جاوید میانداد کا شکوہ اور خبرناک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غالباً یہ 2009.10 کی بات ہے۔ ان دنوں معروف اینکر پرسن اور کالم نگار جناب آفتاب اقبال جیو چینل پر حسب حال کے نام سے شو کیا کرتے تھے۔ اپنے شوز میں اکثر نامور سیاستدانوں کی ڈمیز بنا کر ان سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے۔ آفتاب اقبال ایک اعلٰی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور حالات حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے صحافی ہیں۔ ٹی وی پروگروم سے قبل وہ روزنامہ نوائے وقت میں اسی ٹائٹل کے تحت ہلکا پھلکا اور طنزیہ کالم لکھا کرتے تھے۔

انہوں نے بہت کم وقت میں اپنے منفرد اسلوب بیان کی وجہ سے بے شمار قارئین کی توجہ حاصل کر لی تھی۔ عمران خان ان دنوں اپوزیشن میں تھے اور اپنے بلند بانگ اور دبنگ انداز کی وجہ سے شہرت کی بلندیوں پر تھے۔ آفتاب اقبال ان دنوں عمران سے کچھ زیادہ ہی محبت کیا کرتے تھے۔ اس سے قبل بھی وہ دو تین پروگراموں میں عمران خان کو طنز و تعریض کا ہدف بنا چکے تھے۔ اس روز تو آفتاب اقبال نے ان کی آنکھوں اور ان پر سایہ کیے بوجھل ابروٶں کے بھدے پن پر طنز کیا تھا۔

عمران سے سیاسی اختلاف کے باوجود سچی بات یہ ہے کہ آفتاب اقبال کا یہ انداز ہمیں بہت برا لگا۔ ہم نے جناب آفتاب اقبال کو ایک دل جلا سا ٹیکسٹ مسیج کردیا۔ فوراً ہی ان کی کال آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پیغامات موبائل فون پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر مشتہر کیے جاتے ہیں اور یہ کہ عمران خان میرا دوست ہے اور اس نے مجھے خود کہہ رکھا ہے کہ میں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا کروں وغیرہ۔

کوئی تہذیب جب مجموعی طور پر زوال کا شکار ہو تو اس کے سبھی شعبے روبہ زوال ہوتے ہیں۔ ہم بھی اجتماعی زوال کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں مختلف چینلز پر جو طنزیہ اور مزاحیہ شوز کیے جاتے ہیں ان میں کم و بیش تمام شوز کا معیار کئی اعتبار سے سوالیہ نشان ہے۔ یہ شوز کے مابین تقابل کا محل نہیں یہاں ہم صرف جیو کے مشہور پروگرام میں کرکٹ کے افق کے آفتاب و ماہتاب جاوید میانداد کا مضحکہ انتہائی بھونڈے انداز میں اڑائے جانے کے نتیجے میں جاوید میانداد کے بالکل درست گلے اور ان کے پرستاروں کی دل آزاری کا ذکر کریں گے۔

یہ پروگرام جس نے بھی دیکھا وہ پروگرام کی پوری ٹیم کے ادبی و اخلاقی مذاق کی سطح پر سر پیٹ کر رہ گیا۔ ایسے پروگراموں میں عام طور پر سیاستدانوں کو بہت پست سطح پر جا کر رگڑا لگایا جاتا ہے۔ خبرناک ہی کا ایک لائیو شو معروف اینکر حامد میر اس وجہ سے چھوڑ کر چلے گئے تھے کیونکہ اس میں نامور عالم دین اور سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن کا مذاق و مضحکہ اڑایا گیا تھا۔

پی ٹی وی نے اس حوالے سے بھی بہت یادگار اور شاندار مزاحیہ پروگرام دیے ہیں۔ مثلاً ففٹی، سٹوڈیو ڈھائی وغیرہ۔ مگر جب سے پرائیویٹ چینلز کھلے ہیں ہر طرح کے پروگراموں، ڈراموں اور شوز کا معیار بری طرح گرا ہے۔ مزاح ہلکے پھلکے طنز یا چوٹ کی حدود میں داخل ہو جائے تو پھر بھی قابل قبول ہوتا ہے مگر یہی مزاح جب پھکڑ پن، ٹھٹھہ، تمسخر، مخول، پھپھتی، ابتذال، مضحکہ تک پہنچتا ہے تو دل بستگی کا سامان پیدا کرنے کے بجائے دل آزاری اور رنج و محن کا باعث بنتا ہے۔

اچھا مزاح لکھنے یا کرنے والا مذاق کرنے اور مذاق اڑانے میں فرق جانتا ہے۔ ہماری دینی اور اخلاقی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ ہم خَلق کے بجائے خُلق کی برائیوں کے ذریعے مزاح تخلیق کریں۔ طنز و مزاح میں بہت معمولی فرق ہوتا ہے۔ جب تک مخاطب آپ کی باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہے وہ مزاح کے زمرے میں ہوتا ہے مگر جونہی اس کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہوں آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ آپ مزاح کے نام پر اگلے کا تیا پانچہ کرنے لگے ہیں۔

خبرناک کے پروگراموں میں بھی جاوید میانداد کو اس طرح مذاق کا نشانہ بنایا گیا کہ انہیں خود منظر عام پر آ کر اس کے خلاف احتجاج کرنا پڑا۔ تمام پروگراموں میں میانداد کے خَلق یعنی شخصیت کے ان نقائص پر پھبتیاں کسی گئیں جن میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں ہے۔ مثلاً 99 فیصد تو ان کے لب و لہجے (تتلاہٹ) اور سانولے رنگ کو بھونڈے انداز سے نشانہ بنا کر مزاح پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ کسی بھی فن کی معراج پر پہنچنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔

ہم جس نامور شخصیت کو اخلاقی حدود پائمال کر کے طنز و تحقیر کا ہدف بناتے ہیں اس نے وہ مقام حاصل کرنے کے لیے پتہ نہیں کتنے پاپڑ بیلے ہوتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ خبرناک والے میانداد کی توہین آمیز ڈمی بنانے کے بجائے انہیں پروگرام میں بلا کر پی ایس ایل کے میچز پر ان سے ماہرانہ رائے لیتے۔ سنجیدہ اور فہمیدہ اینکر شہزاد اقبال کا اس مہم کا حصہ بننا اور بھی قابل افسوس ہے۔ تمام چینلز اس طرح کے شوز میں قومی اور بین الاقوامی ہیروز کی تضحیک کر چکے ہیں جو تشویشناک امر ہے۔ جیو اور خبر ناک کی تمام ٹیم کو علانیہ اس تضحیک پر جاوید میانداد سے معافی مانگنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply