ممکنہ عالمی منظر نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر تمام ملکوں کے ساتھ ملنے والی سرحدوں سے خار دار تاروں کی باڑ ہٹا دی ہے۔ خطے کے تمام ملکوں کی افواج کو ملکی سرحدوں، دفاعی ڈیوٹی سے ہٹا کر نادیدہ دشمن کے خلاف متعین کر دیا گیا ہے۔ دشمن نادیدہ ہے لیکن اس کانشانہ جیتے جاگتے انسان ہیں۔ نادیدہ دشمن انسان کا رنگ نہیں دیکھتا، اس کی زبان، تہذیب، عقیدے کو نہیں دیکھتا۔ اسے مارنے کے لئے انسان کی ضرورت ہے، چاہے وہ کسی ر نگ و نسل، خطے سے تعلق رکھتا ہو۔ ہندوستان میں اس طرح کے نظارے عام ہیں کہ اقلیتیں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے عہدیداران کے سامنے مزاحیہ انداز میں نعرے لگاتے ہیں کہ ”بول، جے شری رام“۔ لیکن جواب میں اکثریتی انتہا پسند ہندو تنظیموں کے اعلی عہدیدار اپنے کان پکڑ کر عاجزی سے کہتے ہیں کہ ”رام رام کر بھیا“۔

جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ تمام خطوں کے ملکوں کے درمیان شہریوں کی آمد و رفت آزادانہ طور پر جاری ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور یورپ کے مذہبی رہنما، نمائندے ایران سمیت مختلف مسلم ملکوں کے دورے کرتے ہوئے گزری صدیوں کی معافی مانگنے اور معاف کر دینے کے مشن پہ ہیں۔ دنیا کے تمام خطوں میں نادیدہ دشمن کی ہلاکت خیزی کا نشانہ بننے والوں کی تعداد اب تک کی تمام جنگوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ عجیب دشمن ہے! نہ رحم کرتا ہے، نہ فریاد سنتا ہے، نہ شکست کی پیشکش پہ کان دھرتا ہے، نہ مفاد کی بات سنتا ہے، نہ نقصان کی پرواہ کرتا ہے! سرکاری اعداد و شمار کے مطابق برصغیر میں لاکھوں لوگ مر چکے ہیں جبکہ عمومی طور پر نادیدہ دشمن کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کروڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔

یہ اس وقت شروع ہوا جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج نکالنے کے مرحلے میں تھا، جس وقت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کسی بھی وقت ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو نے کے مرحلے میں تھی۔ اس وقت عالمی منظر نامہ یہ تھا کہ مشرق وسطی سمیت کئی مسلم ممالک جنگی کارروائیوں میں تباہ ہو چکے تھے اور تباہ ہو رہے تھے، امریکہ اپنے پرانے دشمن ملکوں کے خلاف دشمنی کے نت نئے ہتھکنڈے ایجاد کر رہا تھا، اقتصادی مفادات اور دنیا پہ اقتصادی غلبے کے لئے امریکہ اور چین کی مخاصمت میں خطرناک طریقے استعمال کیے جار ہے تھے، دنیا میں شہری حقوق کمزور سے کمزور تر ہو رہے تھے، ریاست کے مفاد کے نام پر شہریوں کے حقوق کو غصب کرنا، شہریوں کو مغلوب، ظلم و جبر ہی نہیں بلکہ ہلاکت کا نشانہ بھی بنانا، ریاست کے مفاد میں برتر اور مقدس ا قدام قرار پا چکا تھا۔

انسان کش عفریت کی ہلاکت خیزی چین سے نمودار ہوئی اور جلد ہی شیطان کی آنت کی طرح مختلف ملکوں میں بھی نمودار ہوتی چلی گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود اس عفریت پر قابو پانے کا کوئی طریقہ سامنے نہیں آ سکا۔ جب تمام بر اعظم میں انسانی ہلاکتیں کروڑوں کے اہداف کو پہنچ گئیں تو تمام براعظموں کے ممالک اپنی دشمنیاں بھولنے لگے، نفرتیں بھولنے لگے، مفادات سے دستبردار ہونے لگے، ملکوں کی سرحدیں مٹ گئیں، ان کا وجود غیر مرئی ہوگیا۔ انسانوں کی بلا روک ٹوک دنیا کے ہر خطے، ہر ملک میں آمد و رفت جاری ہے لیکن عافیت کہیں نہیں ہے، پہاڑوں، میدانوں، جنگلوں، ریگستانوں ہر جگہ نادیدہ دشمن کی ہلاکت خیز کارروائیاں جاری ہیں۔ اس انسان کش نادیدہ عفریت کو کرونا وائرس کا نام دیا گیا۔

یہ ایک ممکنہ منظر نامہ ہے۔ اگر کرونا وائرس پر قابو نہ پایا جا سکا تو عالمی منظر نامہ، درج بالا بیان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔ چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس 34 سے زائد ملکوں میں نمودار ہو چکا ہے جن میں چین کے علاوہ، جاپان، ہانگ کانگ، ماکو، جنوبی کوریا، تائیوان، اٹلی، فلپائن، فرانس، ایران اور امریکہ بھی شامل ہے۔ امریکہ میں کرونا کے 53 کیسز کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ یہ موذی وائرس کویت، بحرین، سنگاپور، کینڈا، عراق، عمان، افغانستان اور اسرائیل میں بھی نمودار ہو چکا ہے۔

ایشیا، یورپ اوربر اعظم امریکہ کے بعد اس وائرس کو افریقہ پہنچتے دیر نہیں لگے گی۔ 80 ہزار سے زائد افراد اب تک دنیا بھر میں اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس سے اب تک دو ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں غالب اکثریت چین کے علاوہ فلپائن، ایران، جاپان، فرانس، اٹلی اور تائیوان میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے خلاف عالمی وارننگ جاری کر دی ہے۔ دنیاکے گلوبل ولج میں تبدیل ہونے کی صورتحال میں اب انسانوں کے لئے مہلک کوئی بھی خطرناک، ناقابل علاج وائرس دنیا کے ہر خطے میں فوری طور پر پھیل سکتا ہے۔

پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں میں صحت کی سہولیات کی فقدان اور سہولیات کے ناقص معیار کی صورتحال میں ان ملکوں کے لئے کرونا وائرس کے خلاف اقدامات کرنا بہت مشکل ہے۔ ان ملکوں میں اس حوالے سے خصوصی تیاریاں نہ کرنے کی وجہ سے ان ملکوں میں کرونا وائرس پھیلنے کی صورت انسانی جانوں کے وسیع پیمانے پر متاثر ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ یوں ترقی یافتہ، امیر اور طاقتور ممالک بھی زیادہ دیر تک اس وائرس کی عالمی سطح پہ ہونے والی تباہ کاری سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

آج دنیا میں تباہ کن، ہلاکت خیز اسلحہ سازی کی صنعت سب سے بڑی ہے، اگر طاقتورملکوں نے انسانی فلاح و بہبود، صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دی ہوتی تو یقینا کرونا وائرس ہی نہیں کئی دیگر سنگین اور ناقابل علاج ہلاکت خیز بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہوتا۔ اگر دنیا میں طاقت، وسائل اور اختیار کی بنیاد پر ”عقلمند“ قرار پانے والے ممالک کرونا، دیگر سنگین بیماریوں، غربت و افلاس اور موسمیاتی تغیرات کو دنیا میں انسانوں کی بقاء کے خلاف سنگین خطرہ تسلیم کر سکیں تو دنیا کو بہت بہتر اور محفوظ خطے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ایسی دنیا کی تعمیر ممکن ہے کہ جہاں انسان کی قیمت پر پیسہ کمانا مرکزی مقصد نہ ہو بلکہ انسان کو برابری کی بنیاد پر انسانیت کا درجہ حاصل ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply