اسلامی درد ختم ہوا توپھر ہو گا کیا؟
یہ فطری بات ہے کہ انسان کو قریبی رشتوں، دوستوں رشتے داروں کی تکلیف کا زیادہ احساس ہو تا ہے۔ وطن اور مذہب سے تعلق رکھنے والے دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں ہم مذہب اور ہم وطن ان کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں۔
دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ جب بھی نا انصافی یا ظلم ہوا، پاکستانی قوم نے اس درد کو محسوس کیا، اور ان پر روا رکھے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، چند حساس، درد دل رکھنے والوں نے بے قابو جذبات کے ہاتھوں ملک میں ہلکی پھلکی توڑ پھوڑ بھی کر دی۔ اس کی چھوٹی سی مثال ہمیں مولانا محمد علی جوہر کی برِصغیر میں تحریکِ خلافت کے دوران نظر آتی ہے۔ جسے مطالبہ پاکستان کا آغاز بھی کہا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ طاقت ور ہمیشہ کمزور کے ساتھ ظلم کرتا آیا ہے۔ طاقت ور کا کوئی دین، عقیدہ، نظریہ اور ایمان نہیں ہوتا وہ اپنی طاقت اور اختیار قائم کرنے کے لیے ہر حربہ اختیار کرتا ہے۔ طاقت اور اختیار کا نشہ کم ظرفوں کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں کی تاریخ بھی ظلم کے ابواب کے بغیر ادھوری ہے۔
انسان کے دکھ کو سمجھنے والے انسان پر ظلم ہوتے نہیں دیکھ سکتے، قدرتی آفت ہو یا اختیار کے گھمنڈ میں ظلم و بر بریت، ظالم کے خلاف سب کو بلا تفریق متحد ہو نا چاہیے۔ ہم نے اللہ کو زبان سے رب العالمین مانا اور دل میں اسے مسلمانوں کا خدا ہی سمجھا۔
مسلمانوں نے اسلام کو فلسفہء حیات سمجھنے کے باوجود کمزوروں کے لیے اس کے فلسفے سے کچھ اخذ نہ کیا، قرآن کو راہ نجات کی زبانی کلامی تفسیر دے کر اس پر، کپڑا چڑھا کر اونچی جگہ رکھ دیا۔ مسلمانوں پر جب کبھی کڑا وقت آیا ہم نے ان کی تکلیف اپنے دل میں محسوس کی۔ اپنے ملک میں رہتے کمزور طبقے کے لیے ہمارے اندر اسلامی درد ابھرا نہ دنیا بھر کے غیر مسلموں پر ہوتے ظلم کے خلاف ہم نے آواز اٹھائی۔
دنیا اتنی بے حس نہیں۔ بے بس مسلمانوں پر ظلم زیادتی اور نا انصافی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر ہر مکتبہء فکر کی جانب سے احتجاج بلند کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس احتجاج میں وہ شدت نہیں کہ بھارت کو من مانی نا انصافیوں سے روکا جا سکے۔ با لکل ویسے ہی جیسے دنیا میں غیر مسلم مظلوموں کے حق ہمارا احتجاج بلند نہیں ہوتا۔ لیکن مسلمانوں پر ظلم ہو تو ہماری خواہش ہوتی ہے کہ دنیا ہماری آواز سے آواز ملائے۔
اگر ہم بجائے مذہبی بنیاد کے، انسانیت کی بناء پر مظلوموں کے حق میں بلا تفریق مذہب آواز بلند کرتے تو ہو سکتا ہے دنیا آج ان مظلوموں کے ساتھ ہوتی، ہم نے ظالم کے خلاف آواز بلند کی ہوتی، تو آج اقوامِ عالم مودی سے اس کے ظلم کا حساب مانگتیں۔ افسوس ایک طرف ہم نے دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی لیکن دوسری طرف اپنے ملک میں ہم نے اپنی سوچ سے الگ سوچنے والوں کو نشانے پر بھی رد کے بجاکھا۔
دلی کے مسلمانوں پر ظلم اور کشمیریوں کی بے بسی نے ہمیں حواس باختہ کر رکھا ہے۔ کیوں کہ دکھ، پریشانی، اضطراب اور افراتفری میں ہم حواس کھو بیٹھتے ہیں، ایسے میں انسانیت کا درد ہماری رگ و پے میں اتر جاتا ہے۔
دلّی کے بے بس مسلمان ہوں یا مظلوم کشمیری۔ ان کے لیے خون کے آنسو رونے والوں کو آنسو پونچھ کر دو گھڑی سوچنا چاہیے۔ جن کے لیے وہ نو حہ کناں ہیں۔ کل کو کشمیر پاکستان بن گیا اور دلی کے لوگ ہجرت کر کے پاکستان آگئے تو معمولات اور اوسان بحال ہونے کے ساتھ جذبہء ایمانی کی چنگاری ہمارے دل و دماغ کو منور کر دے گی۔ اس نور کے ہالے میں الہامِ تازہ اتریں گے۔ تب ان میں سے کچھ ماتم مجلس والے کافر نکلے، کچھ مسلمان گھرانوں میں پیدا ہونے والوں پر ملحدین کا انکشاف ہوا، کچھ پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم ثابت ہوئے، کچھ بدعتی عیاں ہوئے، کچھ عمیق تحقیق سے بلاسفیمی کے مرتکب قرار دیے گئے تو پھر ہم ان کے ساتھ وہی کریں گے جو دلّی میں ہو رہا ہے۔


