معاشی پریشانیوں سے کیسے بچا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ تین چار دہائیوں میں بیشتر پاکستانی خاندانوں کے معاشی حالات خاصے دگرگوں ہو گئے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ تو شاید ملکی سطح پہ مناسب معاشی ترقی کا نہ ہونا ہے لیکن انفرادی طور پر بھی چند ایسے عوامل ہیں جو مختلف خاندانوں کے معاشی مسائل میں اضافہ کا سبب بنے ہیں۔ ان میں سے چند عوامل شاید یہ ہیں :

گھر پہ پکا کھانا کھانے کی بجائے موقع بے موقع ریستورانوں پہ کھانا کھانے جانا یا ریستورانوں سے گھر پہ کھانا آرڈر کرنا۔
آئے دن نت نئے کپڑے اور جوتے خریدنا خواہ پہلے ہی ڈھیروں کپڑے اور جوتے موجود ہوں۔ ڈیزائنر کپڑے خریدنا۔

سہل پسندانہ طرز زندگی اپنانے کی وجہ سے مختلف بیماریوں خصوصاً موٹاپے، شوگر، بلڈ پریشر وغیرہ کا شکار ہونا جس سے طبی اخراجات میں اضافہ ہوجانا۔
ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معیاری وقت گزارنے کی بجائے خواہ مخواہ پیسے خرچ کرکے سالگراہیں منانا اور ہر سالگرہ کو اسپیشل بنانے کی کوشش کرکے خرچے بڑھانا۔

شادی بیاہ، فوتگی اور دیگر مواقع پر بڑھ چڑھ کے خرچہ کرنا تا کہ معاشرے میں اپنا نام اونچا ہو۔
مہنگے پرائیویٹ اسپتالوں اور اسکولوں کا انتخاب کرنا تا کہ لوگوں کی نظر میں آپ کا مقام بلند ہو سکے۔

قرضوں اور کریڈٹ کارڈوں کے ذریعے وہ مال بھی خرچ کر ڈالنا جو آپ نے ابھی تک نہیں کمایا ہی نہیں ہے اور یوں سودی قرضوں کے چنگل میں پھنس جانا۔
دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنے مکانوں کے اندرون و بیرون تزئین و آرائش پہ لاکھوں کروڑوں خرچ کرنا جس کی ضرورت بھی نہ ہو۔

اپنی مالی حیثیت سے مہنگی گاڑیاں اور موبائل فون خریدنا تا کہ معاشرے میں اپنے مقام کو اونچا دکھا سکیں۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی چھٹیوں پہ دوسرے شہروں یا ملکوں میں جانا۔

ہو سکتا ہے کہ مندرجہ بالا عوامل ہمارے معاشرے کے ایک طبقے کے لئے بنیادی ضروریات ہوں لیکن زیادہ تر لوگوں کے لئے یہ ایسی آسائشیں ہیں جن کے بغیر بھی گزارہ ہو سکتا ہے۔

کہیں پڑھ رکھا ہے کہ اپنی آمدنی کے تین حصے کرنے چاہئیں۔ ایک حصہ خرچ کر لیں، ایک خیرات کر دیں اور ایک حصہ بچت کر کے سرمایہ کاری کر دیں۔ یہ تو شاید ہر ایک کے لئے ممکن نہیں لیکن آپ یہ تو کر سکتے ہیں کہ اپنی آمدنی کے دو حصے خرچ کر کے ایک حصہ بچت کریں اور اپنے مستقبل کے لئے سرمایہ کاری کریں نا یہ کہ اپنی کمائی سے دوگنا خرچ کر کے قرض کے بار تلے دب جائیں۔
یاد رکھئے کہ خوشحالی یہ نہیں کہ آپ لاکھوں کروڑوں کمانا شروع کر دیں۔ خوشحالی یہ ہے کہ آپ اپنے وسائل کے اندر رہنے کا ہنر سیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply