پاکستان میں کرونا وائرس پر تجارت!
کورونا وائرس ہفتے، عشرے سے پاکستانی سرحدوں پر دستک دے رہا تھا جس پر حکومتی عہدیدار اور ماہرین صحت مسلسل خبردار کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی سطح پر کیے گئے حفاظتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کررہے تھے۔ سرحدوں اور ائیر پورٹس پر سخت سکریننگ کے دعوے بھی کیے جا رہے تھے، اس کے باوجود ایرانی شہر ”قم“ جانے والے زائرین کے وفد میں شامل 2 افراد میں واپسی پر کرونا وائرس پایا گیا جس پر دونوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا اور مزید حفاظتی و احتیاطی اقدامات کیے گئے۔
کوئٹہ تفتان ٹرین معطل کر دی گئی، ایران جانیوالے زائرین کا بلوچستان میں داخلہ بند کر دیا گیا، دو دن کے لیے ایران کے لیے پروازیں بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ ملک میں وائرس کے حوالے سے صورتحال تشویشناک نہیں، لیکن حفاظتی اقدامات سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے جن میں سب سے پہلی احتیاطی تدبیر کرونا وائرس کے حوالے سے قوم کو خوف و ہراس سے بچا کر رکھنا ہے۔ ملک بھرمیں خوف و ہراس پیدا کرنے کا سبب بننے والے عوامل، خواہ وہ مارکیٹ میں ”ماسک“ کی عدم دستیابی سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا جائے اور احتیاط و علاج کے بارے میں مکمل آگاہی فراہم کی جائے، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ کسی ایسی آزمائش کی صورت میں تمام احتیاطی تدابیر بروئے کار لانے کے ساتھ کسی منفی پراپیگنڈہ کا باعث نہ بنیں۔ سوشل میڈیا پر جھوٹا بے بنیاد پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے ’جسے چھپایا جارہا ہے۔ ایسی بے بنیاد باتوں سے عوام پریشانی اور افراتفری کا شکار ہو رہے ہیں جس کے سدباب کے لئے موثر اقدامات نا گزیر ہیں۔
یہ امر واضح ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ عوام کو پریشانی اور افراتفری کا شکارہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں، مگر ہماری حکومت نے انتہائی عجلت میں اعلان کر دیا کہ پاکستان میں دو افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، وفاقی مشیر نے جس عجلت میں اعلان کیا، بذات خود غور طلب ہے۔ حکومت نے جس اندازمیں تصدیق کی کہ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے، جہاں پر کرونا کے مریض موجود ہیں، اس سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے ہوئے کسی بھی شخص کو اس کے نتائج و عواقب کا علم ہی نہیں تھا یا پھر کسی پراسرار قوت کے کہنے پر یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا۔
اصولی طور پر تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ پہلے کرونا وائرس کی اچھی طرح سے تصدیق کی جاتی اور پھر اعلان کیے بغیر متاثرہ اشخاص کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جاتا، کرونا کوئی ایسا مرض نہیں ہے جس میں مبتلا ہونے کا مطلب یقینی موت ہے۔ یہ بھی فلو کی طرح کی بیماری ہے اور اس کی علامات اور عام فلو کی علامات میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا، تاہم پراسرار طور پر وفاقی وزیر نے اس بارے میں بلا سوچے سمجھے اس طرح اعلان کیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ سبقت لینا چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بارے میں انکشاف نہ کر دے۔
اگر بین الاقوامی معیار کے مطابق کورونا وائرس کا پہلا ٹیسٹ مثبت آئے تو بھی وائرس کے لیے دیگر ٹیسٹ کرنے چاہییں کہ عام فلو اور کورونا کے ٹیسٹ میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ کراچی میں جس شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق کی گئی، وہ دوپہر کو آغاخان اسپتال میں داخل ہوا تھا اور چند گھنٹوں کے بعد ہی اس کے بارے میں تصدیقی خبر جاری کردی گئی۔ اس کے بعد سے پورے ملک میں ایک خوف و ہراس کی فضا پیدا کردی گئی ہے۔ فوری طور پر کراچی اور بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں تعطیلات کا اعلان کردیا گیا۔
شہری ماسک خریدنے کے لیے میڈیکل اسٹوروں پر ٹوٹ پڑے اور آناً فاناً ماسک کی قیمتیں بڑھا دی گئیں۔ 5 روپے والا ماسک 30 روپے سے 50 روپے تک ہو گیا اور اب یہ مل بھی نہیں رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے حکم جاری کیا ہے کہ جہاں کہیں ماسک موجود ہوں، قیمت ادا کر کے اٹھا لیے جائیں۔ اس اعلان کے بعد ماسک کی ذخیرہ اندوزی بھی شروع ہو جائے گی۔ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا کہ پاکستانی شہریوں پر سفری پابندی لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
رات کو ہی سعودی عرب نے پاکستان سے عمرے اور سیاحتی ویزے پر آنے والوں کے لیے تا حکم ثانی پابندی عاید کردی ہے۔ اب خدشات ہیں کہ اس سے نجی اسپتالوں کی لاٹری کھل جائے گی، ہر برس تیس لاکھ سے زاید افراد پاکستان سے عمرے پر جاتے ہیں، اگر ان سے فی کس پانچ سو روپے بھی کورونا وائرس کے بارے میں سرٹیفکٹ کے طلب کیے گئے تو یہ اسپتال اور لیبارٹریاں اسی سے ڈیڑھ ارب روپے کما لیں گی، حجاج کرام کی ایک لاکھ 18 ہزار تعداد اس کے علاوہ ہے۔
کورونا وائرس اچانک دریافت نہیں کیا گیا، اس بارے میں جنوری سے خبریں آرہی تھیں، مگر حکومت نے اس بارے میں کوئی واضح پالیسی ترتیب نہیں دی۔ کیا یہاں کسی کو علم نہیں ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کو افراد کے لاک ڈاؤن کے لیے نہیں، بلکہ ممالک کے لاک ڈاؤن کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اگر اسی طرح کے سرکاری تصدیقی سرٹیفکٹ جاری کیے جاتے رہے تو اندیشے ہیں کہ پاکستانی برآمدات پر بھی پابندیاں عاید ہونا شروع ہو جائیں گی جس کے نتیجے میں ملک کی رہی سہی معیشت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔
کورونا وائرس کا خوف پھیلا کر اب اس کی روک تھام کے نام پر اربوں روپے کے اخراجات شروع ہوجائیں گے اور اس گنگا میں سرکاری افسران کے ساتھ وزراء اور تاجر برادری بھی خوب مال بٹوریں گے۔ کورونا وائرس کے معاملے کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں انتظام و انصرام نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر ملک میں خدانخواستہ کوئی بڑی قدرتی آفت آ گئی تو پھر حکومت کیا کرے گی۔ پا کستان میں کرونا وائرس موثر اقدامات کا متقاضی ہے، مگر یہاں تو کرونا وائرس پر تجارت کا بازار گرم کیا جارہا ہے، رشوت خوری کی صورت حال یہ ہے کہ پاکستانی ائرپورٹ پر متعین افسران ملک میں آنے والے پاکستانی مسافروں سے کورونا وائرس کی تشخص کے نام پر رشوت طلب کر رہے ہیں، کورونا وائرس کے دو مریضوں کا چیکنگ کے باوجود ملک میں داخل ہونا، ایسی ہی انتظامی کوتاہیوں کا شاخسانہ ہے جن کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔


