے اس کا ماتھا چوم کر کام میں لگ جاتی۔ کچھ اور وقت گزرا تو اس کو پھر سے یوٹیوب سے دور کرنے کے جتن شروع کر دیے۔ نوالے منہ میں ڈالتے ہوئے ساتھ لیکچر بھی گھول گھول کر پلاتی لیکن وہ میری کسی نصیحت کے جواب میں گردن ہلانے کی زحمت بھی گوارا نہ کرتا، مبادا تسلسل خراب ہوجائے۔ نوالے خاموشی سے بیٹھا حلق سے اتارتا رہتا، جس پر میں جل بُھن کر خاک ہوجاتی۔

نئے رواج کے تحت پہلے سال تو اسکول میں لاڈ پیار اور کھیل کود میں رکھ کر کیا سکھایا پڑھایا گیا، اللہ جانے! لیکن اگلے سال سے ہوم ورک کے نام پر کاغذ کے کچھ پرزے گھر آنے لگے۔ ان کو دیکھ کر میں خوشی سے پھولے نہ سمائی کہ میرا بچہ اب ان تصویروں میں حقیقی رنگ بھرے گا اور یوٹیوب سے خود ہی دور ہوجائے گا۔ لیکن بھول بیٹھی تھی کہ وہ تو مستقبل کا سرکاری افسر ہے اور میں ہوں ایک بے بس ماں۔ کاغذ اور رنگ اس کے سامنے سجائے بیٹھی رہتی اور وہ یوٹیوب پر کوئی سمجھوتا کرنے کو تیار نہ ہوتا۔ کچھ اور اصرار کرتی تو اسکرین پر نظریں گاڑے اندازے سے ہاتھ چلنے لگتے اور ایسے نقش و نگار بنتے، جنہیں دیکھ کر میرا سر گھومنے لگتا۔

دن یوں ہی گزرتے جا رہے تھے کہ ایک دن بیٹھے بٹھائے مجھے خیال سوجھا کہ محلے کے بچوں کو گھیر کر کیوں نہ بیٹے کی دوستی کروائی جائے، ہم عمر بچوں کی صحبت میں رہے گا تو اس فینٹسی ورلڈ سے خود ہی باہر آجائے گا۔ مشن ایسا امپاسیبل بھی نہ تھا۔ سو، بچوں کی تلاش کا سلسلہ شروع کردیا۔ پڑوس میں جا کر ماؤں کی منت سماجت کی کہ اپنے بچوں کو شام میں ذرا دیر میرے گھر بھیج دیا کریں۔ دوسری طرف بچوں کو بھی گھیرگھار کے اپنے ننھے کے ساتھ کھیلنے پہ رضامند کیا۔

یوں ایک شام گھر میں بیٹے کے ہم عمر دو بچے اور موجود تھے۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کا عالم ہی کچھ اور تھا۔ بیٹے نے بھی ان بچوں کو وارم ویلکم دیا اور جھٹ پٹ دوستی بھی ہوگئی۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا اور اپنے اس کارنامے پر فخر کرتے ہوئے کچن میں جا گُھسی اور بچوں کے لیے سینڈوچ بنانے لگی۔ آخر بچوں کو روز بلانے کے لیے کچھ تو لالچ دینا ہی تھا تاکہ روز میرے ننھے کے ساتھ کھیلنے آجایا کریں۔

وہ دن اب کہاں دور ہے جب میرا بچہ گھر سے باہر کرکٹ اور فٹ بال کھیلنے جائے گا اور حقیقی دنیا میں قدم جمائے گا۔ اسی سوچ میں جھومتی جھامتی، سینڈوچ کی پلیٹ پکڑے میں نے کمرے میں قدم رکھے تو میری ساری سوچیں بھک سے اُڑ گئیں، یہ کیا؟ یہاں تو منظر ہی الگ تھا۔ اب صرف بیٹا ہی نہیں بلکہ اس کے دونوں ننھے دوست بھی موبائل کی اسکرین پر جھکے محویت سے کارٹون دیکھ رہے تھے۔

میرے ننھے نے بڑی خوشی سے سینڈوچ کی پلیٹ میرے ہاتھ سے جھپٹی، دوستوں میں بانٹے اور میری طرف یوں نظر ڈالی جیسے پوچھ رہا ہو کہ اب آپ کیوں کھڑی ہیں؟ جائیے۔ اور میں پاؤں پٹختی ہوئی باہر نکل گئی۔ اس کے بعد میں نے اسے گھر سے باہر کھیل میں لگانے کے جتن کرنا چھوڑ دیے۔ لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ میں یو ٹیوب سے جڑے اس کے رشتے پر سکون کا سانس لوں گی۔ اس دن کا سورج، آج کرونا وائرس کی آمد کی خبروں کے ساتھ طلوع ہوا۔

بچوں کی حفاظت کی خاطر اسکول بند کرنے کا سرکاری فیصلہ سب سے زیادہ ماؤں کو نامعقول لگا، کہ بچوں کو باہر جانے سے روکنا ان کے لیے ایک بہت بڑا عذاب بن جاتا ہے۔ سب کی فکریں دیکھ کر میں سکون سے بیٹھی تھی کہ میرا ننھا تو یو ٹیوب کی دنیا میں ہی مست رہتا ہے۔ سو اس کے گھر سے باہر نکلننے کی طرف سے میں بے فکر تھی۔ رہ گئے بڑے بچے تو ان کو سمجھانا تو آسان ہے۔

سو آج صبح ناشتے کی ٹیبل پر میں کرونا وائرس کے حوالے سے دونوں بڑے بچوں کے کان کھانے میں مصروف تھی۔ ان کو لمبا چوڑا ہدایت نامہ جاری کر رہی تھی جسے سن کر وہ دونوں کوفت بھری اداسی سے میری طرف دیکھ رہے تھے، جب کہ ننھا ہر بات سے بے خبر یوٹیوب میں گم تھا۔

”وائرس کراچی تک آپہنچا ہے“

”خبردار جو گھر سے باہر قدم بھی رکھا“

میں بار بار انہیں ڈرانے کے انداز میں تاکید کیے جارہی تھی کہ اچانک ننھے میاں نے موبائل بند کر کے میز پر رکھا اور کھیلنے کے لیے باہر جانے کا اعلان کر ڈالا۔ ہم تینوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا لیکن وہ سرکاری افسروں والی اسی اکڑ میں گردن تانے فیصلہ سنا چکا تھا اور میں جانتی تھی کہ اب اسے روکنے کی ساری کوششیں اکارت ثابت ہوں گی۔

ننھے کے اندر سمجھنے کے جراثیم ہوتے تو یوٹیوب سے اس کی جان کب کی چھٹ چکی ہوتی۔ لیکن کسی سیاست داں کی طرح نظام درہم برہم کرنے کا ارادہ وہ ہمیشہ باندھ کے رکھتا ہے۔ اور میں جو کل تک اس کے گھر سے باہر جا کر دوستوں کے ساتھ نہ کھیلنے کی وجہ سے پریشان تھی، اب اس کے باہر نکلنے کے اعلان نے میرا چین غارت کر دیا۔

صبح سے شام ہوچکی ہے۔ وہ کرونا کے انتظار میں گھر سے باہر ہی ہے۔ ہاں ہر تھوڑی دیر بعد آکر مجھ سے پوچھتا ضرور ہے کہ ماما کرونا اب تک کیوں نہیں آیا؟ اور میں اس کی بات پر دل تھام لیتی ہوں۔ جو دعائیں یاد ہیں اس پر پڑھ کر پھونک دیتی ہوں۔ وہ اس وقت بھی میرے ہاس کھڑا پلکیں جھپکائے یہی پوچھ رہا ہے کہ ماما کرونا ہمارے محلے میں آئے گا بھی یا بس وہیں سے ہوکر چلا جائے گا؟ کرونا کا یہ انتظار مجھے اس کی یوٹیوب کی لت سے کہیں زیادہ کھٙل رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *