دشمن کے پھندے اور کھائی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دشمن کے بچھائے پھندے میں ہم مکمل پھنس چکے ہیں۔ اب ہمیں بتدریج کھائی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ’ایف اے ٹی ایف‘ کا ’ڈھول‘ بجا کر ہمارا ہانکا کیاجارہا ہے، ہم بدحواس جنگلی جانوروں کی طرح کسی کھوہ، کسی غار یا کسی گھاٹی کی پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔ حقائق کا سینہ سپر ہوکر سامنا کرنے کے بجائے ’مفاہمت‘ کی راہ کے تلاش کر رہے ہیں۔ دائیں، بائیں، اوپر نیچے، ادھر ادھر کی ہانکنے سے نہ ہم پہلے بچے نہ مستقبل میں ہی اب یہ ممکن ہو گا وقت ہے، ٹالنے سے ٹل نہیں سکتا۔ ہونی کو ہوکر رہنا ہے۔ ابھی شاطروں کے ترکش میں بہت سے زہریلے تیر باقی ہیں۔ پاکستان کو باضابطہ دیوالیہ قرار دیے جانے کا کوئی دور دور تک خطرہ نہیں، بس دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ ابھی اور کام باقی ہیں۔

عالمی معاشی ادارے، قرضوں کے اجرا کا پیچیدہ طریق کار، Risk factors اور اس کی تال میل اس کالم نگار ان معاملات میں بالکل کورا ہے ویسے بھی ہمہ جہت کالم نگار اور عبقری دانشور برادر کبیر جناب نصرت جاوید نے ( ایف اے ٹی ایف ) کے تمام محاسن کچھ اس طور کھول کھول عام فہم انداز میں بیان کیے کہ لطف آگیا

نصرت جاوید سے اب تو ملاقاتیں بوجوہ تعطل کا شکار ہیں ورنہ اک دور ایسا بھی گزرا ہے کہ خاکسار کے لئے ہمارے ’شاہ جی‘ جابجا وقت کے ظالموں جابروں اور فرعونوں الجھتے پھرتے تھے اب بھی ان کی بے پا یاں عنایات کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن زمانی فاصلوں اور ان کی مصروفیات نے ملاقاتوں میں وقفہ بڑھا دیا جس کی کمی ان کے بولتا پاکستان میں شریک کار مشتاق منہاس پوری کررہے ہیں اس خوش بخت نے عین عروج پر پیشہ صحافت کو الوداع کہا کھلے مقابلے روایتی سیاستدانوں کو چاروں شانے چت کیا اب ریاست آزاد جموں و کشمیر کی 4 سے 5 وزارتیں بیک وقت چلاتے ہیں سرشام میڈیاٹاؤن مجلسیں جماتے ’ککی قصائی گردی‘ کا شکار وحید چودھری ان کے رابطہ کار ہوتے ہیں

پھر ہم مل کر جناب نصرت جاوید کی عنایات کو یاد کرتے ہیں

اس سارے کھیل سے پردہ پہلے ہی اٹھادیا گیا تھا۔ خاکسار نے پس پردہ حقائق اور آنے والے معاملات پر پس منظر اور پیش منظر واضح کرنے کے لئے

”قاعدے، قانون اور اصولوں پر چلنے کی پاداش میں زندگی بھر تکالیف اٹھانے والے سابق وفاقی سیکریٹری کا خط ملاحظہ فرمائیں جس میں بڑ ے انکشافات کیے گیے ہیں اور بڑے خطرات کی بروقت نشاندہی کی گئی ہے ؛

فرماتے ہیں

”آپ کی تحریریں حوصلہ اور تقویت دیتی ہیں۔ دعا ہے اللہ تعالی آپ کو صحت اور تند رستی عطا کرے۔ آپ کشمیر کے معاملے پر اکثر لکھتے رہتے ہیں مگر شاید آپ کے علم میں نہ ہو کہ بھارت نے سفارتی سطح پر مکمل طور پر ہمارے گلے میں ’ایف اے ٹی ایف‘ کا پھندا ڈال دیا ہے۔ ہمارے سفارت کار اور پالیسی ساز ایڈہاک ازم کے عادی ہیں۔ “

لکھتے ہیں ”خدشہ ہے کہ اس چکر میں ہمیں مزید پھنسایا جا رہا ہے اور صرف فروری 2020 کی ’پھندا‘ ( ایف اے ٹی ایف ) میٹنگ کے لئے ایک ایسا کام تیار کیا جا رہا ہے جس کا نتیجہ وہی ہو گا جو کرنل قذافی کے ساتھ ہوا تھا اور لیبیا کو اربوں ڈالر جرمانہ دینا پڑا تھا۔ یہ باریک واردات اس طرح کی گئی تھی کہ حافظ سعید کو انسداد دہشت گردی عدالت (ATC) کے تحت فرضی مقدمات میں سزا دلوا کر“ ( ایف اے ٹی ایف ) کی فروری میں ہونے ’گرے لسٹ‘ سے جان چھڑا لی جائے ”

لیکن اس ”لسٹ“ سے جان نہیں چھڑائی جاسکی اب یہ تلوار جون جولائی 2020 تک ہمارے سر پر معلق رہے گی

اس خوفناک اطلاع کے ساتھ وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارے لوگ اس سے آگے نہیں سوچ رہے کہ اس بات کو لے کر بھارت ’یو این‘ کے بڑے فورم پر جائے گا اور پاکستان کو اربوں ڈالر جرمانہ کروائے گا اور ہمارا انجام لیبیا سے بھی برا ہو گا۔ کوئی آزاد ادارہ ہو جو طویل المدت پالیسی سازی کے لئے ریسرچ کرے اور اس کی سفارشات اعلی ترین سطح پر رکھی جائیں۔ “

خط میں انہوں نے لکھا کہ ”حافظ سعید کو سزا دلواکر سزا (convict) وقتی طور پر ’واہ واہ‘ تو ہو گئی مگر اس کے بعد ”ہتھیں گنڈاں دتیاں تے دنداں نال کھولنیاں پینڑ گیاں“ (ہاتھوں سے لگائی گرہیں پھر دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں ) والا معاملہ ہو گا۔ امید ہے آپ اس معاملے پر غور فرمایئں گے اور حتی المقدور آواز اٹھائں گے۔ ”

ایف اے ٹی ایف حکمت عملی کی تیاری کا عالمی ادارہ ہے۔ قانون کے نفاذ، تحقیقات یا عدالتی کارروائی سے متعلق اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی دو فہرستیں ہیں۔ ایک کو بلیک یا سیاہ اور دوسری کو ’گرے‘ یا ’سرمئی‘ فہرست کہاجاتا ہے۔ سیاہ فہرست میں ان ممالک کو شامل کیاجاتا ہے جن کے بارے میں ایف اے ٹی ایف اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے محفوظ ٹھکانے ہیں اور متعلقہ ملک تعاون نہیں کررہا۔

ایف اے ٹی ایف سیاہ فہرست میں ممالک کو شامل کرتا اور نکالتا رہتا ہے۔ ’گرے فہرست‘ میں شامل ممالک کے بارے میں ایف اے ٹی ایف تصورکرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کی مالی مدد اور کالا دھن سفید کرنے میں ملوث نہیں۔ یہ فہرست ’وارننگ‘ کے زمرے میں لی جاتی ہے جس طرح فٹ بال میں پیلا کارڈ دکھایاجاتا ہے۔

’گرے فہرست‘ میں آنے کا مطلب ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک جیسے عالمی مالیاتی اداروں کی آپ پابندیاں لگ جاتی ہیں، قرض ملنا بند ہوجاتے ہیں، عالمی تجارت پر قدغنیں عائد ہوتی ہیں، سادہ الفاظ میں عالمی برادری آپ کا ’حقہ پانی بند‘ کردیتی ہے۔

پاکستان کو پہلی مرتبہ 2012 میں ’گرے فہرست‘ میں شامل کیاگیا۔ 29 جون 2018 کو دوسری بار اس فہرست میں شامل کیاگیا۔ یہ عمل فروری 2018 ءمیں اس وقت شروع ہوا تھا جب ایف اے ٹی ایف نے ’انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ‘ (آئی سی آر جی) کے ذریعے پاکستان کی نگرانی شروع کرنے کی منظوری دی۔ بھارت، امریکہ اور برطانیہ پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی سیاہ فہرست میں شامل کرنا چاہتے ہیں جبکہ چین اور ترکی اس کے مخالف ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو 27 اہداف دیے جن میں سے 5 پورے ہوئے۔ 20 فروری 2020 کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پاکستان کو ’گرے لسٹ‘ پر برقرار رکھتے ہوئے جون 2020 یعنی تقریبا چار ماہ کا مزید وقت دان ہوا۔ یہ اعتراف بھی کیاگیا کہ پاکستان نے گزشتہ عرصے میں 27 نکاتی ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور 9 اضافی نکات پرعمل درآمد کیا ہے۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے بعد جاری شدہ بیان میں پاکستان پر ”بھرپورزور“ دیاگیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کے مکمل ایکشن پلان پر جون تک پوری طرح یا من وعن عملدرآمد کو یقینی بنائے۔ ایسا نہ ہوا تو پاکستان کے خلاف آئندہ اجلاس میں کارروائی ہوگی۔ یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 14 نکات پر عمل کیا ہے۔ رائے شماری میں ایک بار پھر آئرن برادر چین، ملائیشیا اور ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔

چین ایک بارپھردوستی کا حق ادا کرتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور چین کی وزارت خارجہ نے اس ضمن میں باضابطہ بیان جاری کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ چین نے ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ آنے سے گھنٹوں پہلے ہی پاکستان کے حق میں فیصلہ سنادیاتھا۔

یہ تو بات ہوئی قاعدے قانون کی۔ لیکن دنیا میں طاقتور کب قاعدے قانون پر چلے ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ سابق امریکی صدر کی اہلیہ، سابق وزیر خارجہ اور امریکی صدارت کی امیدوار ہیلری کلنٹن نے یہ انکشاف خود امریکی میڈیا پر نہیں کیاتھا کہ امریکہ نے کس طرح کس کس کی مسلح تربیت کا انتظام کیا اور پھرزرکثیر سے ان کے ہاتھ مضبوط کیے۔ لیکن کسی ایف اے ٹی ایف نے ہیلری کلنٹن کو بلا کر نہیں پوچھا کہ یہ منی لانڈرنگ تھی؟ یا دہشت گردوں کی معاونت تھی؟ امریکہ کو کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا کہ آپ پر اتنا بڑا الزام لگا ہے، آکر وضاحت کیجئے ورنہ آپ کو گرے یا بلیک لسٹ میں شامل کرلیاجائے گا؟

روسی صدر ولاد میر پیوٹن کا یہ بیان بھی ایف اے ٹی ایف کے نوٹس میں نہیں آیا جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیاتھا کہ دنیا کے طاقتور ترقی یافتہ ممالک دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد فراہم کررہے ہیں۔ ولاد میر پیوٹن کو ایف اے ٹی ایف نے کوئی نوٹس نہ بھیجا نہ ہی روس سے وضاحت مانگی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ عراق کو تہہ تیغ کردیاگیا، لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، شام، یمن سلگ رہے ہیں، فلسطین پر یک طرفہ اور غیرقانونی جبر نافذ کیاجارہا ہے، اسرائیل کی طرز پر موذی کشمیر میں وہی کچھ دہرارہا ہے۔

رہی بات پاکستان کو دیوالیہ قرار دینے کی تو یادش بخیر پاکستان کی ایک بہت ہی اہم شخصیت سے ملاقات جاری تھی جس میں یہ کالم نگار بھی موجود تھا۔ پاکستان کو درپیش مالی مسائل اور دیوالیہ قرار دیے جانے کے خدشات ظاہر کیے جارہے تھے تو اس اہم شخصیت کا کہنا تھا کہ جس چیز سے ہمیں ڈرایاجاتا ہے، حقیقت دیکھیں تو وہ کام بہت پہلے ہوچکا ہے لیکن دنیا اسے باضابطہ کہتی نہیں۔ پاکستان کے مالی ومعاشی مسائل کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا لیکن معاشی دیوالیہ قرار نہیں دیاجائے گا۔ کم ازکم اگلے تیس سال تو نہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ تمام عالمی ضابطے، قاعدے، مکڑی کی طرح بنے قوانین کے جال میں صرف اسلامی دنیا نے ہی ہر مرتبہ پھنسنا ہے؟ ہم ’یتیم کے بال‘ کی طرح ہر شادی اور مرگ میں ہی جوتے کھائیں گے؟ چوہدری کو کس نے پوچھنا ہے؟ امریکہ کے جال میں ہم نے کتنی بار پھنسنا ہے؟ سوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے لیکن جس کی آنکھیں کھلی ہوں، جو بظاہر بیدار دکھائی دے، اسے کیسے جگائیں؟ ایک ایک قدم پیچھے ہٹتے ہم ذلت کے پاتال میں جاگریں گے۔ پھر بھی ہمیں لڑنا اور اٹھنا ہی پڑے گا لیکن قیمتی وقت ضائع ہوچکا ہوگا۔

حرف آخر یہ کہ حافظ سعید کا اپنا کوئی بنک اکاونٹ نہیں، ان پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کے گھٹیا الزام لگایا جارہا ہے حافظ سعید پاکستان کا بے تیغ سپاہی ہے، اس کا گھیراؤ نہیں، یہ دراصل پاکستان کا گھیراؤ ہورہا ہے۔

’نئے پاکستان‘ میں خصوصی عدالت نے حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی سرپرستی کے الزام میں مختلف سزائیں سنا چکی ہے پاکستان کے لئے خون جگر دینے والے جھوٹے اور لغو الزامات میں جیلیں کاٹ رہے ہیں اور ملک و قوم کی دولت سے اپنے محل منارے سجانے والے جعلی میڈیکل سرٹیفیکیٹوں موج اڑا رہے ہیں ہم بھی کیا لوگ ہیں اپنا گلا اپنے ہاتھ سے کاٹے جارہے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply