کسی نبی کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی: آسیہ بی بی
پاکستانی مسیحی خاتون آسیہ بی بی نے فرانس سے سیاسی پناہ دینے کی اپیل کی ہے۔ اس سلسلسے میں وہ فرانسیسی صدر سے ملاقات کریں گی۔ آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ اسے اپنے بہن بھائیوں اور سسرالیوں کی یاد آتی ہے لیکن سب سے زیادہ وہ اپنے ملک کی ثقافت، کھانوں اور چار موسموں کو یاد کرتی ہیں۔ آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ ایک دن چیزیں بدل جائیں گی اور وہ 58 سالہ شوہر عاشق، 20 سالہ بیٹی ایشام اور 21 سالہ معذور بیٹی ایشا کے ہمراہ پاکستان جائیں گی۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستان واپس جانے کی امید بالکل اُس طرح برقرار رکھی ہوئی ہے جیسے قید کے دوران آزادی کی امید رکھی ہوئی تھی۔ آسیہ بی بی نے اپنی کتاب میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے یہ معاملہ شروع ہوا اور کیسے قید کے بعد رہائی ملی۔
آسیہ بی بی کا مزید کہنا ہے کہ میں نے کبھی توہین رسالت نہیں کی۔ میں کسی نبی کی توہین کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ میں نے کچھ نہیں کہا تھا۔ یہ معاملہ پانی کے گلاس سے شروع ہوا تھا۔ آسیہ بی بی کینیڈا میں نامعلوم مقام پر تین بیڈروم والے اپارٹمنٹ میں اپنے شوہر اور بیٹیوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حالیہ عرصے میں مجھے کوئی دھمکی نہیں دی گئی۔ میں نے اخبار میں پڑھا تھا کہ کوئی مجھے جان سے مارنا چاہتا ہے لیکن میں پرسکون رہی، میں مضبوط ہوں۔ مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے آسیہ بی بی نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے ابھی تک کچھ نہیں سوچا کہ مستقبل میں ہمارا خاندان کہاں جائے گا۔
مجھے معلوم ہے کہ یورپی یونین میرے معاملے پر بہت سخت محنت کر رہی ہے اور وہی لوگ فیصلہ کریں گے کہ میں کہاں رہوں گی۔ آسیہ بی بی کا کہنا ہے کہ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب کو ان لوگوں کی مدد کے لئے متحد ہونا چاہئے جو پاکستان سمیت پوری دنیا میں توہین رسالت کے قوانین کے تحت قید ہیں۔ واضح رہے کہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو 2018 میں توہین مذہب کے معاملے پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بَری کر دیا تھا۔


